مینڈھر//مینڈھر پولیس کے خلاف شہیدی یادگار مینڈھر میں جاری احتجاجی دھرنا درج کیسوں کوخارج کرنے اور تحقیقات کرانے کی یقین دہانی پر دوسرے روز ختم ہوگیا ۔واضح رہے کہ سوموار کے روز کچھ لوگوں نے دھرنا شروع کیاتھا جو منگل کی رات بھی جاری رہا۔ دھرنے میں شامل افراد کاکہناتھاکہ گزشتہ دنوںمصطفی نگر مینڈھر میں ہوئے ٹریکٹر حادثہ کے بعد ایس ایچ او مینڈھر اور مقامی لوگوں کے درمیان توتومیں میں ہوگئی جس سے حالات خراب ہو گئے تھے ۔انہوںنے بتایاکہ اس دوران ایس ایچ او نے ایک شخص کو اپنے ہمراہ پولیس تھانہ لیا اوراس کی مار پیٹ کی گئی جس کو ہسپتال میں زیر علاج رکھاگیا۔ اس سلسلے میں پولیس کی طرف سے لوگوں کے خلاف دو کیس درج کئے گئے تھے جن میںسے ایک ایس ایچ او کے ساتھ بدسلوکی اور دوسرا سڑک بند کرنے پر تھا ۔اس دوران لوگوں نے مینڈھر پولیس کے خلاف زور دار نعرے بازی کی اوریہ دھرنا تیس گھنٹوں تک لگاتار جاری رہا ۔دھرنے کو دیکھتے ہوئے ایس ڈی ایم مینڈھراورایس ڈی پی او مینڈھر نے لوگوںسے بات چیت کی ۔تاہم لوگوں نے کہاکہ ان کے خلاف درج کئے گئے دو نوں کیس خارج کئے جائیں اور ایس ایچ او مینڈھر کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ لوگوں نے الزام لگایا کہ مینڈھر پولیس تھانہ میںکچھ غلط لوگ پولیس آفیسران ہیں جن کو فوری طور تبدیل کیا جائے نہیںتو مینڈھر کے اندر حالات خراب ہو سکتے ہیں۔ اس دوران ایس ڈی پی او مینڈھر ریاض تانترے اور ایس ڈی ایم مینڈھر راہل یادو(آئی اے ایس) نے لوگوں کو یقین دلایاکہ ان کے خلاف درج کئے گئے مقدمے خارج کئے جائیں گے اور معاملہ کی انکوائری بھی کی جائے گی۔انہوںنے کہاکہ ان کی طرف سے دیاگیا میمورنڈم حکام کوروانہ کیاجائے گا۔اس دوران بیوپار منڈل مینڈھر کے صدر پروین کمار ساہنی، ہندو مہا سبھا کے صدر ستیش کمار نمبر دار کالابن کفیل خان کے علاوہ کئی لوگ موجود تھے ۔