ینگون //میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف ایک لاکھ سے زائد افراد سڑکوں پر نکل آئے اور آمریت کے خلاف بھرپور نعرے بازی کی۔مظاہرین نے فوج کے اس دعوے کو مسترد کردیا کہ انہیں عوامی کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔میانمار کے مرکزی شہر ینگون میں ایک مظاہرے میں شہریوں نے سرخ پرچم کے ساتھ مارچ کیا اور معزول رہنما آنگ سان سوچی کی منتخب حکومت کے ساتھ اپنی وفاداری اظہار کی۔ریلی کی وجہ سے مرکزی شاہراہوں کے جنکشن بند ہوگئے اور لوگوں اپنی گاڑیاں ایک طرف پارک کرکے مظاہرین کے ہمراہ شامل ہوگئے۔میانمار کے دوسرے بڑے شہر منڈالے میں بھی بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے گئے۔