عظمیٰ نیوزسروس
جموں//جموں و کشمیر حکومت نے ہفتے کے روز قانون ساز اسمبلی میں واضح کیا کہ آئندہ مالی سال کے دوران مرکزی زیر انتظام علاقے میں
نئی شراب کی دکانیں کھولنے کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے۔ یہ وضاحت محکمہ خزانہ کی جانب سے ایم ایل اے ارجن سنگھ راجو کے سوال کے تحریری جواب میں پیش کی گئی، جس میں کہا گیا کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر نئی لائسنسنگ یا شراب کی دکانوں کے اجراءکی کوئی تجویز حکومت کے پاس نہیں ہے۔ایوان میں جمع کرائے گئے جواب میں حکومت نے گزشتہ دو مالی برس 2023-24اور 2024-25کے دوران جموں اور کشمیر ڈویڑن کے اضلاع سے شراب کی دکانوں کے ذریعے حاصل ہونے والی آمدنی کی تفصیلات بھی پیش کیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں ضلع نے 2024میں 48,350.15روپے اور 2025میں 50,913.93 روپے کی آمدنی حاصل کی، جبکہ ادھمپور میں 2024میں 11,322روپے اور 2025میں 12,061.50روپے کی آمدنی درج ہوئی۔کٹھوعہ میں 2023-24کے دوران 10,653لاکھ اور 2024-25میں 11,272لاکھ روپے کی آمدنی ہوئی، جبکہ سانبہ نے 9,138.06لاکھ اور 9,740.15لاکھ روپے حاصل کیے۔ ڈوڈہ میں یہ آمدنی 2,353.61لاکھ اور 2,448.17لاکھ روپے رہی، جبکہ کشتواڑ سے 1,681.90لاکھ اور 1,887.59لاکھ روپے حاصل ہوئے۔رام بن میں2023-24کے دوران 2,299.95 لاکھ اور 2024-25میں 2,476.70لاکھ روپے، راجوری میں 4,806.19لاکھ اور 5,336.96لاکھ روپے، جبکہ پونچھ میں 1,497.78لاکھ اور 1,768.92لاکھ روپے کی آمدنی درج کی گئی۔کشمیر ڈویژن میں ضلع سری نگر نے2023-24میں 5,489.67لاکھ روپے کی آمدنی حاصل کی جو2024-25میں بڑھ کر 6,557.66لاکھ روپے ہو گئی۔گاندربل میں یہ آمدنی 223.45لاکھ سے بڑھ کر 319.69لاکھ روپے، بارہمولہ میں 872.23لاکھ سے 1,139.84لاکھ روپے، کپواڑہ میں 415.66 لاکھ سے 442.96لاکھ روپے، جبکہ اننت ناگ میں 1,403.50لاکھ سے بڑھ کر 1,999.50لاکھ روپے ہو گئی۔ سرکاری ڈیٹا سے یہ واضح ہوتا ہے کہ مجموعی طور پر جموں صوبے کی آمدنی کشمیر کے مقابلے میں کہیں زیادہ رہی ہے۔حکومت نے اس تاثر کی بھی سختی سے تردید کی کہ جموں و کشمیر میں شراب کی دکانوں کے لیے بے نامی لائسنس جاری کیے جا رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ایسا کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا اور تمام لائسنس صرف جموں و کشمیر کے ڈومیسائلز کو جے اینڈ کے ایکسائز ایکٹ 1958اور موجودہ ایکسائز پالیسی کے تحت شفاف طریقے سے جاری کیے جاتے ہیں۔ سرکاری وضاحت کے مطابق لائسنسنگ کے پورے عمل کی نگرانی سخت اصولوں کے مطابق کی جاتی ہے اور کسی بھی غیر قانونی طریقے، بے نامی شراکت یا بیرونی افراد کے نام پر لائسنس جاری کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔