عظمیٰ نیوز سروس
جموں//جموں و کشمیر حکومت نے ترقیاتی منصوبوں میں معیار کی خلاف ورزی اور تاخیر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپناتے ہوئے کوٹرنکہ–خواص سڑک کی مستقل بحالی کے لیے 344.10 لاکھ روپے مختص کر دیے ہیں۔ یہ اعلان ڈپٹی چیف منسٹر سریندر چوہدری نے قانون ساز اسمبلی میں ایک سوال کے جواب میں کیا، جو ایم ایل اے جاوید اقبال چوہدری کی جانب سے اٹھایا گیا تھا۔ڈپٹی چیف منسٹر نے ایوان کو بتایا کہ گزشتہ سال آنے والے اچانک سیلاب (فلیش فلڈ) کے باعث کوٹرنکہ–خواص سڑک کو شدید نقصان پہنچا تھا، جس میں سڑک کی سطح کا کٹاؤ، حفاظتی دیواروں کی تباہی اور مختلف مقامات پر گہرے گڑھوں کی تشکیل شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑک کی مستقل بحالی کے لیے 3.44 کروڑ روپے کی منظوری دی جا چکی ہے اور تعمیراتی کام الاٹ ہونے کے بعد تیزی سے جاری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے تمام محکموں کو ہدایت دی ہے کہ ترقیاتی کاموں میں اعلیٰ معیار کو یقینی بنایا جائے اور کسی بھی قسم کی لاپرواہی یا ناقص میٹریل کے استعمال پر متعلقہ افراد کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ان کے مطابق، عوامی وسائل کا صحیح استعمال اور بروقت تکمیل حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ڈپٹی چیف منسٹر نے دیگر سڑک منصوبوں کی تفصیلات دیتے ہوئے کہا کہ موگلہ سے خواص بذریعہ پٹی نالہ سڑک کو پردھان منتری گرام سڑک یوجنا (PMGSY-III) کے تحت 1484 لاکھ روپے کی لاگت سے اپ گریڈ کیا گیا، جو سال 2024 میں مکمل ہو چکی ہے۔ اس وقت یہ سڑک دوسرے سال کی مینٹیننس مدت میں ہے اور اس پر پیچ ورک اور پری مکس کارپٹ بچھانے کا کام جاری ہے۔انہوں نے بتایا کہ خواص–گنڈھا سڑک کا باقی ماندہ تین کلومیٹر حصہ نومبر 2018 میں مکمل کیا گیا تھا، جبکہ 2023-24 میں اس پر تجدیدی پرت بھی بچھائی گئی۔ تاہم اگست 2025 میں شدید بارشوں کے باعث اس سڑک کے کچھ حصے دوبارہ متاثر ہوئے۔انہوں نے مزید کہا کہ مستقل بحالی کے تحت 2026-27 کے لیے موگلہ–خواص سڑک (پٹی نالہ) کے لیے 76.80 لاکھ روپے اور خواس–گنڈھا مرحلہ دوم کے لیے 22.40 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں، جن پر جلد کام شروع کیا جائے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ اس سڑک کو بارڈر روڈز آرگنائزیشن (BRO) کے حوالے کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے، کیونکہ اس کی دیکھ بھال موجودہ محکمانہ نظام کے تحت ہی کی جا رہی ہے۔