شکیل مصطفی
حضرت مولانا جلال الدین رومیؒ کا اسم شریف محمد تھا۔ خاندان میں انھیں جلال الدین کہا جاتا تھا۔ یہی لقب قرار پایا۔ دنیائے اسلام انھیں مولانا رومؒ ، مولانا رومیؒ اور مولائے روم کے نام سے جانتی ہے۔ آپ کی ولادت ۱۲۰۷ عیسوی ، ۶۰۴ ہجری بمقام بلخ میں ہوئی۔ روم میں سکونت اختیار کی اس لیے رومی کہلائے۔ آپؒ کا سلسلۂ نسب حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے جاملتا ہے۔ آپ کے والدِ محترم کا نام بہاؤالدین تھا جو بڑے متقی تھے۔ مولانا رومیؒ نے مختلف علوم حاصل کیے۔ درس وتدریس کا جب سلسلہ چلتا تو طلباء کا گروہ کا گروہ آپ کے ساتھ چلتا تھا۔ اُسی زمانے میں اُن کی ملاقات شاہ شمس تبریزؒ سے ہوئی۔ مولانا رومیؒ نے ان سے معرفتِ الٰہی، عشقِ خدا، طریقت، تصوف،حقیقت، عشقِ الٰہی جیسے علوم سیکھے۔ان کی تین تصانیف ہیں:(۱)فیہی معافی(۲)دیوانِ شمس تبریز(۳) مثنوی مولانا روم۔
اول تصنیف فارسی میں ہے۔ دوسری تصنیف شعر وشاعری ،معرفتِ الٰہی سے مزین ہے۔ مولانا رومؒ نے ا س تصنیف کو استاد کے نام معنون کیا ہے۔ تیسری تصنیف ’مثنوی مولانا روم (مثنوی) پوری دنیا میں مشہور ہے۔ اِسے ادبی شاہکار تسلیم کیا جاتا ہے۔ فارسی، ترکی، عربی کے علاوہ دنیا بھر کی زبانوں میں اس مثنوی کا ترجمہ کیا گیا ہے۔
مثنوی میں تصوف کے مسائل، حکایات اور نصیحت آمیز واقعات کے ذریعے حل کیا ہے۔ علّامہ اقبال ؒ کہتے ہیں:؎
گستہ تار ہے تیری خودی کا ساز اب تک
کہ تو ہے نغمۂ رومی سے بے نیاز اب تک
مولوی ہرگز نہ شد مولائے روم
تا غلام شمس تبریزی نہ شد
مولانا رومی ؒ نے گفتگو کے تین دروازے بتائے تھے !
آپ کہا کرتے تھے: آپ کا کلام جب تک ان تین دروازوں سے گزر نہ جائے آپ اس وقت تک اپنا منہ نہ کھولیں ! آپ اپنی گفتگو کو سب سے پہلے سچ کے دروازے سے گزاریں۔اپنے آپ سے پوچھیں آپ جو بولنے لگے ہیں کیا وہ سچ ہے؟اگر اس کا جواب ہاں آئے تو پھر آپ اس کے بعد اپنے کلام کو اہمیت کے دروازے سے گزاریں۔
آپ اپنے آپ سے پوچھیں! آپ جو کہنے جا رہے ہیں کیا وہ ضروری ہے؟اگر جواب ہاں آئے تو آپ اس کے بعد اپنے کلام کو مہربانی کے دروازے سے گزاریں۔
آپ اپنے آپ سے پوچھیں ! کیا آپ کے الفاظ نرم اور لہجہ مہربان ہے؟اگر لفظ نرم اور لہجہ مہربان نہ ہو تو آپ خاموشی اختیار کریں خواہ آپ کے سینے میں کتنا ہی بڑا سچ کیوں نہ ہو اور آپ کا کلام خواہ کتنا ہی ضروری کیوں نہ ہو۔
مولانا کی ذات میں یہ تینوں دروازے حضرت شمس تبریزؒ نے کھولے تھے ۔آپ کا وصال ۵؍جمادی الآخر، ۶۶ سال کی عمر میں ۱۲۷۲ میں ہوا۔ آپ کا مزار کونیہ (ترکی) میں ہے۔
(رابطہ۔9145139913)
[email protected]>