مینڈھر//مینڈھر انتظامیہ نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات کو مینڈھر قصبہ میں نا جا ئز تعمیرات کو ہٹا یا جس ٹیم کی سربراہی ایس ڈی ایم مینڈھر راہول یا دو کر رہے تھے ، نا جا ئز تعمیرات کو مینڈھر قصبہ سے ہٹانے کے بعد لو گو ں نے انتظامیہ کی سراہا ۔ تفصیلات کے مطابق مینڈھر قصبہ میں دکا نداروںنے کئی برسو ں سے نا جا ئز تعمیرات کی ہوئی تھی اور اپنی دکا نو ں کے آگے سیڑ ھیا ں اور شیڈ تعمیر کیے ہوئے تھے جس کو دیکھ کر ہرنیا دکان کا ما لک سڑ ک پرقبضہ کر رہا تھا ، جس کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ مینڈھر نے دکا ندار طبقہ کو کئی ماہ قبل نو ٹس بھی جا ری کیے ہو ئے تھے کہ نا جا ئز تعمیرا ت کو خو د ہٹا دو لیکن دکا نداروں نے نا جا ئز تعمیرات کو ہٹا نے کے بجائے نئے تعمیرات شروع کی ہو ئی تھی جس کے پیش نظر انتظامیہ مینڈھر نے ضلع تر قیا تی کمشنر پونچھ کی ہد ایت کے مطابق تعمیرات کو گز شتہ رات ہٹا نے کا فیصلہ کیا ۔ نا جا ئز تعمیرات ہٹا تے وقت تحصیلدار مینڈھر شہزادا لطیف خان، ایس ڈی پی او مینڈھر ریا ض تا نتر ے، نا ئب تحصیلدار مینڈھر تعارف حسین شاہ اور بی ڈی او مینڈھر شکیل منہاس کے علا وہ بھا ری تعداد میں پو لیس اور محکمہ مال کے ملا زمین تعینات کیے ہو ئے تھے۔ اس دوران افسر ان جی سی بی مشین لگا کر پو رے قصبہ میں جتنے بھی دکاندار نے نا جا ئز تجا وزات کی ہوئی تھی اس کو گراد دیا ،۔ اور اس کام بھی لو گو ں نے بھی ان کا ساتھ دیا ۔ یہ نا جا ئز تجا وز ات کو ہٹانے کا کام رات بھرتک جا ری رہا ۔ اس دوران انتظامیہ نے کئی درجن سیڑ ھیو ں اور سینکڑو ں دکا نو ں سے نا جا ئز تجا وز کو ہٹا یا ۔ حا لا ت کو دیکھتے ہوئے ایس ڈی ایم مینڈھر راہول یا دو نے مینڈھر قصبہ میں دفعہ 144نا فذکردیا تا کہ کوئی نا خو شگو ار واقع پیش نہ آئے ۔ اس دوران مینڈھر میں بھا ری تعداد میں سی آر پی ایف اور پو لیس کے جو ان چپے چپے پر تعینات تھے لیکن کسی بھی قسم کا کو ئی نا خوشگو ار واقعہ پیش نہیں آیا ۔ اس دوا ن لو گو ں نے تحصیل افسر ان کو ہا ر ڈال کر ان کی اس تا ریحی فیصلہ کا استقبال کیا ۔ اور انہو ں نے افسر ان سے مانگ کی کہ جن جگہو ں پر ابھی ناجا ئز تجاوز کی ہوئی ہے اس کو ہٹا دیں۔ اس مو قع پر ایس ڈی ایم راہول یادو نے میڈیا سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ ہم نے تین ما ہ قبل دکاندو ں کو نو ٹس جا ری کیا ہوا تھا کہ دکا نو ں کے سامنے سے نا جا ئز تجا وزات کو ہٹا یا جائے لیکن انہو ں نے نا جا ئز تجاوزات نہیں ہٹا یا ، اس لئے ہمیں یہ فیصلہ کر نا پڑا ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ جن جگہو ں پر نا جا ئز تجا وز رہ گئی ہے ہم نے دکا ندرو ں کو کہا کہ خو داس کو ہٹا دیں ورنہ ہمیں خو د کا روائی کر نی پڑے گی۔