مشتاق الاسلام
پلوامہ//پلوامہ کے مضافاتی گائوںمنگہامہ میں سپورٹس گراؤنڈ پر سست رفتاری سے جاری کام نے مقامی نوجوانوں کو مایوس کردیا ہے۔اس دوران لوگوں نے الزام عائد کیا کہ سپورٹس گراؤنڈ پر وقف 13 کنال سرکاری اراضی سے ایک حصہ کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے جس پر علاقے کے اثرورسوخ رکھنے والوں نے قبضہ جماکر رکھا ہے۔مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ منگہامہ پلوامہ میں سپورٹس گراؤنڈ کو جاذب نظر بنانے کیلئے سرکاری اراضی کے پورے 13 کنالوں کی پہلے دیوار بندی کی جائے اور پھر اس پر جاری کام میں تیزی لائی جائے۔مقامی لوگوں نے کہا کہ یہ امر قابل افسوس ہے کہ سپورٹس گراؤنڈ پر پہلے دیوار بندی کے بجائے فینسنگ کا کام شروع کیا گیا۔انہوں نے یہ بات زور دیکر کہی کہ سپورٹس گراؤنڈ پر پہلے 13 کنال سرکاری اراضی پر دیوار بندی کو مکمل کیا جانا چاہئے تاکہ لوگوں کے شکوک وشبہات دور ہوسکیں۔قابل ذکر ہے کہ قصبہ پلوامہ سے 5 کلو میٹر دور علاقہ منگہامہ میں انتظامیہ نے ایک خوبصورت سپورٹس گراؤنڈ تعمیر کرنے کو حتمی شکل دیکر اس پر ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کردیا تھا تاہم مقامی لوگوں کے مطابق سپورٹس گراؤنڈ پر سست رفتاری سے کام جاری ہے اور انتظامیہ سپورٹس گراؤنڈ پر جاری کام پر اپنی کوئی توجہ مبذول کرانے میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کررہی ہے۔لوگوں کا مزید کہنا تھا کہ سپورٹس گراؤنڈ پر کام جس ٹھیکیدار کو سونپ دیا گیا وہ ایک مقامی باشندہ ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ سپورٹس گراؤنڈ پر جتنی زمین وقف کی گئی ہے اس کو گراؤنڈ کے استعمال میں لایا جائے۔انہوں نے مقامی سپورٹس گراؤنڈ پر جاری کام میں سرعت لانے کا مطالبہ کرتے ہوئے ضلع ترقیاتی کمشنر سے مطالبہ کیا کہ وہ اس حوالے سے اپنے ماتحت عملے کو متحرک کردیں۔