فاضل شفیع بٹ
پانڈے کے خیالات سمندر کی موجوں کے ساتھ گڑ مڑ ہو رہے تھے۔ وہ اپنی بیوی میناکشی کے بارے میں کسی گہری سوچ میں غوطہ زن تھا۔ وہ میناکشی کو ممبئی میں چھوڑ کر جہاز کے ساتھ ایک طویل سفر پر روانہ ہوا تھا۔ پانڈے اس سفر پر جانے کے لئے بالکل تیار نہ تھا لیکن جہاز کا کپتان کافی کرخت مزاج کا آدمی تھا۔ اس نے پانڈے کی ایک نہ سنی اور پانڈے کو مجبوراً جہاز کے ساتھ چلنا پڑا۔
پانڈے حال ہی میں شادی کے بندھن میں بندھ چکا تھا۔ پانڈے ایک معمولی شکل و صورت کا آدمی تھا جب کہ اس کی بیوی خوبصورتی میں اپنی مثال آپ تھی۔ پانڈے کی شادی دس لاکھ نقدی اور گاڑی کے عوض طے ہوئی تھی۔ شادی کے بعد پانڈے نے میناکشی کو اپنے ہمراہ ممبئی لایا اور چند دن بعد ہی راہ سفر اختیار کر لی۔
جہاز میں سب لوگ آرام سے اپنی اپنی ڈیوٹیاں انجام دے رہے تھے لیکن محض ایک پانڈے تھا جس کا چہرہ ہمیشہ اداسی کی موجوں میں ڈولتا رہتا۔ وہ بظاہر تو جہاز میں موجود تھا لیکن اس کا دل و دماغ میں میناکشی کی سوچوں میں گم تھا وہ سوچ رہا تھا:
” میری شکل و صورت میں میاکشی کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے۔ میرا رنگ کالا ہے اور میناکشی کتنی گوری ہے۔ میں سرکاری نوکری کی بدولت اتنی خوبصورت بیوی حاصل کرنے میں کامیاب تو ہوا لیکن کیا واقعی میناکشی کے دل میں میرے لئے کوئی جگہ بھی ہوگی یا نہیں؟
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ کسی اور سے پیار کرتی ہو اور گھر والوں کے دباؤ میں آکر اس نے مجھ سے شادی کی ہوگی۔
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس لڑکے کا نام میناکشی کے دل پر کندہ ہوگا اور میناکشی اس کی یادوں کے لمس کو ممبئی والے فلیٹ میں محسوس کر رہی ہوگی”
ایک قد آور موج جہاز سے ٹکرا گئی جس سے پانڈے کی سوچوں کا تسلسل ٹوٹ گیا۔ جہاز رات کی تاریکی میں اپنے سفر کی جانب سست رفتار سے گویا رینگ رہا تھا۔ پانڈے نے جہاز کے عقبی عرشے پر سگریٹ سلگایا اور لمبے لمبے کش لینے لگا۔ سمندر اپنے شباب پر تھا۔ رات کی تاریکی نے سمندر کے پانی کو گویا اپنی تحویل میں لیا تھا۔ ہر سو سیاہ پانی کی لہریں ایک دوسرے سے گڑ مڈ ہو رہی تھیں۔ اچانک بادل کے ٹکڑوں کے پیچھے پناہ گزیں چاند نے سمندر کی لہروں کو سلام کیا۔ سمندر کی سیاہ لہروں پر اب چاند کی روشنی نمودار ہوئی اور اس روشنی میں اب سمندر کی لہروں کا رقص کتنا ہی دل فریب تھا۔ پانڈے کے ذہن کو ایک جھٹکا سا لگا۔ وہ پھر سے ایک گہری سوچ میں گم ہوا:
” سمندر کی سیاہ لہریں کتنی ڈراونی ہیں۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ یہ لہریں جہاز کو اپنے اندر سمیٹ لیں گی۔ ان لہروں میں موت کا خوف ہے۔ یہ لہریں ٹھیک میرے رنگ کی طرح سیاہ ہیں۔ جس طرح سب جہازی ان سیاہ لہروں سے خوف کھاتے ہیں ٹھیک اسی طرح دنیا کے لوگ مجھ سے خوف کھاتے ہوں گے۔
اور میناکشی۔۔۔ ہاں۔۔۔ ہاں۔۔۔ وہ بھی مجھ سے خوف کھاتی ہوگی۔۔
اور چاند کی روشنی میں یہ لہریں کتنی دلفریب ہیں۔۔۔ جیسے میناکشی کا چہرہ۔۔۔”
ارے پانڈے جی۔۔ آپ کو کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا۔۔ آپ کی ڈیوٹی کا وقت ہو گیا ہے۔۔
پانڈے نے کوئی بات نہیں کی اور گم سُم اپنی ڈیوٹی پر چلا گیا۔۔ اس کے دل و دماغ میں میناکشی بسی ہوئی تھی۔
چاند کی روشنی میناکشی کے کمرے میں پھیل گئی۔۔ وہ پردہ لگانا بھول گئی تھی۔۔ میناکشی کا سر ونود کے سینے پر تھا۔۔ ونود نے میناکشی کو اپنی بانہوں میں جکڑ لیا اور اسے بے تحاشہ پیار کرنے لگا۔ ونود ایک گورے رنگ کا قدآور نوجوان تھا۔ میناکشی نے خود کو اس کے سپرد کر دیا اور دونوں عشق کی رنگینیوں میں گرفتار ہو گئے۔۔
سیاہ اور سفید لہروں کا ایک دوسرے سے ملن ناممکن ہے۔
ارے پانڈے جی۔۔۔ آپ ڈیوٹی پر آتے ہی سو گئے۔۔
پانڈے ایک دم سے جاگ گیا۔۔ وہ ہانپ رہا تھا۔۔ اس کی آنکھیں نم تھی۔۔۔ کیا سچ میں میناکشی ونود کی بانہوں میں ہوگی؟
نہیں ۔۔۔نہیں۔۔ صرف ایک خواب ہے۔۔۔ خواب سراب۔۔۔۔۔
پانڈے نےچالیس دن اسی اضطرابی کیفیت میں گزارے۔ یہ چالیس دن گویا اس کے لئے چالیس سالوں کے برابر تھے۔ ان دنوں میں پانڈے کی رگ رگ میں میناکشی خون کی طرح گردش کر رہی تھی۔
پانڈے کی منفی سوچ نے میناکشی کو بے وفا قرار دیا تھا۔ پانڈے کو پورا یقین تھا کہ میناکشی کبھی بھی اسکے ساتھ باوفا نہیں ہو سکتی۔
چالیس دن کا طویل فاصلہ بھی ختم ہو گیا۔ آج سبھی جہازی باحفاظت ممبئی واپس لوٹ آئے تھے۔ سب کے چہروں پر اپنے اہل خانہ سے ملنے کی خوشی صاف صاف عیاں تھی، محض پانڈے کا چہرہ اداس تھا۔ وہ اب بھی کسی سوچ میں گم تھا۔
میناکشی بے صبری سے پانڈے کی منتظر تھیں۔ پانڈے گھر میں وارد ہوتے ہی زار و قطار رونے لگا۔ میناکشی پانڈے کو اپنے سینے سے لگانا چاہتی تھی مگر پانڈے کو اس حالت میں دیکھ کر وہ چونک گئی۔ جب اس نے رونے کی وجہ دریافت کی تو پانڈے نے کہا:
” میناکشی۔۔ سچ سچ بولو ان چالیس دنوں میں تم کس سے ملی۔ مجھے بخوبی اس بات کا علم ہے کہ تم مجھ سے پیار نہیں کرتی کیونکہ میں ٹھہرا بد صورت اور تم میرے مقابل بہت خوبصورت ہو۔”
” کیا ہوا آپ کو۔۔۔ آپ میرے بھگوان ہیں۔۔ آپ بے وجہ مجھ پر شک کرنا بند کریں۔۔ میناکشی آپ کی ہے اور ہمیشہ آپ کی ہی رہے گی” میناکشی نے پرنم آنکھوں سے جواب دیا۔
میناکشی کے یہ قیمتی آنسو بے سود ثابت ہوئے کیونکہ وہ پانڈے کے دل پر کوئی اثر چھوڑنے میں ناکام ثابت ہوئے ۔ پانڈے نے یہ بات طے کر لی تھی کہ میناکشی سے شادی کرنا اس کی زندگی کی سب سے بڑی بھول تھی۔ پانڈے نے اس بات کا بھی عزم کر لیا کہ وہ میناکشی سے ازدواجی رشتہ برقرار نہیں رکھ سکے گا اور اگلے دن پانڈے نے میناکشی کو صبح کی پہلی ٹرین سے میکے کی جانب روانہ کیا۔
ممبئی کے فلیٹ میں اب پانڈے تن تنہا تھا۔ وہ شادی کے اس رشتے سے اکتا چکا تھا حالانکہ میناکشی کی بے وفائی کا کوئی واضح ثبوت پانڈے کو میسر نہ ہو سکا۔ پانڈے دن رات اسی تذبذب کا شکار تھا کہ میناکشی کا کوئی پرانا عاشق ضرور ہوگا جس پر میناکشی دل و جان سے فریفتہ ہوگی اور پانڈے کی پیٹ پیچھے وہ اس عاشق سے عشق لڑاتی ہوگی۔
جہاز اگلے سفر کے لیے بندرگاہ پر تیار کھڑا تھا۔ جہاز کی رسیوں کو دھیرے دھیرے کھولا گیا اور پانڈے ایک اور سفر کے لئے جہاز کے ساتھ روانہ ہوا۔ پانڈے کی منفی سوچ نے اس کی صحت پر کافی گہرا اثر چھوڑا تھا۔ وہ دن میں چالیس پچاس سگریٹ پھونکتا تھا اور رات دن میناکشی اور اس کے نامعلوم عاشق کی کہانیاں گڑنے میں مصروف رہتا۔ وہ آئے دن نت نئی کہانیوں کی تخلیق کرتا جن کا موضوع میناکشی کی بے وفائی کے سوا کچھ نہ ہوتا۔ پانڈے کی ذہنی الجھن نے اس کی نظر میں حاصل شدہ حقیقت کو بھی لاحاصل بنا دیا تھا۔
جہاز سمندر کی موجوں میں اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھا۔ پانڈے نے پھر سے جہاز کے عقبی عرشے پر سگریٹ سلگایا۔ پانڈے لمبے لمبے کش لے رہا تھا۔ اس کو لگا کہ سگریٹ کا دھواں بھی اسی کی طرح سیاہ ہے۔۔ سمندر کی لہریں بھی سیاہ ہیں۔۔ پانڈے بھی۔۔۔ سگریٹ کا دھواں بھی۔۔۔ پانڈے کو محسوس ہوا کہ رات کی تاریکی میں سیاہ لہریں اسے گھور رہی ہیں۔۔ شاید وہ پانڈے کو اپنے اندر جذب کرنا چاہتی تھیں۔۔ اس نے عقبی عرشے کی ریلنگ پر ہاتھ رکھا اور نیچے جھکا۔ سمندر کی سیاہ لہریں کسی بھوکے اژدھے کی طرح منہ کھولے اسے بلا رہی تھیں۔ اسے ان لہروں میں اپنی ہی رنگت، اپنی ہی تنہائی اور اپنا ہی وہم رقص کرتا دکھائی دیا۔
پانڈے سمندر کی سیاہ لہروں کی آغوش میں تھا۔۔ آج رنگ سے رنگ مل گیا تھا۔۔ پانڈے کی آنکھوں کے سامنے میناکشی کا خوبصورت چہرہ تھا۔ میناکشی اسے اپنے سینے سے لگانا چاہتی تھی۔ میناکشی پانڈے کو اپنی اور کھینچ رہی تھی جبکہ پانڈے سمندر کی سیاہ لہروں کی گرفت میں تھا۔ میناکشی نے نمناک آنکھوں سے کہا:
” پانڈے جی۔۔۔ آپ میرے بھگوان ہیں۔۔ نہ میرا کوئی عاشق تھا اور نہ ہے۔۔ میں نے آپ کو دل و جان سے چاہا ہے۔۔ میں بے وفا نہیں ہوں”
پانڈے نے ایک زوردار قہقہہ لگایا اور کہا:
” میناکشی تم جھوٹ بولتی ہو۔۔۔۔ مجھے معلوم ہے تم نے مجھے کبھی اپنا پتی مانا ہی نہیں۔۔ تم نے محض دولت کی خاطر مجھ جیسے بدصورت لڑکے سے شادی کی۔۔ دیکھو آج سمندر کی سیاہ لہروں نے مجھے کس سکون سے اپنی تحویل میں لیا ہے۔۔ مجھے ان لہروں سے محبت ہے۔۔ اب تا قیامت میں ان سیاہ لہروں کی پناہ میں رہوں گا”۔
���
اکنگام، انت ناگ
موبائل نمبر؛9419041002