مسابقت کی وجہ سے طالب علموں میں بڑھتے ہوئے ذہنی دبائواور خودکشیوں پر ماہرین متفکر
بلال فرقانی
سرینگر//جموں و کشمیر میں حالیہ 10ویں اور 12ویں جماعت کے امتحانات میں کم نمبرات یا ناکامی کے بعد طلاب پر بڑھتے ہوئے ذہنی دباؤ سے خودکشی کا نیارجحان سنگین سماجی مسئلہ بنتا جا رہا ہے، جس نے والدین، تعلیمی اداروں اور ماہرین کو شش و پنج میں مبتلا کردیا ہے۔ ماہرین تعلیم و نفسیات کا کہنا ہے کہ بچوں کو صرف نمبروں اور فیصد کے پیمانے پر جانچنا انہیں شدید ذہنی دباؤ کی طرف دھکیل رہا ہے، جو بعض اوقات انتہائی افسوسناک نتائج کا سبب بنتا ہے حالانکہ اب دسویں یا بارہویں میں پوزیشنیں حاصل کرنا بھی کوئی معنی نہیں رکھتا۔جموں کشمیر بورڈ کی جانب سے 10ویں اور12ویں جماعت کے نتائج کے اعلان کے بعد مبینہ طور پر دو طلاب شاہپور کوٹرنکا راجوری کی16سالہ طالبہ اورپل ڈوڈہ میں نوجوان نے دل برداشتہ ہوکر انتہائی اقدام اٹھایا۔جموں کشمیر میں یہ واقعات نئے نہیں بلکہ گزشتہ برسوں میں بھی ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں۔
نمبرات کی اہمیت
ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ کسی امتحان کی ناکامی طلاب علم کی نااہلی کی کوئی سند نہیں بلکہ زندگی میں امتحانات آتے رہتے ہیں ۔ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ جب سے پیشہ وارانہ کورسز میں داخلے کیلئے امتحانات منعقد کرنیکا فیصلہ کیا گیا تب سے دسویں یا بارہویں امتحانات میں نمبرات حاصل کی دوڑ تقریباً ختم ہوگئی ہے کیونکہ اب پوزیشنیں حاصل کرنا کوئی معنی نہیں رکھتی۔معروف ماہر سماجیات وکشمیر یونیورسٹی میں شعبہ سوشیالوجی کے سابق سربراہ پروفیسر پیرزادہ محمد امین نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے نے تعلیم کے اصل مقصد کو پسِ پشت ڈال کر صرف نمبروں کو کامیابی کا معیار بنا لیا ہے، جو نہ صرف غلط ہے بلکہ طلبہ کی ذہنی صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ بھی ہے۔انہوں نے کہا’’بچوں کو یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ اگر وہ اچھے نمبر حاصل نہ کر سکے تو وہ ناکام ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ نمبروں کی بنیاد پر بچے کی صلاحیت کا تعین کرنا ایک بڑی ناانصافی ہے۔ یہی سوچ طلبہ میں شدید ذہنی دباؤ پیدا کرتی ہے اور بعض کمزور ذہن اس دباؤ کو برداشت نہ کر پانے کے باعث انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔‘‘پروفیسر پیرزادہ نے واضح کیا کہ اصل تعلیم کا مقصد صرف امتحان پاس کرنا نہیں بلکہ شخصیت سازی، اخلاقی تربیت، خود اعتمادی اور زندگی کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔ لہٰذا والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو ناکامی سے خوفزدہ کرنے کے بجائے انہیں ناکامی کوبھی زندگی کا حصہ بنانے کی ترغیب دیں۔
مقابلہ جاتی تعلیمی نظام
انہوں نے مقابلہ جاتی نظام تعلیم کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ضرورت سے زیادہ مسابقت بچوں میں احساسِ کمتری، اضطراب اور ذہنی الجھنوں کو جنم دیتی ہے۔انہوں نے کہا’’ہر بچے کو ایک ہی سانچے میں ڈھالنے کی کوشش غلط ہے۔ ہر طالب علم کی صلاحیت مختلف ہوتی ہے، جسے سمجھنا والدین اور اساتذہ دونوں کی ذمہ داری ہے،۔‘‘پروفیسر امین نے مزید کہا کہ اگر جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن اور دیگر مقابلہ جاتی امتحانات کے نتائج کا تجزیہ کیا جائے تو واضح ہو جائے گا کہ کامیاب امیدواروں میں اکثریت ایسی نہیں ہوتی جنہوں نے دسویں یا بارہویں میں 90فیصد سے زائد نمبرات حاصل کئے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ زندگی میں کامیابی کا دارومدار صرف ابتدائی امتحانی نمبروں پر نہیں ہوتا۔
کونسلنگ
کئی ماہرین نے تعلیمی اداروں میں مستقل ذہنی صحت کونسلرز کی تقرری، طلبہ کیلئے رہنمائی پروگرام اور والدین کی تربیت پر زور دیا ہے۔سینئر بیوروکریٹ و آئی اے ایس افسر ڈاکٹر شاہد اقبال چودھری نے دسویں اور بارہویں جماعت کے نتائج کے بعد طلبہ کی جانب سے خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ’’گزشتہ چند دنوں میں جموں و کشمیر کے مختلف اضلاع سے طلبہ کی خودکشی کی خبریں ہمارے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں۔انہوں نے کہا کہ معاشرے میں نمبروں کی دوڑ اور بچوں کا موازانہ کرنا ایک خطرناک رجحان بنتا جا رہا ہے۔ہر سال سوشل میڈیا پر 85یا 90فیصد نمبروں کو ’کم‘ قرار دے کر بچوں کو احساسِ کمتری میں مبتلا کیا جاتا ہے، جو نہ صرف غیر صحت مند بلکہ مہلک بھی ہے۔ڈاکٹر شاہد اقبال نے مثال دیتے ہوئے ایکس پر لکھا’’میں نے خود بارہویں جماعت میں صرف 55فیصد نمبر حاصل کیے تھے اور پھر سیول سروسز امتحان میں چند سال بعد ہی 51ویں پوزیشن حاصل کی،زندگی کا دار و مدار نمبروں پر نہیں بلکہ سیکھنے کے جذبے، استقامت اور مقصد پر ہوتا ہے‘‘۔
ذہنی دبائو
ماہرین نفسیات کے مطابق والدین کی حد سے زیادہ توقعات، سماجی دباؤ اور تعلیمی اداروں میں مؤثر کونسلنگ سسٹم کا فقدان اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔معروف ماہرِ نفسیات ڈاکٹر آصف رشید نے کہا کہ’’امتحانی نتائج کی بنیاد پر بچوں پر غیر ضروری دباؤ ڈالنا اْن کی ذہنی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ جب بچوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ ان کی قدر و قیمت صرف نمبروں سے جڑی ہے تو وہ شدید ذہنی دباؤ، خوف اور احساسِ ناکامی کا شکار ہو جاتے ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ’’ناکامی زندگی کا فطری حصہ ہے، لیکن ہمارے معاشرے میں اسے بدنامی بنا دیا گیا ہے، جو نوجوان ذہنوں کو ٹوٹنے پر مجبور کرتا ہے۔ والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کو نتائج سے زیادہ کوشش اور سیکھنے کے عمل کی اہمیت سمجھائیں۔ڈاکٹر آصف رشید کے مطابق’’اگر کسی بچے میں مایوسی، خاموشی، خود کو الگ تھلگ رکھنے یا ناامیدی کی علامات ظاہر ہوں تو اسے نظر انداز نہ کیا جائے، بلکہ فوری طور پر بات چیت اور رہنمائی کے ذریعے مدد فراہم کی جائے۔‘‘انہوں نے مزید کہا’’ہر بچہ منفرد صلاحیتوں کا حامل ہوتا ہے۔ نمبر زندگی کا پیمانہ نہیں، بلکہ ذہنی سکون، اعتماد اور حوصلہ اصل کامیابی ہے۔‘‘