حسیب اے درابو
وادی میں بڑے پیمانے پر یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ’’نشہ مُکت ابھیان‘‘ جیسی انقلابی مہم کو صرف منشیات یا نشہ آور اشیا تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے شراب نوشی تک بھی وسعت دی جائے۔ عوامی سطح پر اس بات کی مضبوط رائے پائی جاتی ہے کہ منشیات مخالف جارحانہ مہم ’’نشہ سے آزادی ‘‘ اور دوسری جانب خصوصاً 2018-19میں مرکزی انتظامیہ کے تحت شراب نوشی کے فروغ کےلئے سرکاری سطح پر کی گئی توسیع، ایک واضح تضاد کی عکاسی کرتی ہے۔
اگر کوئی شئے سماجی نقصان کا سبب بنتی ہے تو اس کے تدارک کےلئے ردِعمل بھی اسی نقصان کی بنیاد پر یکساں ہونا چاہئے۔ صرف اس وجہ سے کہ شراب نوشی قانونی طور جرم نہیں ہے، یہ کم نقصان دہ نہیں ہو جاتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگرچہ شراب نوشی قانوناً ممنوع یا قابلِ سزا نہیں، لیکن نشے کی حالت میں گاڑی چلانا جرم ہے۔ اسی طرح نشے میں ہونا بذاتِ خود جرم نہیں، مگر نشے کی حالت میں لڑائی جھگڑا کرنا جرم شمار ہوتا ہے۔
تاہم اس تضاد کی ایک تاریخی بنیاد بھی ہے۔ یہ کسی معاشرے کے اخلاقی اصولوں پر مبنی نہیں بلکہ اینگلو سیکسن قانونی روایت سے جڑا ہوا ہے۔ شراب کی تیاری، اس پر ٹیکس عائد کرنا اور اس کا استعمال صدیوں پر محیط انگریزی روایتی قوانین اور شاہی فرمانوں کے تحت محفوظ رہا ہے۔ یہی قانونی ڈھانچہ، جسے دیگر نوآبادیات کی طرح ہندوستان نے بھی اختیار کیا، اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ شراب پر پابندی عائد کرنا دراصل شخصی آزادی، تجارت اور حکومتی محصولات کے ایک قدیم اور بنیادی نظام کو ختم کرنے کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔
اس کے برعکس، مغربی قانون میں منشیات کے حق میں ایسی کوئی تاریخی قانونی روایت موجود نہیں، جس کی وجہ سے انہیں روایتی قانونی ڈھانچے کو متاثر کئے بغیر آسانی سے ممنوع قرار دیا جا سکتا ہے۔ مزید یہ کہ منشیات پر پابندی کو حکومتیں نگرانی، پولیسنگ اور قید و بند کے نظام کو وسعت دینے کے لئے بھی استعمال کرتی ہیں۔ اس سے معاشرے کے محروم اور کمزور طبقات پر ریاستی کنٹرول مزید مضبوط ہوتا ہے۔ موجودہ تناظر میں کشمیر کے نارکو۔ٹیرر نیٹ ورک میں بھی یہ ایک اہم عنصر کی حیثیت رکھتا ہے۔
اس تاریخی پس منظر کو دیکھتے ہوئے ’’منشیات اور شراب‘‘ کے تضاد کو حل کرنا آسان نہیں۔ حکومتی پالیسی سازوں کے نقطۂ نظر سے توجہ کا مرکز عوامی صحت کے نتائج اور فرد کی ذاتی آزادی ہونی چاہئے۔ یقیناً حکومت کی سیاسی قیادت کے پاس مذہبی یا اخلاقی بنیادوں پر اپنے ذاتی مؤقف ہو سکتے ہیں، لیکن وہ انفرادی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ عوامی پالیسی کا اصل مقصد نشے کی لت سے پیدا ہونے والے جسمانی، سماجی اور معاشی نقصانات کو کم سے کم کرنا ہونا چاہئے۔
مکمل پابندی یا کلی ممانعت کوئی مثالی حل نہیں ہے۔ یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ مکمل پابندیاں اکثر خطرناک کالا بازار ی کو جنم دیتی ہیں۔ مختلف ممالک کے تجربات سے حاصل ہونے والا تاریخی سبق یہ ہے کہ شراب پر پابندی اس کے استعمال کو مکمل طور پر نہیں روک پاتی۔ اس کے برعکس، اس سے زہریلی اور غیر قانونی شراب کی فروخت بڑھنے اور مجرمانہ گروہوں کو طاقت ملنے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔ اس نتیجے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، خاص طور پر کشمیر جیسے خطے میں ،جو نارکو۔ٹیرر نیٹ ورک کے بھنور میں پھنس سکتا ہے۔ یہ خطرہ شاید اس سے کہیں زیادہ سنگین ہو سکتا ہے جتنا فی الحال سمجھا جا رہا ہے۔
کشمیر کے تناظر میں تمام متعلقہ فریقوں، خواہ اقتدار میں موجود جماعت ہو یا اپوزیشن پارٹیاں، کو اس بات پر زور دینا چاہئے کہ نشے کی لت کو ایک طبی مسئلہ سمجھا جائے، نہ کہ اخلاقی کمزوری یا مجرمانہ عمل۔ اگر یہ نقطۂ نظر اختیار کیا جائے تو صرف جائیداد ضبط کرنے اور منشیات فروشوں کی گرفتاریوں کے بجائے زیادہ بحالی مراکز قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا سکے گا۔ یقیناً یہ بات خود واضح ہے کہ اگرحکومت واقعی نشے کے خلاف مؤثر جنگ لڑنا چاہتی ہے تو اسے ان بنیادی اسباب کا بھی تدارک کرنا ہوگا جو تیس برس پر محیط تنازعے سے پیدا ہونے والے ذہنی صدموں اور معاشی بدحالی میں پوشیدہ ہیں۔
کشمیر میں موجودہ طرزِ عمل اس کے برعکس دکھائی دیتا ہے، جہاں حکومت مبینہ منشیات کے عادی افراد اور منشیات فروشوں کے خلاف سخت گیر اور تعزیری اقدامات اختیار کر رہی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ایک ’’خلاف ورزی‘‘ یعنی کسی ضابطے کی پامالی کو ایک ’’جرم‘‘ یعنی تعزیری قانون کی خلاف ورزی کے طور پر سزا دی جا رہی ہے۔ حکومت کی سخت کارروائی اپنی جگہ قابلِ ستائش ہے، لیکن اسے محض سزا تک محدود نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ اس سے بحالی اور سماجی اصلاح کی ضرورت پس ِ پشت چلی جاتی ہے۔ اگر حکومت کا حقیقی مقصد اپنے شہریوں کو دوبارہ معاشرے کا فعال حصہ بنانا اور عوامی صحت کے اس بحران کا خاتمہ کرنا ہے، تو اسے خاندانوں کو بے گھر کرنے اور پہلے سے محروم طبقات کو مزید غیر قانونی معیشت کے اندھیروں میں دھکیلنے سے گریز کرنا ہوگا۔ ضبط شدہ اور سیل کی گئی رہائش گاہوں کو کمیونٹی کی نگرانی میں بحالی مراکز یا ہنر ساز ی کے تربیتی مراکز میں تبدیل کیا جانا چاہئے۔ اس طرح مبینہ جرم کی جگہ کو بحالی اور اصلاح کے مرکز میں بدل کر حکومت صرف انتقام نہیں بلکہ شفا اور بحالی کے عزم کا پیغام دے سکتی ہے۔
مزید برآں، ان مہمات کا جابرانہ انداز خطے میں نشہ آور اشیاء کے استعمال سے جڑی ثقافتی اور تاریخی نزاکتوں کو نظر انداز کرتا ہے۔ موجودہ ’’منشیات مخالف جنگ‘‘ کو اکثر اخلاقی پاکیزگی کے ایسے زاویے سے پیش کیا جاتا ہے جو کشمیر کی اپنی تاریخی حقیقتوں کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ صدیوں تک افیون، چرس اور بھنگ کو آج کے جدید مجرمانہ تصور کے تحت نہیں دیکھا جاتا تھا۔ البتہ یہ درست ہے کہ اُس دور میں آج کی مہلک منشیات جیسے ہیروئن، براؤن شوگر اور دیگر نشہ آور اشیاء موجود نہیں تھیں۔
’’تکیوں‘‘ کی روایت، یعنی وہ سماجی مقامات، جہاں بھنگ یا چرس کا استعمال کیا جاتا تھا، مقامی تہذیبی اور سماجی ڈھانچے کا ایک حصہ رہے ہیں۔ ڈوگرہ دورِ حکومت میں چرس ایک باقاعدہ ضابطے کے تحت تجارت کی جانے والی شئے تھی اورحکومتی برآمدی معیشت میں اس کا نمایاں حصہ تھا۔ ایسے میں ان اشیاء کو اچانک مکمل اخلاقی یا مذہبی عینک سے دیکھتے ہوئے مجرمانہ قرار دینا، خطے کی ایک طویل مقامی ثقافتی روایت کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔
ممکن ہے کہ اس روایت کی جڑیں اسلام سے بھی پہلے کی ہوں، کیونکہ ویدوں میں بھنگ کو ایک مقدس پودے کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ کشمیر میں اس حوالے سے پائی جانے والی ثقافتی برداشت کی بنیاد شیو بھگتی کے ساتھ گہری وابستگی میں پوشیدہ ہے۔ سادھو، خصوصاً امرناتھ یاترا کے دوران، شیو کی ترکِ دنیا اور ریاضت والی زندگی کی نقل کرتے ہیں۔ چند ہی ہفتوں میں شروع ہونے والی امرناتھ یاترا کے دوران جب ہزاروں سادھو وادی سے گزرتے ہیں تو یاترا کے راستوں پر بھنگ اور چرس کے استعمال کی بو اور مناظر عام دکھائی دیتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں حکومت ، جو عام دنوں میں کسی مقامی نوجوان کو گرفتار کر سکتی ہے، امرناتھ یاترا، کمبھ میلہ اور دیگر مذہبی مقامات پر سادھوؤں کے چلم استعمال کرنے کو عموماً نظر انداز کر دیتی ہے۔
آخرکار، جموں و کشمیر کی ڈرگ پالیسی پر ایک آزاد خیال اور عقلیت پسند تنقید یہی اجاگر کرتی ہے کہ جبر، نگہداشت اور بحالی کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ ’’ضبطی ماڈل‘‘ سے ’’بحالی ماڈل‘‘ کی جانب منتقلی کےلئے یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ نشے کی لت پیچیدہ سماجی اور معاشی صدمات کا نتیجہ ہوتی ہے۔ نشے کے عادی افراد نہ تو لازماً مجرم ہوتے ہیں اور نہ ہی سمگلر۔ جب تک حکومت اپنی تعزیری کارروائیوں اور عوامی صحت سے متعلق دعوؤں کے درمیان موجود تضادات کو دور نہیں کرتی، تب تک ’’نشہ مُکت‘‘ جیسی سماجی مداخلتی تحریک حقیقی سماجی بہبود کے بجائے محض حکومتی طاقت کے اظہار کی مشق بن کر رہ جائے گی۔
حاشیہ
میں نے 2016 میں وزیرِ خزانہ کی حیثیت سے اسمبلی کے ایوان میں شراب پر پابندی کی مخالفت انفرادی آزادی اور شخصی انتخاب کے حق کی بنیاد پر کی تھی۔ اُس وقت حکومتی آمدنی بنیادی مسئلہ نہیں تھی، اور نہ ہی اب ہونی چاہئے۔ پابندیاں اور ممانعتیں عموماً ایک اکثریتی ذہنیت کی عکاسی کرتی ہیں جو اجتماعی اخلاقیات اور سیاسی ایجنڈوں کو فوقیت دیتی ہے، خواہ معاملہ شراب کا ہو یا گائے کے گوشت کا۔
اس کے باوجود، نیشنل کانفرنس کے ایک انتہائی کم علم اور غیر شائستہ ترجمان کے برعکس، جو غیر خواہشمند علاقوں سے متعلق معلومات میں بھی بدنیتی تلاش کرتے ہیں، 2015سے 2018کے درمیان ایک بھی نئی شراب کی دکان نہیں کھولی گئی۔ البتہ 2018-19میں مرکزی انتظامیہ کے دوران ان میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اس کے اعداد و شمار عوامی سطح پر دستیاب ہیں۔
میں نے اُس وقت یہ تجویز بھی دی تھی کہ وادیٔ کشمیر میں علاقائی سطح پر شراب بندی ایک عملی پالیسی آپشن ہو سکتی ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس سے کالابازاری اور غیر قانونی شراب فروشی کو فروغ ملنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے، خاص طور پر جموں اور پنجاب جیسے زیادہ استعمال والے علاقوں کی قربت کے باعث۔
ایک دہائی بعد، شراب بندی کا مطالبہ زیادہ تر مسلم شناخت کے تناظر میں ابھر رہا ہے۔اس بڑی تبدیلی اور صورتحال کی سنگینی کو مدِنظر رکھتے ہوئے، اس مسئلے پر ازسرِ نو غور اور کسی تخلیقی حل کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
اختتامیہ
کبھی کبھار، خاص ایام میں، مثلاً خاندان میں کسی برسی کے موقع پر، یا جنگِ بدر جیسی کسی اسلامی یادگار تقریب، یا ربیع الثانی کی گیارہویں تاریخ کے ختم (دستگیر صاحبؒ کے عرس) کے موقع پر ہمارے گوگجی باغ والے گھر سے سرائے بالا میں مسجد کے ساتھ واقع ایک تکیہ میں کھانا بھیجا جاتا تھا۔ کوئی بہت پرتکلف انتظام نہیں ہوتا تھا، صرف چاول کے ساتھ روگن جوش یا کلیجی و اوجھڑی یا ژروَن یا پایے جیسے پکوان ، جو تقریباً دس بارہ تکیہ نشینوں یعنی ’’شودوں‘‘ کے لئے ہوتے تھے۔ اس کے ساتھ کچھ رقم بھی بھیجی جاتی تھی۔
تکیے تاریخی طور پر درویشوں اور فقیروں کی آرام گاہیں ہوا کرتے تھے، لیکن وقت کے ساتھ یہ چرس اور بھنگ کی ثقافت اور سماج کے حاشیائی طبقات سے وابستہ ہو گئے۔ تکیے 1970اور 1980کی دہائیوں تک موجود تھے۔ ایک اعتبار سے دیکھا جائے تو کشمیر میں افیون، چرس اور بھنگ کا ایک طرح سے سماجی قبولِ عام موجود تھا۔ انہیں نہ تو کسی وبا، طبی بیماری یا نشے کی لت کے طور پر دیکھا جاتا تھا اور نہ ہی مجرمانہ یا منحرف رویّے کے طور پر، بلکہ انہیں غیر روایتی اور غیر مطابقت رکھنے والے طرزِ زندگی کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔ بعد میں جدیدیت نے ان مقامات اور رویّوں پر ایک ’’اخلاقیات کی نگاہ‘‘ مسلط کی، اور یوں یہ تکیے رفتہ رفتہ متروک ہوتے چلے گئے۔