جموں //بارڈر سیکورٹی فورس نے واضح کیا ہے کہ بین الاقوامی سرحد پر نہ تو کوئی ٹنل دریافت ہوا ہے اور نہ ہی کسی کمین گاہ کا پتہ چل سکا ہے ۔ ایک سینئر بی ایس ایف افسر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ سرحد کے قریب باریک بینی سے تلاشی کا کام شبہات کی بنا پر ہاتھ میں لیا گیا تھاجب کہ سرحد پر ماموربی ایس ایف اہلکار گشت کے دوران ٹنل ہونے کے امکانات کو ہمیشہ مدِ نظر رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ابتداء میں ایسا لگا تھا کہ کچھ درانداز سرحد عبور کر کے ہندوستانی علاقہ میں گھسنے میں کامیاب ہو گئے ہیں ، ماضی کے واقعات کے تناظر میں ہم نے کوئی بھی خطرہ مول نہیں لیا اور خصوصی تلاشی مہم چلائی اور تمام تر تحقیقات کے بعد ہم اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ وہ 5افراد یا تو عام دیہاتی تھے یا زیادہ سے زیادہ اسمگلر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر چہ ابھی تک دراندازی کے بارے میں کوئی پختہ ثبوت نہیں ملا ہے تاہم کوئی بھی امکان رد نہیں کیا جا سکتا اور بی ایس ایف مستعدی سے اپنا کام کر رہی ہے ۔قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل بی ایس ایف نے سرحدی ٹنل کے ذریعہ دراندازی کی بات کہی تھی یہاں تک کہ سرحدی فورس کے ڈائریکٹر جنرل کے کے شرما نے بھی زیر زمین سرنگ سے 5ملی ٹینٹوں کے گھس آنے کا خدشہ ظاہر کیا تھا جس کے بعد پورے علاقہ میں سراسیمگی پھیل گئی تھی۔