ایجنسیز
بنکاک// میانمار کے سابق صدر وِن مِیِنٹ کو جمعہ کے روز روایتی نئے سال کے موقع پر صدر من آنگ ہلائنگ کی جانب سے دی گئی وسیع عام معافی کے تحت رہا کر دیا گیا، سرکاری میڈیا نے اطلاع دی۔معافی کے اس حکم کا اطلاق 4,500 سے زائد قیدیوں پر ہوا، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ فوجی حکومت کی مخالفت پر قید افراد میں سے کتنے شامل ہیں، اور 80 سالہ سابق رہنما آنگ سان سوچی کی رہائی کے کوئی آثار نظر نہیں آئے۔وِن مِیِنٹ، آنگ سان سوچی کے دیرینہ ساتھی ہیں اور 2018 میں صدر منتخب ہوئے تھے۔ انہیں یکم فروری 2021 کو گرفتار کیا گیا، جس دن فوج نے اقتدار سنبھالا اور سوچی کو بھی حراست میں لیا گیا۔ بعد ازاں انہیں مختلف الزامات میں مجموعی طور پر 12 سال قید کی سزا سنائی گئی، جو 2023 میں کم کر کے 8 سال کر دی گئی۔سرکاری ٹی وی ایم آر ٹی وی کے مطابق، وِن مِیِنٹ، جو باگو ریجن کے تاؤنگو قصبے کی جیل میں قید تھے، کو عام معافی دی گئی۔ینگون کی انسین جیل کے باہر، قیدیوں کو لے جانے والی بسوں کا استقبال ان کے رشتہ داروں اور دوستوں نے کیا، جو صبح سے انتظار کر رہے تھے۔ رہا ہونے والوں میں فلم ساز شِن ڈیوے بھی شامل تھیں، جنہیں جنوری 2024 میں انسداد دہشت گردی قانون کے تحت عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔یہ عام معافی اس وقت دی گئی ہے جب ایک ہفتہ قبل من آنگ ہلائنگ نے ایک ایسے انتخاب کے بعد صدارت کا حلف اٹھایا، جسے ناقدین غیر شفاف اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہیں اور اسے فوجی اقتدار برقرار رکھنے کی کوشش سمجھتے ہیں۔سرکاری میڈیا کے مطابق، 4,335 قیدیوں کے علاوہ تقریباً 180 غیر ملکیوں کو بھی رہا کر کے ملک بدر کیا جائے گا۔رہائی کی شرائط کے مطابق اگر رہا ہونے والے قیدی دوبارہ جرم کریں گے تو انہیں اپنی سابقہ سزا کے باقی حصے کے ساتھ نئی سزا بھی بھگتنا ہوگی۔ ایک علیحدہ رپورٹ کے مطابق سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا گیا ہے، عمر قید کو 40 سال تک محدود کر دیا گیا ہے جبکہ 40 سال سے کم سزاؤں میں ایک چھٹا حصہ کمی کر دی گئی ہے۔اس حساب سے آنگ سان سوچی کی 27 سالہ سزا میں ساڑھے چار سال کی کمی ہو گی اور انہیں مزید تقریباً 22 سال قید کاٹنی پڑے گی۔دارالحکومت نیپی ڈاؤ سے تعلق رکھنے والے ایک سینئر فوجی افسر نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ سوچی کو رعایت کے طور پر نظر بندی میں منتقل کیا جائے گا، تاہم انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔