حافظ میر ابراہیم سلفی
فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ ’’بڑا ثواب، بڑی آزمائش کے ساتھ ہے، بلاشبہ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم سے محبت کرتا ہے تو ان کو کسی آزمائش میں ڈال دیتا ہے، جو اس آزمائش پر راضی ہوا (اللہ تعالیٰ کے بارے میں غلط گمان نہ رکھا) تو اس کے لیے رضا ہے اور جو آزمائش پر ناراض ہو (صبر کی بجائے غلط شکوے اور گمان کئے) تو اس کے لیے ناراضی ہے۔‘‘(صحیح، سنن ترمذی)
قریباً دو ماہ بعد آج کچھ قلمبند کرنے کا موقع ملا۔ مختلف اشیاء پر نظر ڈالنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ موسم سرما کے حوالے سے کچھ لکھا جائے۔موضوع کا انتخاب کرنے کے پیچھے بنیادی وجہ کچھ حادثات و واقعات ہیں،جو آگے بیان کئے جارہے ہیں۔ بڑی گہرائی سے محسوس کرچکا ہوں کہ ہم کائنات کے بدلتے رنگوں پر غور نہیں کرتے، بلکہ اپنی انانیت کی زد میں آکر حسب استطاعت کھلواڑ کرنے میں لگ جاتے ہیں۔
بنیادی نقطہ یہ ہے کہ لیل ونہار کی گردش، موسموں کی تبدیلی اللہ تعالیٰ کی عظیم آیات میں سے ہے۔ کائنات کے بدلتے حسین و جمیل رنگوں کے پیچھے ہمارے لئے عظیم نشانیاں ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے کہ،یُقَلِّبُ اللّٰهُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ۔اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ۔ ترجمہ:’’اللہ رات اور دن کو تبدیل فرماتا ہے، بیشک اس میں آنکھ والوں کیلئے سمجھنے کا مقام ہے۔‘‘ ثانیاً یہ نقطہ بھی بڑا اہم ہے کہ شریعت اسلامیہ نے بدلتے موسموں کے متعلق ہمارے لئے ایک مکمل اور صریح قانون مرتب کیا ہے جس پر عمل کرنا اہل ایمان کے لئے واجب ہے۔شب و روز کی یہ گردش ہر ایک کے لئے یکساں نہیں ہوتی۔ کچھ لوگ ان موسموں سے لطف اندوز ہوتے ہیں تو بعض افراد کے لئے یہ موسم ِسرما آزمائش بن کر طلوع ہوتا ہے۔ کچھ بھی ہو، سردی کتنی بھی زیادہ کیوں نہ ہو، موسموں کے متعلق غیر شرعی الفاظ استعمال کرنا جائز نہیں۔ فرمان نبویؐ ہے کہ ’’اللہ فرماتا ہے کہ ابن آدم مجھے تکلیف پہنچاتا ہے، زمانے کو بُرا بھلا کہتا ہے۔ حالانکہ میں ہی زمانہ کا پیدا کرنے والا ہوں۔ میرے ہی ہاتھ میں تمام کام ہیں، میں جس طرح چاہتا ہوں رات اور دن کو پھیرتا رہتا ہوں۔‘‘(بخاری)
موسم سرما کے لمحات صبر و شکر کی تعلیم دیتے ہیں۔ صبر اور شکر ایمان کے اہم ترین اجزاء ہیں جیسا کہ سلف فرمایا کرتے تھے۔ سرمائی ایام میں برف باری جہاں ایک نعمت عظمیٰ ہے وہیں دوسری طرف بعض گھرانوں کے لئے ایک امتحان بھی۔ فرمان نبویؐ ہے کہ، “عجَبًا لِأَمر المُؤمِن إِنَّ أمرَه كُلَّه له خير، وليس ذلك لِأَحَد إِلَّا لِلمُؤمِن، إِنْ أَصَابَته سَرَّاء شكر فكان خيرا له، وإِنْ أَصَابته ضّرَّاء صَبَر فَكَان خيرا له” (صحیح مسلم) ترجمہ:’’مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ اس کے ہر کام میں اس کے لیے خیر ہی خیر ہے۔ اگر اسے آسودہ حالی ملتی ہے اور اس پر وہ شکر کرتا ہے تو یہ شکر کرنا اس کے لیے باعث خیر ہو اہے اور اگر اسے کوئی تنگی لاحق ہوتی ہے اور اس پر صبر کرتا ہے تو یہ صبر کرنا بھی اس کے لیے باعث خیر ہے۔‘‘
سیدنا عمر ؓکا فرمان ہے کہ ’’سردی کا موسم مومن کے لئے غنیمت ہے اور دوسری روایت میں فرمایا موسم بہار ہے ۔‘‘کیونکہ موسم سرما میں راتیں طویل ہوتی ہیں تو قرآن کی تلاوت، قرآن پر غور و تدبر، مطالعہ کتب کا موقع ملتا ہے نیز مومن قیام الیل کے ذریعے اجر و ثواب حاصل کرسکتا ہے۔ اسی طرح دن چھوٹے ہوتے ہیں جن میں اہل ایمان نفلی روزوں کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کرسکتے ہیں۔ بعض اسلاف سے مروی ہے کہ وہ موسم سرما کو اہل قرآن کا موسم قرار دیتے تھے۔ سردیوں کے موسم میں کاہلی اور سستی کا شکار نہیں ہونا ہے۔ زیادہ وقت نیند میں ضائع نہیں کرنا ہے۔ اعمال صالحات کا ذخیرہ جمع کرنا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ مومن ایک time table بنا کے رکھے جس کے مطابق وہ ان ایام کو گزارے۔
سردیوں کا یہ موسم اس بات کی دلیل ہے کہ ہر عروج کو زوال ہے (الا من رحم ربی) جہاں دھوپ وہاں چھاؤں بھی ہیں۔ جہاں آرام وہاں تکلیف بھی ہے۔ انسانی زندگی کا مرحلہ ان ہی تبدیلیوں کا مرکب ہے۔ انسانی حیات ایک ہی حالت میں نہیں رہتی ،اس لئے ضرورت ہے کہ سن زوال آنے سے پہلے ہم ہر لمحہ کی قدر کریں۔ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے کہ، کُنْ فِیْ الدُّنْیَا کَأَنَّکَ غَرِیْبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِیْلٍ، وَعُدَّ نَفْسَکَ مِنْ أَہْلِ الْقُبُوْرِ’ دنیا میں ایک اجنبی یا ایک مسافر کی طرح رہو اور اپنے آپ کو قبر والوں میں شمار کرو‘ (مسند احمد) اور سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ کہا کرتے تھے:’’ جب شام ہو جائے تو صبح کا انتظار مت کرو اورجب صبح ہو جائے تو شام کا انتظار مت کرو۔ اور تندرستی کی حالت میں اتنا عمل کر لو کہ جو بیماری کی حالت میں بھی کافی ہو جائے۔اور اپنی زندگی میں اس قدر نیکیاں کما لوکہ جو موت کے بعد بھی تمھارے لئے نفع بخش ہوں۔‘‘(بخاری)
موسم سرما کی سرد راتیں اس بات کا درس دیتی ہیں کہ خوبصورت ابدی نہیں بلکہ عارضی ہے۔ جوانی دائمی نہیں بلکہ فانی ہے۔ ہر چیز کا ایک مقرر وقت ہے۔ اس لئے نبی کریم ﷺ صحابہ کی تربیت کیا کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ، ’’پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت سمجھو، اپنی جوانی کو اپنے بڑھاپے سے پہلے، اپنی صحت کو اپنے مرض سے پہلے، اپنے مال دار ہونے کو اپنی محتاجی سے پہلے، اپنی فراغت کو اپنی مصروفیت سے پہلے اور اپنی زندگی کو اپنی موت سے پہلے۔‘‘(حدیث حسن، شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ)
ذمہ داریوں میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ہمیں اپنے بزرگوں کا خیال رکھنا ہے۔ انکی طبیعت کا خیال رکھنا ہے اور سب سے اہم اپنے گھر والوں کے ساتھ وقت گزارنا ہے۔ بزرگوں کی دوائی کا خیال لازمی رکھنا ہے۔ اسی طرح ہمارے معاشرے میں جو کمزور طبقہ ہے، بے کس اور ضرورت مند ہیں انکی ضروریات کا خیال رکھنا ہے یہی مسلمانی ہے۔ آئے روز جو دلخراش واقعات سامنے آرہے ہیں ان کا تدارک کرنا ہے۔ اب سوپور سانحہ کو دہرانا نہیں ہے۔ زندوں کی قدر کریں۔ مفلسوں کے سر پر ہاتھ رکھیں۔ اپنی دولت کو غرباء و فقراء کے لئے پیش پیش رکھیں۔ صحیح مسلم کی ایک طویل روایت میں آیا ہے کہ آخرت میں اللہ تعالیٰ بندے سے مخاطب ہوکر فرمائےگا:’’اے آدم کے بیٹے! میں بیمار ہوا تو نے میری بیمار پُرسی نہیں کی‘‘۔ وہ کہے گا : اے میرے ربّ میں کیسے آپ کی بیمار پرسی کرتا، آپ تو رب العالمین ہیں‘‘! اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ’’کیا تو یہ نہیں جانتا کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا اور تُو نے اس کی بیمار پرسی نہیں کی! کیا تو یہ نہیں جانتا کہ اگر تو اس کی بیمار پُرسی کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا‘‘۔ اے آدم کے بیٹے! میں نے تجھ سے کھانا مانگا تو تُو نے مجھے نہیں کھلایا، وہ کہے گا: اے میرے رب، میں کیسے آپ کو کھانا کھلاتا آپ تو رب العالمین ہیں‘‘۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ’’کیا تو یہ نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندے نےتجھ سے کھانا مانگا تو تُو نے اسے کھانا نہیں کھلایا، کیا تُو یہ نہیں جانتا کہ اگر تُو اسے کھانا کھلاتا تواس کا اجر مجھ سے پاتا‘‘۔ اے آدم کے بیٹے، میں نے تجھ سے پینے کو کچھ مانگا تو نے مجھے نہیں پلایا؟ وہ کہے گا : اے میرے رب میں کیسے آپ کو پلاتا آپ تو رب العالمین ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ’’کیا تو یہ نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندے نےتجھ سے پینے کو کچھ مانگا اور تُو نے اسے نہیں پلایا، کیا تُو یہ نہیں جانتا کہ اگر تُو اسے پلاتا تواس کا اجر مجھ سے پاتا۔‘‘(صحیح مسلم)
موسم سرما میں احتیاطی تدابیر پر بھی نظر رکھیں۔ اکثر ان راتوں میں آگ کے واردات سامنے آتے ہیں۔ گھروں کے گھر جل کر راکھ ہوجاتے ہیں۔ کوئی ایسی حرکت نہ کریں جو آپکے لیے باعث ضرر ثابت ہوجائے۔ ابو موسی اشعریؓ سے روایت ہے کہ مدينہ میں رات کے وقت ایک گھر جل گیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کے بارے میں بتایا گیا تو آپؐ نے فرمایا: إنَّ هذه النارَ عَدُوٌّ لَكُمْ، فَإِذَا نِمْتُم، فَأَطْفِئُوهَا عَنْكُم۔’’یہ آگ توتمہاری دشمن ہے۔ چنانچہ جب تم سونے لگو تو اسے بجھا دیا کرو۔‘‘(متفق علیہ)۔آخری نقطہ یہ ہے کہ چرندوں پرندوں اور حیوانات کا خیال رکھیں جو بے زبان ہیں۔ ایک مسلمان پوری کائنات کے لئے باعث رحمت ہے۔ اس رحیمی و کریمی کا ثبوت دیں۔ فرمان نبویؐہے کہ، مَنْ رَحِمَ وَلَوْ ذَبِيحَةً، رَحِمَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔ ’’ جس نے جانوروں کو ذبح کرتے وقت ان پر رحم کیا، اللہ قیامت کے دن اس پر رحم فرمائے گا۔‘‘ (الادب المفرد،حدیث حسن،علامہ البانی رحمہ اللہ)اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ اللہ ہماری پریشانیاں دور فرمائے اور ہماری دنیا و آخرت آباد کرے۔ آمین
( مضمون نگارسلفیہ مسلم انسٹی ٹیوٹ سرینگرمیں مدرس ہیں)
رابطہ۔ 6005465614