قیصر محمود عراقی
ملک کی عوام سے نہ جانے ایسی کیا غلطیاں سرزد ہوئی ہیںکہ ہر بار کوئی نہ کوئی اُس کی سادگی یا کم شعوری کا فائدہ اٹھاکر اُسے پُر فریب وعدوں سے تاریکی میں دھکیل دیا جاتا ہے
اور اُس پرمہنگائی کے ناقابل برداشت زخم لگائے جارہے ہیں۔ سیاسی شعبدوں ان کے ٹوٹے دلوں کو بہلایا جارہا ہے۔ عوام اپنے تئیںبہت سوچ بچار کے بعد مختلف حکومتوں کو اقتدار میں لاتے رہے ہیں،اس امید کے ساتھ ، کہ شاید اب کی بار ان کی حالت زار میں بہتری آئے گی، لیکن ہر بار عوام کے جذبات سے کھیلا جاتا رہا ہے۔ اب تک ملک کی تمام مقبول جماعتوں کی حکومتیںرہی ہیں، ماضی قریب میںعوام نے آنکھوں میں تبدیلی کے خواب لئے ، کانوں میںدلکش سیاسی نعروں کو سجاتے ہوئے موجودہ حکومت کو اقتدار کی کرسی پر بٹھایا،لیکن یہ تمام خواب وسپنے اور امیدیںاس وقت دم توڑ گئے جب انہیں یہ احساس ہوگیا کہ بند آنکھوں میں سپنے تھے، سپنوں میں دن اپنے تھے اور جب آنکھ کھلی تو دیکھا سپنے آخر سپنے تھے۔ موجودہ دور مہنگائی کی جو قیامت خیز سونامی آئی ہوئی ہے، اس سے غربت کے تمام ریکارڈ توڑ گئے ہیں، جس کا مراعات یا یافتہ طبقے کو احساس نہیں ہے کیونکہ انہیں یہ بھی نہیں پتہ کہ انڈا درجن کے حساب سے ملتا ہے، کیلو کے حساب سے نہیںاور ٹماٹر کیلو کے حساب سے بکتا ہے درجن کے حساب سے نہیں۔ ہر بار عوام سے یہی کہا جاتا ہے کہ معیشت کی ترقی کیلئے عوام کو مہنگائی کو کڑوی نگلنی ہوگی اور عوام نگلتے ہی رہے ہیں لیکن اس بار مہنگائی نے غریب عوام کی چیخیں نکال دی ہیں اور یہ سب کچھ حکومت کا کیا دھرا ہے جو آج غریب عوام مہنگائی کی صورت میں بھگت رہی ہے۔ اب اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ خود عوام کو ہی اپنے درد کا علاج کرنے کیلئے کوئی قدم اٹھا نا ہوگا، جو اجتماعی طور پر عوام کی فلاح و بہبودی کے لئے ہوگا۔ سیاستدانوں نے اپنے ذاتی مفاد کیلئے ہمیں دلکش اور دل نشیں نعروں کے لالی پاپ دیکر اپنے چنگل میں پھنسا رکھا ہے، ہمیں اس سنہری جال سے نکل کر عقل سے کام لینا ہوگاکہ مہنگائی کے خلاف لانگ مارچ کا انعقاد کرنے والے عوام کے ہمدرد نہیں ہوتے بلکہ اقتدار میں آنے کے بعد پہلے والوں سے بھی زیادہ عوام کا استحصال کرتے ہیں۔ ہمیں یہ ادراک بھی کرنا ہوگا کہ پانچ سال کیلئے اقتدار حاصل کرنے والے عوام کی ہمدردی میں اپنے سر پر ھما(ایک خیالی پرندہ) کو نہیں بٹھاتے بلکہ اپنے مفادات کی خاطرعوام کو مہنگائی کی چکی میںپسوا رہے ہیں۔ ہمیں اب سیاست دانوں کی غلامی سے نکلنا ہوگا، فیورٹ ازم کے چکر میں پڑکر مخالفین کی اچھائی کوبُرائی ثابت کرنے اور اپنے لیڈر کی ہر بُرائی کا دفاع کرنے کی روش کو کرنا ہوگا، ہمیں اس عادت کو چھوڑنا ہوگا کہ مخالف لیڈر کے گناہ اس کے پارٹی ورکرز کے کھاتے میں ڈال کر ان پر طعنہ زنی کی جائے، ہمیں اب مجموعی جہالت کے خول کو توڑ کر اپنے حقوق اور محرومیوں کا ادراک کرنا ہوگا۔ جب ہم ایک عوام بن جائیںگے تو ہماری سوچ بھی ایک ہوجائے گی، ہم پھر مثبت سوچ کے ساتھ آگے بڑھیں گے، ایک دوسرے کو آسانی سے موٹیویٹ کرسکیں گے کہ مہنگائی طلب اور رسد کے توازن میں بگاڑی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ سب سے پہلے ہم اپنے گھروں میں اشیائے ضروریہ کا اسٹاک کرنے کی بجائے ضروری مقدار میں چیزیں خریدیں، ایک دوسرے کو قائل کرسکیںکہ چند دن پھل نہ کھانے سے ہم مر نہیں جائیں گے۔ انڈوں کا بائیکاٹ کریں تو ان کے خراب ہونے کے ڈرسے قیمتیں خودبخود نیچے آجائیںگی، ہم گوشت کا بائیکاٹ کرینگے تو پالیٹری فارم والے مرغیوں کے مرنے کے ڈر سے گوشت سستا کردیںگے ، بڑے بڑے امراوروسا،سال بھر کی ضرورت کی اشیاء خرید نے کی بجائے ضرورت کے مطابق خریداری کریں اور ہر شعبۂ ضرورت سے زائد خریداری سے اجتناب کریں، تبھی مہنگائی پر قابو پایا جاسکتا ہے۔ ضرورت صرف پنچانوے فیصد عوام کے متحد ہونے کی ہے جسے یہ پانچ فیصد لوگ دونوںہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔ چلتے چلتے ایک زندہ قوم کا واقعہ بھی پڑھ لیں، ارجنٹائن کا ایک شہری انڈوں کا کارٹن خریدنے گیا ، بیچنے والے نے بتا یا کہ کارٹن کی قیمت بڑھ چکی ہے، وجہ پوچھنے پر اُسے بتایا گیا کہ ایسا تقسیم کاروں کی طرف سے کیا گیا ہے۔ ’’مجھے انڈے نہیں خریدنے‘‘یہ کہتے ہوئے شہری نے کارٹن واپس اس کے جگہ پر رکھ دیا ، ’’ہم انڈوں کے بغیر رہ سکتے ہیں‘‘یہ کہتے ہوئے تمام شہریوں نے انڈوں کا بائیکاٹ کردیا، کوئی ہڑتال ہوئی نہ کوئی جلوس نکلا ، صرف مجموعی بائیکاٹ مہم شروع ہوئی پھر کیا تھا کمپنیوں سے اسٹور والوں نے انڈوں کی سپلائی لینی بند کردی کہ پہلے والے انڈے ہیں،اسٹوروں میں پڑے پڑے خراب ہورہے تھے۔ بالآخر پالیٹری مالکان گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوگئے، عوام کے مطالبے پر انہوں نے تمام میڈیا میں اپنی حرکت پر معافی مانگی اور سابقہ قیمت سے بھی ایک چوتھائی کم پر انڈے فروخت کرنا شروع کردیا۔ یہ ایک سچا واقعہ ہے، کسی تخلیل کی پیداوار نہیں ہے۔ الغرض ہم بحیثیت عوام چاہے تو کسی بھی شئے کی قیمت کم کروایا بڑھوا سکتے ہیں، اس کے لئے کسی مہم یا ہڑتا ل کی بھی ضرورت نہیں ہے، بس ہماری نیت اور عزم کی ضرورت ہے۔
(رابطہ۔6291697668)