جاوید اقبال
مینڈھر//زون منکوٹ کے گورنمنٹ مڈل اسکول نمّہ ہنڈیاں میں بنیادی سہولیات کی شدید کمی کے باعث طلبہ و طالبات کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق اسکول میں 70 سے زائد بچے زیرِ تعلیم ہیں، تاہم ان کے لیے صرف دو کمرے دستیاب ہیں، جو تعلیمی ضروریات کے لیے ناکافی ہیں۔ذرائع کے مطابق بارش کے موسم میں اسکول کے کمروں میں پانی جمع ہو جاتا ہے، جس کے باعث یہ کمرے تالاب کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور تدریسی عمل شدید متاثر ہوتا ہے۔ ایسی صورتحال میں طلبہ کو نہ صرف تعلیم میں رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ ان کی صحت بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔
اسکول میں نہ تو مناسب عمارت موجود ہے اور نہ ہی بنیادی سہولیات جیسے کچن، باتھ روم اور پینے کے صاف پانی کا کوئی انتظام ہے۔ ان سہولیات کی عدم دستیابی سے طلبہ کو روزمرہ کی تعلیم حاصل کرنے میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ والدین کا کہنا ہے کہ بچوں کو انتہائی نامساعد حالات میں تعلیم حاصل کرنی پڑ رہی ہے، جو کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ شدید بارشوں کے دوران اسکول بند کرنا پڑتا ہے کیونکہ کمروں میں پانی بھر جاتا ہے، جبکہ گرمی کے موسم میں طلبہ کو کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنی پڑتی ہے، جو ان کے لیے نہایت تکلیف دہ ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف تعلیمی معیار کو متاثر کیا ہے بلکہ بچوں کی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔علاقہ مکینوں اور طلبہ کے والدین نے متعلقہ انتظامیہ اور سرکار سے پرزور اپیل کی ہے کہ اسکول کے لیے فوری طور پر نئی عمارت تعمیر کی جائے اور تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ بچوں کو بہتر اور محفوظ تعلیمی ماحول میسر آ سکے۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو بچوں کا تعلیمی مستقبل مزید خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ اس مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے تاکہ آنے والی نسل کو بہتر تعلیم کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔