جموں//وزیر برائے تعمیرات عامہ نعیم اختر نے ایوان کو مطلع کیا کہ نئے قائم کئے گئے اضلاع میں ہسپتالوں کی توسیع کو ترقیاتی منصوبے کے تحت لایا گیا ہے اور ان طبی اداروں میں تمام مطلوبہ سہولیات دستیاب رکھی گئیں۔انہوں نے کہا کہ اس سے قبل قائم کئے گئے اضلاع میں طبی اداروں کی توسیع کے لئے مالی امداد مختص نہیں تھی۔ شوکت حُسین گنائی کی جانب سے اُٹھائے گئے سوال کے جواب کے دوران مداخلت کرتے ہوئے وزیر نے ایوان کو مطلع کیا کہ حکومت نے ریاست کے طبی اداروں کے بنیادی ڈھانچہ کو مستحکم بنانے کے لئے متعدد اقدام اُٹھائے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ سب ضلع ہسپتال شوپیاں کو جدید ترین تشخیصی آلات سے لیس کیا جارہا ہے۔گنائی نے سب ضلع ہسپتال شوپیاں میں ڈاکٹروں ، نیم طبی عملہ اور جدید ترین تشخیصی آلات کی دستیابی کے بارے میں جانکاری طلب کی تھی۔بعد میں مرکزی سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر مملکت برائے صحت و طبی تعلیم آسیہ نقاش نے کہا کہ ہسپتال میں14 ڈاکٹر کام کر رہے ہیں جبکہ49 منظور شدہ نیم طبی عملہ میں سے49 اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں تعینات6 ڈاکٹروں ، ڈینٹل سرجنوں اور37 نیم طبی عملے کی خدمات قومی صحت مشن کے تحت حاصل کی گئی ہیں۔وزیر نے کہا کہ چند جدید ترین آلات کے بغیر ہسپتال میں تمام تشخیصی سہولیات اور ادویان مریضوں کے لئے دستیاب ہیں۔انہوں نے کہا کہ تاہم ہسپتال کو سی ٹی سکیم ، کرئیٹیکل کئیر ایمبولنس، ڈیجٹیل ایکسرے اگلے مالی سال کے دوران رقومات کی دستیابی کی صورت میں فراہم کئے جائیں گے۔صوفی یوسف اور ظفر اقبال منہاس نے مرکزی سوال پر ضمنی سوال اُٹھائے۔دریں اثنا آغا سعید محمود الموسوی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے آسیہ نقاش نے ایوان کو مطلع کیا کہ آغا سعید یوسف میموریل ضلع ہسپتال بڈگام کے لئے167 عملہ منظور کیا گیا ہے جس میں گزٹیڈ و نان گزٹیڈ دونوں شامل ہیں جن میں سے117 طبی ادارے میں تعینات ہیں اور اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔وزیر نے کہا کہ اننت ناگ، بارہ مولہ، کولگام، ہندواڑہ، لیہہ اور کرگل ضلع ہسپتالوں میں مرحلہ اول کے تحت سی ٹی سکیم مشینیں نصب کی گئی ہیں اور بڈگام ضلع ہسپتال کو بھی اگلے مالی سال کے دوران رقومات دستیاب ہونے کی صورت میں سی ٹی سکیم مشین نصب کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے جے اینڈ کے میڈیکہل سپلائیز کارپوریشن لمٹیڈ کے لئے70 لاکھ روپے منظور کئے ہیں جس میں سے35 لاکھ روپے ریاست کے طبی اداروں کے لئے ڈیجیٹل ایکسرے، انڈو سکوپ اور کلونکسوپ خریدنے کے لئے واگذار کئے گئے ہیں۔علی محمد دار اور گردھاری لال رینہ کی جانب سے اُٹھائے گئے ضمنی سوالات کا جواب دیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ ریاست کے تمام ضلع ہسپتال اور جگٹی ہسپتال میں ا دویات وافر مقدار میں دستیاب ہیں۔فردوس احمد ٹاک کے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر نے کہا کہ گذشتہ 2 برسوں کے دوران97797 اور263049 مریضوں کو جموں سرینگر کے میڈیکل کالجوں اور ان کے ساتھ منسلک ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈوں میں داخل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اسی مدت کے دوران جموں میں5876 اور صوبہ کشمیر میں4988 امومات درج کی گئیں۔وزیر نے مزید کہا کہ گورنمنٹ میڈیکل کالجوں کے ساتھ منسلک ہسپتالوں کے ایمرجنسی وارڈوں میں مریضوں کا ملاحظہ کرنے کے لئے ہمہ وقت رجسٹرار دستیاب رہتے ہیں اور چند ایک مریضوں کا ملاحظہ پی جی طلاب علم بھی رجسٹرار کی رہنمائی میں کرتے ہیں۔ مختلف شعبوں کے سربراہ اور کنسلٹنٹ باقاعدہ اور ضرورت کے تحت وارڈوں کا چکر لگاتے ہیں اور کنسلٹنٹوں کو حساس مریضوں کے علاوج کے لئے طلب کیا جاتا ہے۔صحت شعبیٔ میں بہتری لانے کے لئے اُٹھائے گئے اقدامات کی فہرست پیش کرتے ہوئے آسیہ نقاش نے کہا کہ گورنمنٹ میڈیکل کالجوں اور ان کے ساتھ منسلک ہسپتالوں میں صحت نظام میں بہتری لانے کے لئے حکومت ہر ممکن کوششیں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ طبی اداروں کو جدید ترین تشخیصی آلات بشمول، سی ٹی سکیم، ایم آر آئی، ای سی جی، ایکو۔ کارڈیو گراف، ویڈیو انڈا سکوپی سے لیس کیا گیا ہے۔نریش گپتا، سریندر چودھری اور وبودھ گپتا نے مرکزی سوال پر ضمنی سوال اُٹھائے۔