روزگار، لاجسٹک پالیسی اور مقامی صنعتوں کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال
عظمیٰ نیوز سروس
جموں// وزیراعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی نے جموں صوبہ کے صنعتی و تجارتی انجمنوں کے نمائندوں کے ساتھ ایک میٹنگ منعقد کی جس میں جموں و کشمیر کے صنعتی شعبے سے متعلق مختلف مسائل پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ دورانِ بات چیت صنعتی انجمنوں کے نمائندوں نے یونین ٹیریٹری میں صنعتوں کی ترقی اور دیرپائی سے متعلق کئی مسائل اُجاگر کئے۔ صنعت کاروں نے اِس بات کی نشاندہی کی کہ اس وقت جموں و کشمیر میں صنعتوں کے لئے کوئی مالی پیکیج دستیاب نہیں ہے اور صنعتی ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لئے پالیسی سطح پر مسلسل تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔نمائندوں نے اُمید ظاہر کی کہ تجویز کردہ لاجسٹکس پالیسی اور پبلک پروکیورمنٹ پالیسی جو اس وقت تشکیل کے مرحلے میں ہیں ، خطے کی صنعتوں کو درپیش بہت سے چیلنجوں کا حل فراہم کریں گی۔دورانِ میٹنگ بلولے صنعتی اسٹیٹ میں زمین حاصل کرنے والی اکائیوں کے لئے اِی ایم۔ وَن رَجسٹریشن میں توسیع کا معاملہ بھی اُٹھایا گیا۔
انجمنوں نے کاروبار میں آسانی پیدا کرنے کی خاطر گرین کیٹیکری یونٹوںکے لئے آٹو رینیول نظام متعارف کرنے کی بھی درخواست کی۔ بات چیت کے دوران یہ تجویز بھی دی گئی کہ ٹریکنگ سیاحت کے فروغ کے لئے مخصوص راستوں کی نشاندہی کر کے انہیں ترقی دی جائے۔ انجمنوں نے مزید مقامی صنعتوں کو ترجیح دینے اور روایتی شعبوں بالخصوص جموں و کشمیر کی اونی صنعت کو فروغ دینے پر بھی زور دیا۔صنعتی نمائندوں نے ٹرن اوور مراعات کو جاری رکھنے کی بھی خواہش ظاہر کی اور حکومت سے اپیل کی کہ نیو سینٹرل سیکٹر سکیم کے تحت زیر اِلتوأرَجسٹریشنز کا معاملہ مرکزی حکومت کے ساتھ اُٹھایا جائے۔نمائندوں نے این سی ایس ایس کے تحت فوائد میں توسیع کی وکالت بھی کی اورآرٹیفیشل اِنٹلی جنس کے اِستعمال، اِی۔ کامرس کے فروغ دینے اور یونین ٹیریٹری میں سروس سیکٹر پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت کو اُجاگر کیا۔مشیر موصوف نے موجودہ صنعتی اکائیوں کی معاونت کی ضرورت پر بھی زور دیا اور صنعت کاروں کو جموں و کشمیر میں دیرپاصنعتی ترقی کے لئے فعال کردار اَدا کرنے کی ترغیب دی۔
مشیر ناصر اسلم وانی نے شرکأ سے خطاب کرتے ہوئے کاروبار میں آسانی کو بہتر بنانے اور جموں و کشمیر کی صنعتوں کو زیادہ متحرک اور مسابقتی بنانے کے لئے حکومت کے عزم پر زور دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ صنعتی ترقی کو روزگار کے مواقع کی تخلیق میں بدلنا چاہیے اور مقامی صنعتوںبالخصوص زرعی اور اون پر مبنی شعبوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔میٹنگ میں منیجنگ ڈائریکر جے اینڈ کے ایس ڈی آئی سی او اور ایس آئی سی او پی محمد شاہد سلیم ڈار، ڈائریکر صنعت و حرفت جموں ڈاکٹر ارون منہاس، صدر چیمبر آف کامرس اینڈ اِنڈسٹری جموں ارون گپتا، نیشنل چیئرمین ڈِی 2سی انڈسٹری ایسوسی ایشن ایم اے علیم، نائب صدر سی آئی آئی سدھانت چودھری، چیئرمین آئی سی سی راہل سہائے، صدر اے ایس ایس او سی ایچ اے ایم مانک بترا، صدر پی ایچ ڈِی سی سی آئی راکیش وزیر، چیئرمین ایف ایل او ایف آئی سی سی آئی ورشا بنسل سمیت محکمہ صنعت و حرفت کے دیگر اَفسران بھی موجود تھے۔ بعد میں دِن میں مختلف وفود اور اَفراد نے سول سیکرٹریٹ جموں میں وزیراعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی سے ملاقات کی اور ان کے سامنے اَپنے مسائل پیش کئے اوربروقت ازالے کے لئے مداخلت کی درخواست کی۔نان ٹیچنگ ایمپلائز یونین جموں یونیورسٹی کے ایک وفد جس کی قیادت ڈاکٹر راکیش چِب کر رہے تھے، نے نان ٹیچنگ عملے سے متعلق سروس معاملات اُٹھائے۔چیئرمین آل جے اینڈ کے ٹرانسپورٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن ک کرن سنگھ نے بھی مشیرموصوف سے ملاقات کر کے ٹرانسپورٹ کمیونٹی کے مطالبات پیش کئے۔ سابق صدرجموں چیمبر آف کامرس اینڈ اِنڈسٹری راکیش گپتا بھی مشیر سے ملاقی ہوئے اور سوسائٹی ایکٹ جموں و کشمیر میں ترمیم سے متعلق مسائل اُجاگر کئے۔محلہ ویلفیئر کمیٹی گوجر نگر کے ایک وفد جس کی قیادت ایوب ملک کر رہے تھے، نے گزشتہ برس کے سیلاب سے متاثرہ کنبوں کے لئے جلد از جلد معاوضہ جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔وفد نے امداد اور بحالی کی امداد کی فراہمی میں تیزی لانے کی درخواست کی۔وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی نے تمام وفود اور افراد کے مسائل بغور سنا اور یقین دلایا کہ جائز مطالبات کا ترجیحی بنیادوں پر جائزہ لے کر ان کا ازالہ کیا جائے گا۔ اُنہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ اُٹھائے گئے مسائل پر غور کر کے مقررہ وقت کے اندر مناسب کارروائی عمل میں لائی جائے۔