منشور بانہالی
دین اسلام میں قرآن حکیم اور احادیثِ مبارکہ کے بعد حمد و مناجات، نعت رسالت مآب اور مناقب اولیائے کرام کو متبرک اور بابرکت سمجھا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ حمد کے معنی اللہ تعالیٰ کی تعریف و ثنا ہے اور مناجات کے لیے دربارِ الٰہی میں نجات طلبی کے ہیں۔ نعت کے معنی آقائے دوجہاں پیغمبر اسلام علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حیات بابرکت، آپ کے اُسوئہ حسنہ، نزول قرآن پاک اور عالم انسانیت پر آپﷺ کے احسان و اکرام کا ذکر کرنا ہے۔ دُنیا کی اہم زبانوں میں خاص کر عربی اور فارسی زبان میں، بلند پایہ کے عظیم نعت و شعراء پیدا ہوئے ہیں اور یہ زبانیں نعوت کی نعمتوں سے مالا مال ہیں۔ کشمیری زبان بھی نعوت کی اس نعت سے سرفراز ہے اور اس زبان میں بھی سرکردہ نعت گو شعراء پیدا ہوئے ہیں۔
پیر سعد الدین سعدی بخاری بھی معتبر نعت گو شعراء میں شامل ہیں۔ حال ہی میں ’’نُورِ نوران‘‘ کے عنوان سے ان کا ایک دل پذیر اور روح پرور مجموعہ حمد و نعت اشاعر پذیر ہوا ہے جو آپ نے بزرگانِ دین اوراپنے والدین کے نام سے منسوب کرکے بارگاہِ الٰہی میں اور دربار نبویﷺ میں مغفرت و شفاعت کی خواستگاری کی ہے۔ اس مجموعہ حمد و نعت کے آغاز میں مصنف نے ’’اپنی بات‘‘ کے عنوان سے اپنے ادبی سفر اور اس کتاب کے حوالے سے کچھ تعارفی معروضات رقم فرمائے ہیں۔ آپ کے مطابق آپ نے ۱۹۶۳ء میں جب آپ ساتویں جماعت میں زیرِ تعلیم تھے اور حضرت بل میں موئے شریف مقدس کا واقعہ پیش آیا تو آپ نے اس واقعہ سے متاثر ہوکر قلم آزمائی کی شروع کیں اور عوام کی حوصلہ افزائی پاکر اپنا ادبی سفر جاری رکھا۔ ۱۹۶۹ء میں اپنے اُستاد منظور ہاشمی کی رفاقت میسر ہوئی اور آپ کا ادبی سفر آگے بڑھتاگیا۔ ۱۹۷۷ء میں ’’سراب‘‘ کے عنوان سے آپ کا پہلا شعری مجموعہ منظر عام پر آیا اور اس کے علاوہ بھی دو کتب شائع کیں۔ لیکن ۲۰۱۲ء میں آپ ایک سڑک حادثے کے شکار ہوئے اور کافی عرصہ زیر علاج رہ کر بڑی مشکل سے صحت یاب ہوگئے اور اس مجموعہ نعت کو منصہ شہود پر لانے کی سعادت حاصل کی۔ اس کتاب پر محمد یوسف ٹینگ اور پروفیسر محمد زماں آزردہ کے یکے بعد دیگرے تاثرات قلمبند ہیں۔ محمد یوسف ٹینگ ’’حوض کوثر کا ایک بقعہ‘‘ کے عنوان سے رقمطراز ہیں کہ وادیٔ کشمیر کی یہ خوش بختی ہے کہ یہاں پر جو ادب کے چشمے پھوٹ پڑے اُن کا آغاز نعت گوئی کے زمزم سے ہی شروع ہوا جس کا آغاز علمدار کشمیر حضرت شیخ نور الدین نورانیؒ کے کلام سے ہوا ہے اور آپ کا یہ دریائے لطافت پوری وادی کو پاکیزگی عطا کرتا ہے۔ جن کے بعد یہاں سرکردہ نعت گو شعراء کا ظہور ہوا۔ آپ سرزمین کریری کشمیر کو ایران کے شہر شیراز سے تعبیر کرتے ہیں جہاں حضرت ثناء الہ کریری اور امیر شاہ کریری جیسے سربرآوردہ شعراء پیدا ہوئے۔ فارسی زبان کے نابغہ شاعر حضرت سعدی شیرازی کی سرزمین سے ہی متعلق تھے۔ آپ کے بقول اتفاق سے کتاب ہذا ’’نورِ نوران‘‘ کے شاعر بھی سعد الدین سعدی کے نام سے معنون میں جو مختلف آزمائشوں کے باوجود بھی اپنی پاک نفسی اور حسنِ کردار کی وجہ سے آگے بڑھتے رہے۔ علم و ادب بخاری صاحب کا خاندانی ورثہ ہے اور آپ حُبِ رسولﷺ سے سرشار ہیں۔ جن کے کلام میں کہیں کہیں عشقِ رسولﷺ کے عطر بیز اشعار دل کو مسحور کئے جاتے ہیں۔ اور نعتیہ ادب کے حوض کوثر میں آپ کا یہ مجموعہ شعر ایک بقعہ نور کے اضافہ کے مترادف ہے۔ اس کے بعد پروفیسر محمد زمان آزردہ کا ’’نورِ نوران ایک شکرانہ‘‘ کے عنوان سے ایک تمہیدیہ مرقوم ہے جس میں آپ نے موصوف کے کلام کی خاص کر آپ نے جو حمد و نعت بچوں کے لیے تحریر کئے ہیں اُن کی سراہنا کی ہے۔
دو سو پچاس صفحات کی ضخامت لیے ہوئے ’’نورِ نوران‘‘ کا یہ مجموعہ شعر قریباً چار حصوں میں منقسم ہے جس میں پہلا حصہ حمد و مناجات کے حوالے سے ۹ منظومات پر مشتمل ہے جن میں توحید الٰہی کا ذکر اور مناجات شریف ہیں۔ یہ سارا کلام عام فہم پُرتاثیر اور عقیدت و انکساری کا مظہر ہے جس میں بچوں کے لیے بھی مناجات لکھی ہیں۔ کتاب کے دوسرے حصے میں ۸۳ کے قریب ہدیہ نعت نبی جن میں آقائے دو جہاں پیغمبر اسلامﷺ کے تئیں شاعر کے بے لوث عقیدت و احترام کا اظہار پایا جاتا ہے۔ اس میں آنجنابؐ کے ولادت مبارکہ آپ کے اسوہ حسنہ معجزات اور عالم اسلام پر آپ کے احسانات و اکرام کے حوالے سے درود و سلام اور نعت موزون کئے گئے ہیں جن میں گہری عقیدت اور احترام پایا جاتا ہے۔ نعت کی زبان عالمانہ اور جذبہ عشق سے سرشار ہے۔ مثلاً:
عرب و عجمک فصیح طوطہ کلے ہوشہ ڈلے!
سعدیا چان چھ کیاہ باتھ بہ کیاہ نعت لیکھس
ترجمہ:عرب اور عجم کے فصیح زبان شعراء نعت لکھتے وقت آنجنابﷺ کی عظمت کو دیکھ کر گنگ ہوکر رہ جاتے ہیں۔ اے سعدی تمہاری تو اوقات ہی نہیں تم کیا نعت لکھو گے۔
مرسلن سرتاج نبین ہُند امام
تارکن منز باگ یِتھ کن ماہتاب
ترجمہ:(پیغمبر رسالت مآب انبیائے کرام کے سرتاج ہیں اور چاند کی مانند ستاروں کے درمیان جلوہ فگن ہیں)۔
کتاب کے تیسرے حصے میں نعتیہ رباعیات ہیں جن میں بیشتر عربی اور فارسی شعراء کے نعت کے عنوانات کے تحت لکھے گئے ہیں اور کہیں کہیں عربی کی مشہور رباعیات کا بھی کشمیری ترجمہ ہے۔ اس کے علاوہ ماہِ رمضان کے استقبال اور الوداع کے حوالے سے منظومات ہیں۔
کتاب کے آخری حصے میں کچھ خلفائے راشدین اور داعیان اسلام مثلاً حضرت علیؓ اور حضرت شاہ ہمدانؒ کے تئیں والہانہ مناقب شریف موزوں کئے گئے ہیں۔ کتاب کے آخر میں شاعر کا مختصر تعارف اور آپ کی دیگر مطبوعات کا ذکر ہے۔ مجموعی طور ’’نورِ نوران‘‘ ہمارے کشمیری نعتیہ ادب کا ایک دل پذیر اور روح پرور اضافہ ہے جس کے لیے مصنف قابلِ صد مبارک ہے۔