مینڈھر //نیشنل کانفرنس نے مینڈھر میں مختلف مقامات پر مخلوط سرکار کی ناکامی کے خلاف مُظاہرے منعقد کئے۔مینڈھر میں ایم ایل اے جاوید رانا کی قیادت میں مظاہرین اکٹھا ہوئے اور سرکار م خلاف نعرے بلند کرنے لگے۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے جاوید رانا نے کہا کہ ریاست میں مخلوط سرکار کی تشکیل سے قبل نیشنل کانفرنس کو خدشہ تھا کہ نارتھ پول اور ساوتھ پول اکٹھا ہو کر ریاست کی سرکار نہیں چلا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مخلوط سرکار نے عوام کے لئے پریشانیاں پیدا کی ہیں۔ انہوں نے مخلوط سرکار پر الزام لگایا کہ یہ دوستانہ سرکار مہیا کرنے کے بجائے سرکار پیسے جمع کرنے میں لگی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ سرکار کے دور میں بیروز اری میں کافی اضافہ ہوا ہے اور دونوں پارٹیاں لوگوں کو بانٹنے میں مصروف ہیں ،کیونکہ دونوں پارٹیاں آر ایس ایس کے کھلونے ہیں۔انہوںنے کہا کہ ریاستی اور مرکزی سرکار ریاست میں ایک اچھی سرکار دینے میں ناکام رہی ہے۔وشو ہندو پریشد کے کارگُذار صدر پروین توگڑیا کے بیان کا ذکر کرتے ہوئے ا نہوں نے کہا کہ یہ ہماری سمجھ سے قاصر ہے کہ کس طرح سے ایک ایسے لیڈر کو جموں میں تین دن رہنے اور خفیہ میٹنگیں منعقد کرنے دیا گیا جو مسلم کش اور کشمیریوں کے خلاف بیانات دے رہا ہے۔مرکزی سرکار کی تنقید کرتے ہوئے رانا نے کہا کہ مرکزی سرکار نے انٹیلی جنس کے ایک سابقہ چیف کو مذاکرات کار بنا کر ایک ڈرامہ کیا ہے،اس سے لگتا ہے کہ سرکار کشمیری لوگوں کے مسائل کے تئیں سنجیدہ نہیں ہے۔