ڈاکٹر ریاض توحیدی
اُس کے سر پر دولت کمانے کا بھوت سوار تھا۔وہ سوتے جاگتے صرف پیسہ کمانے کے خواب دیکھتا رہتا۔اچھا خاصا کاروبارکرنے کے باوجود اس کا پیٹ نہیں بھرجاتا‘ حالانکہ وہ شہر کے چند امیر تاجروں میں بھی گناجاتا تھا۔ اپنا شاپنگ کمپلیکس اور عالی شان کوٹھی ہونے کے علاوہ زمین جائیداد بھی کافی تھی لیکن اس کے باوجود پتہ نہیں اسے کیوں دولت کی اتنی بھوک لگی تھی کہ اس کے سامنے اچھے برے کام کے درمیان فرق کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا تھا۔بیوی ہمیشہ کہتی رہتی :
’’ ہمارے پاس سب کچھ ہے ‘ کیوں چوہوں کی طرح رات دن بھاگم بھاگ کرتے رہتے ہو۔۔۔۔؟‘‘
وہ بیوی کی باتیں سن کر مسکراتا اور کبھی کبھار تند لہجے میں کھری کھری سناتا:
’’ تم دنیا داری کیا جانو‘شہر میں کئی لوگ مجھ سے بڑے ہیں۔جب تک نہ میں بھی شہر کا بڑاآدمی بن جاؤں ‘تب تک مجھے چین نہیں آئے گا اور اس کے لئے پیسہ چاہیے پیسہ۔‘‘
’’لیکن اتنا پیسہ آئے گا کہاں سے۔۔۔؟‘‘ وہ ہمیشہ اسی غم میں گھُلتاجاتا۔اس غم نے اس کی نیندیں تک حرام کردی تھی اور دل کاسکون بھی چھین لیا تھا۔وہ جب بھی اپنی کار میں شہر کی پوش کالونی سے گزرتا تو محل نما مکانات دیکھ کر اس کے تن من میں آگ سی لگ جاتی اور وہ پچھلی سیٹ پر بیٹھے آنکھیں تک موندلیتا۔کبھی کبَھارر وہ ڈرائیور سے بِھڑجاتا اور ڈرائیور خاموش ہوکر سوچتا کہ اسے اچانک ہوکیاگیا ہے۔لیکن ڈرائیور کو کئی بار محسوس ہواتھا کہ جب بھی وہ پوش کالونی سے گزرجاتے ہیں تو خواجہ صاحب کی حالت بگڑ جاتی ہے۔
وہ اپنوں اور غیروں میں خواجہ صاحب کے نام سے مشہور تھا ۔ دکان پر بھی خواجہ شوروم کا بورڈ لگا ہوا تھا۔اس لئے خریدار بھی اسے خواجہ کے نام سے ہی جانتے تھے۔خواجہ جب رات کو گھر لوٹتا تو سب سے پہلے وہ تِجوری کھولتا۔ ہرے ہرے نوٹ اس میں سلیقے سے رکھتااور کافی دیر تک وہی بیٹھ جاتا جیسے تجوری کودیکھتے دیکھتے اس کی تھکن بھی غائب ہوجاتی اور بھوک بھی مٹ جاتی۔ بیوی کئی بار کھانا کھانے کے لئے پکارتی لیکن خواجہ صرف تجوری پر نظریں جمائے بیٹھارہتا۔اسے جیسے تجوری سے ہی محبت ہوگئی تھی۔
گھر میں ضروریات کی چیزیں تو موجود تھیں لیکن وہ خود سستے جوتے اور مَعمولی کپڑے پہنتا تھا۔ اس کی بیوی‘ بچی اور بیٹا کبھی کبھی طنزیہ انداز سے کہتے بھی کہ اچھے اچھے کپڑے پہناکرولیکن وہ ہمیشہ سنی ان سنی کرتارہتا۔
اس کی بچی پانچویں اور بیٹا میٹرک میں پڑھتا تھا۔ دونوں شہر کے ایک اچھے پرائیوٹ اسکول میں زیرتعلیم تھے اور باپ کے ساتھ ہی کار میں اسکول چلے جاتے۔ ڈرائیور بھی ساتھ ہوتا تھا جس کا گھر قریبی محلے میں تھا ۔ اس کا بیٹا بھی اسی گاڑی میں اسکول کے لئے سوار ہوجاتا۔ وہ ایک سرکاری اسکول میں پڑھتا تھا۔ ایک دو بار خواجہ نے ڈرائیور سے کہا بھی کہ اسے کسی پرائیوٹ اسکول میں کیوں نہیں پڑھاتے تو ڈرائیورنے اپنی قلیل آمدَنی کی وجہ بتائی پھر اس بارے میں کبھی بات نہیں ہوئی۔ تاہم روز ایک ہی گاڑی میں سفر کرتے کرتے دونوں بچوں میں دوستی ہوگئی تھی اور وہ دونوں اتوار کو ایک ساتھ کرکٹ بھی کھیلا کرتے تھے۔
ایک دفعہ خواجہ صاحب کسی کام کی وجہ سے اپنے ایک جانے پہچانے دکاندار کے پاس چلا گیا۔جس کا شمار شہر کے بڑے دولت مندوں میں ہوتا تھا۔ وہاں پر اس نے چند اور لوگ بھی دیکھے جو کاروبار کی باتیں کررہے تھے۔ خواجہ صاحب اگرچہ ان کی باتیں سن رہا تھا لیکن وہ کچھ خاص سمجھ نہیں پارہا تھا۔ وہ لوگ جب چلے گئے تو چائے کا دور چلا۔پھر بزنس کی باتیں ہوئیں ۔ لیکن خواجہ کے ذہن میں پہلے والے کاروبار کی باتیں گونج رہی تھیں۔ آخر کار اس نے پوچھ ہی لیا۔ دکاندار نے پہلے بات ٹالنے کی کوشش کی لیکن کافی اِصرار کرنے پر بتا ہی دیا۔ خواجہ صاحب وہاں سے چل دیا لیکن اس کے دماغ میں اب کچھ اور ہی پلان پک رہا تھا۔ آٹھ دس دنوں تک سوچتے سوچتے اس نے نیا کاروبار شروع کیا ۔رفتہ رفتہ وہ کاروبار کو پھیلاتا رہا ۔ اب اسے اطمینان ہورہا تھا کہ ایک دن وہ ضرور شہر کا بڑا آدمی کہلائے گا۔
شہر میں نشیلی ہواؤں کی یلغار زوروں پرتھی۔ والدین بچوں کی زندگی کے لئے فکر مند تھے۔ سرکاری سطح پر جگہ جگہ منشیات مخالف مہم’’Hate Drugs, Love Life‘‘ جاری تھی۔ سوشل اور الیکٹرانک میڈیا اور این جی اوز کی طرف سے اسکولوں اور دوسری عوامی جگہوں پر نشہ مخالف پروگرام چلائے جارہے تھے۔
دونوں لڑکے میڑک میں اچھے نمبرات لیکر پاس ہوئے۔ چونکہ یہ اب دوست بھی بن گئے تھے تو دونوں نے شہر کے ہی ایک ہائر اسکینڈری سکول میں داخلہ لے لیااور سائنس سٹریم لیکر ڈاکٹر بننے کاارادہ باندھا۔چند مہینوں تک دونوں مسلسل کلاسزلیتے رہے ۔تاہم ڈرائیور کے لڑکے کو محسوس ہوا کہ اس کا دوست کم ہی کلاس میں حاضر رہتا ہے۔ پوچھنے پر اس نے کبھی ٹیوشن تو کبھی کوئی اور بہانا بنایا۔
دو برس بیت گئے۔بارہویں جماعت کا رزلٹ مشتہر ہوا۔ ڈرائیور کا لڑکا اچھے نمبرات لیکر پاس ہوا ۔ اس کے گھر میں جشن کاماحول تھا۔ خواجہ صاحب دکان پر مصروف تھا۔ گھر سے کال کے ذریعے لڑکے کے فیل ہونے کا بتایا گیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہ وہ گھر بھی نہیں آیا ہے ۔ اُس کاموبائل بھی بند آرہاہے۔ خواجہ صاحب مایوس ہوگیا اور گھر کی طرف چل پڑا۔ گھر میں سبھی لوگ رورہے تھے۔ لڑکے کے کئی دوستوں اور رشتہ داروں کو کال کی گئی لیکن ہر جگہ سے کوئی پتہ نہیں چلا۔ اسی گھمبیر صورتحال کے دوران پو لیس کی کال آئی اور خوجہ صاحب پریشان ہوکر پولیس اسٹیشن چلا گیا۔ وہاں سے پولیس کے ساتھ شہر کے دریا کے پُل پر سبھی پہنچ گئے۔ کئی لوگ پُل پر افسوس کااظہار کررہے تھے۔ غوطہ خوروں نے لڑکے کی لاش دریا سے نکالی۔پولیس نے لاش کو اسپتال پہنچا دیا۔ اسپتال میں ضروری لوازمات مکمل ہونے کے بعد جب ایمبولنس میں لڑکے کی لاش کو گھر پہنچایا گیا تو وہاں پر کہرام مچ اٹھا۔ خواجہ صاحب جیسے اپنے حواس کھو بیٹھا۔ لڑکے کو دفن کرنے کے بعد وہ سیدھا تجوری کے پاس چلا گیا۔ اس کے اندر نفرت کے شعلے بھڑک رہے تھے۔ اسے محسوس ہوا کہ جیسے نشیلی ہوائیں تجوری سے نکل کر اس کے بیٹے پر حملہ آور ہوئی ہیں اور وہ ان سے بچنے کے لئے ہاتھ پاؤں مارہا ہے۔تھوڑی دیر کے بعدوہ تجوری پر تھوکتے ہوئے زار وقطار رونے لگا۔
���
وڈی پورہ ہندوارہ کشمیر
موبائل نمبر؛9906834877