توفیق عمر ندوی
۔۲۰۲۳کاسورج طلوع ہوتے ہی ہماری زندگی سے ایک سال اورکم ہوگیا۔قدرت کانظام یہی ہے جوآیاہے اسے جاناہے چاہے وہ انسان ہویاوقت۔اوریہ بھی حقیقت ہے کہ جس طرح وقت اپنی رفتارسے گزرتاچلاجارہاہے ،اسی وقت کے ساتھ ساتھ انسان کی زندگی سے اس کادن اورسال بھی کم ہوتاجارہاہے،لیکن افسوس!کہ بجائے اس کے کہ انسان اس وقت کے گزرنے پراپنے اعمال کامحاسبہ کرنے کےمستی میں ڈوب جاتاہے۔
تمام مذاہب اور قوموں میں مختلف طرح کے تہوار اور خوشیاں منانے کے طریقے ہوا کرتے ہیں۔ان میں سے ہر ایک کا کوئی نہ کوئی پس منظر اور پیغام ہوتا ہے، جن سے نیکیوں کو ترغیب دی جاتی ہے اور برائیوں کو ختم کرنے کی دعوت دی جاتی ہے۔یہ الگ بات ہے کہ لوگوں میں بگاڑ آنے کی وجہ سے ان میں ایسی بدعات و خرافات شامل کر دی جاتی ہیں کہ ان کا اصل مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔ چنانچہ دنیا جیسے جیسے ’مہذب‘ ہوتی گئی انسانوں نے ’کلچر اور آرٹ‘ کے نام پر نت نئے جشن اور تیوہار وضع کیے ۔ان میں سے ایک’ نئے سال کا جشن‘ بھی ہے۔بدقسمتی سے ہم مسلمانوں نے بھی غیروں کی نقالی میں اپنی اقدار وروایات کو کم تر اور حقیر سمجھ کر یہ جشن منانا شروع کر دیا ہے،جب کہ یہ عیسائیوں کا ترتیب دیا ہوا نظامِ تاریخ ہے ۔
مسلمانوں کا اپنا قمری اسلامی نظامِ تاریخ خود موجود ہے جو نبی کریمؐ کی ہجرت سے مربوط ہے۔اس کا آغاز محرم الحرام سے ہوتا ہے ،جس کا ہم میں سے اکثریت کو علم ہی نہیں ہوپاتا۔ظاہر ہے کہ جشن کی اس رسم کو نہ تو ہمارے نبی کریم ؐ نے اورنہ ہی صحابہ کرام، خلفائے راشدین ،اموی، عباسی حکمرانوں نے انجام دیا۔جب کہ اس وقت تک اسلام ایران،عراق،مصر،شام اور مشرقِ وسطیٰ کے اہم ممالک تک پھیل چکا تھا۔
عیسائیوں میں قدیم زمانے سے ہی نئے سال پر جشن منانے کی روایت چلی آرہی ہے۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کے یہاں٢۵/دسمبر کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی خوشی میں ’کرسمس ڈے‘ منایا جاتا ہے ۔جس کی وجہ سے پوری دنیا میں ایک جشن کی کیفیت رہتی ہے اور یہ کیفیت نئے سال کی آمد تک برقرار رہتی ہے۔
یہود نصاریٰ اور دوسری قومیں مختلف طرح کے ’ڈے اور جشن‘ منایا کرتی ہیں جیسے مدر ڈے، فادر ڈے،ویلینٹائن ڈے، چلڈرن ڈے وغیرہ وغیرہ۔کیوں کہ ان کے یہاں رشتوں میں دکھاوا ہوتا ہے ۔ ماں باپ کو الگ رکھا جاتا ہے، اولاد کو بالغ ہوتے ہی گھر سے نکال دیا جاتا ہے اور کوئی خاندانی نظام نہیں ہوتا ۔ اس لیے انہوں نے ان سب کے لیے الگ الگ دن متعین کر رکھا ہے مگر ہمارے یہاں تو ایسا نہیں ہے۔ اسلام نے سب کے حقوق مقرر کر دیئے ہیں اور پورا ایک خاندانی نظام موجود ہے اس لیے ہمیں ان دکھاوں کی ضرورت نہیں اور نہ ہی مختلف طرح کے ڈے اور جشن منانے کی ضرورت ہے۔ البتہ نیا سال ہم مسلمانوں کو دو باتوں کی طرف متوجہ کرتا ہے:
نیاسال ہمیں دینی اور دنیوی دونوں میدانوں میں اپنا محاسبہ کرنے کا موقع دیتا ہے کہ ہماری زندگی کا جو ایک سال کم ہو گیا اس میں ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا؟ہمیں عبادات،معاملات،اعمال،حلال و حرام، حقوق اللہ اورحقوق العباد کی ادائیگی کے میدان میں اپنی زندگی کی ویڈیو کو’ریوائس ‘کرکے دیکھنا چاہیے کہ ہم سے کہاں کہاں غلطیاں ہوئیں،کیوں کہ انسان دوسروں کی نظر سے تو اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کو تو چھپا سکتا ہے، لیکن خود کی نظر سے نہیں بچ سکتا۔اپنی خود احتسابی اور جائزے کے بعد اس کی روشنی میں ہمیں منصوبہ طے کرنا ہوگا کہ کیا ہماری کمزوریاں رہی ہیں اور ان کو کس طرح سے دور کیا جا ئے ؟دور نہ سہی تو کیسے کم کیا جاسکتا ہے؟
انسان خطا کا پتلا ہے ، اس سے غلطیاں تو ہوں گی ہی لیکن کسی غلطی کا مرتکب ہونا زیادہ بری بات نہیں ہے۔بری بات یہ ہے کہ اس سے سبق نہ حاصل کیا جائے اور اسی کا ارتکاب کیا جاتا رہے اوریہ منصوبہ بندی دینی اور دنیاوی دونوں معاملات میں ہوں۔جبکہ یہ بھی طے ہے کہ اس دنیا کے اعمال ہی پر ہماری کام یابی اور ناکامی مشروط ہے ۔
وقت جوگزرگیاوہ ہمیں بہت کچھ سکھاکرگیا،وقت جس کاہم نے صحیح استعمال کرلیاوہ توہمارے کام آگیااورہم اس وقت کواستعمال کرنے میں کامیاب ہوگئے،لیکن جووقت ہمارے ہاتھوں سے خالی چلاگیااورہم نے اس وقت میں کچھ حاصل نہیں کیاوہ ہمیں بہت کچھ سکھاکرچلاگیااورمستقبل کے لیے ایک سبق دے گیا۔ابھی ہم جس وقت میں کھڑے ہیں یہ ہمارے لیے اپنے گذرے ہوئے لمحات کی روشنی میں مستقبل کالائحۂ عمل طے کرنے کاوقت ہے۔ہمیں اپنے گذرے ہوئے اوقات کوسامنے رکھ کراپنی زندگی کامحاسبہ کرنا چاہیے، اور پھراس کی روشنی میں مستقبل کالائحۂ عمل طے کرناچاہیے۔ہمیں ماضی کااحتساب کرتے ہوئے آئندہ کاپروگرام طے کرناہوگا،یہ محاسبہ ہمیں ہرپہلوسے کرناہوگا،ہمیں اپنے دنیاوی امورکے بارے میں بھی محاسبہ کرناچاہیے کہ اگرہم تاجرہیں توہم نے ان سالوں میں کیاکھویاکیاپایا؟اگرہم نوکرپیشہ ہیں توہم نے اپنی نوکری میں کوئی ترقی کی یا نہیں؟ اگر ہمیں ان میں ناکامی کامنہ دیکھناپڑاتواس کے کیااسباب ہیں؟ان اسباب پرغوروفکرکرنے کے بعدہم اپناپروگرام تیارکریں کہ آئندہ ان پہلوؤں سے بچ کررہناہوگاجس کی وجہ سے ہم ناکام ہوئے۔انسان کا کسی چیز میں ناکام ہونا برانہیں ہے،بر ی بات یہ ہے کہ انسان بے حسی میں مبتلا ہوجائے۔ وہ ناکام ہو اور اپنی ناکامی کے اسباب پر غور نہ کرے، اس کے قدم پیچھے ہٹیں اور فکر مندی کی کوئی چنگاری اس کے دل ودماغ میں سلگنے نہ پائے۔ وہ ٹھوکر کھائے ، لیکن ٹھوکر اس کے لیے مہمیز نہ بنے ۔جو شخص اپنے نقصان کا جائزہ لیتا ہے ، اپنی کتاب زندگی پر نظرڈالتے ہوئے اپنی کمیوں اورکوتاہیوں کو محسوس کرتا ہے ، وہی گرکر اُٹھتا اور اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہوتا ہے ۔ جس میں اپنے احتساب اور اپنی کمزوریوں کے اعتراف کی صلاحیت ہی نہ ہو وہ کبھی اپنی منزل کو نہیں پاسکتا ۔
جس طرح دنیاوی امورمیں محاسبہ ـضروری ہے اس سے کہیں زیادہ ضروری ہے کہ انسان اپنے دینی امورکے بارے میں محاسبہ کرے۔انسان یہ غورکرے کہ اس کے دین واخلاق،اعمال وکردارمیں کہیں کوئی کمی تونہیں آئی ہے،عبادات میں کوئی کوتاہی تونہیں رہ گئی،اپنے معاملات پرغورکرے کہ حلال وحرام اورمستحبات ومکروہات کے جواحکام شریعت نے دیے ہیں ،ان سب میں کہیں کوئی غفلت یالاپرواہی تونہیں برت رہاہے کہ اپنے کھانے اورکمانے میں حلال وحرام کی تمیزنہ کرپارہو،اپنے والدین اورقریبی رشتہ داروں کے حقوق میں کوئی کمی تونہیں کررہاہے،اپنی اولاداوربیوی کے جوفرائض وحقوق ہیں وہ سب برابرسے اداکررہاہے یانہیں؟اگرکہیں کوئی کمی یاکوتاہی ملے تواس کے اسباب پرغوروفکرکرتے ہوئے اس کمی کودورکرنے کی کوشش کرے۔اللہ تعالی عمل کی توفیق عطاء فرماے۔آمین۔
[email protected]