نئی دہلی//عدالت عظمیٰ نے سوموار کو مرکزاوردیگر سے ایک عرضی پرجوابات طلب کئے جس میں سوشل میڈیا جیسے فیس بک اور ٹوئٹر کوباضابطہ بنانے اورانہیں نفرت انگیزتقاریراور من گھڑت خبریں پھیلانے کیلئے ذمہ دار بنانے کیلئے قانون بنانے کی درخواست کی گئی ہے ۔چیف جسٹس،جسٹس ایس اے بوبڈے اورجسٹس اے ایس بوپنا اوروی راما سبھرامنیم پر مشتمل بنچ نے مرکزاوردیگر متعلقین کے نام نوٹس جاری کئے اور اِسے ایک زیرالتواء عرضی کے ساتھ نتھی کردیاجس میں میڈیاٹریبونل بنانے کوکہاگیاہے تاکہ میڈیا،چینلوں اورنیٹ ورکوں کے خلاف شکایات پر حکم سنایاجاسکے۔عدالت عظمیٰ ایڈوکیٹ ونیت جندل کی عرضی کی سماعت کررہی تھی جس میں مرکز کو اُن لوگوں کے خلاف قانون بنانے کی ہدایت دینے کوکہاگیاتھا ،جو سوشل میڈیا پرمن گھڑت خبریں اور نفرت آمیزتقاریر پھیلانے میں ملوث ہوں۔عرضی میں حکام کو ہدایت دینے کی بھی درخواست کی گئی ہے تاکہ وہ جعلی خبروں اور نفرت آمیزتقاریر کوخودکارطریقہ پرکم سے کم وقت میں ہٹاسکیں ۔ اس میں کہا گیا کہ تقریراوراظہار رائے کی آزادی ایک پیچیدہ حق ہے کیوں کہ ان پر مناسب پابندیوں عائد کی جاسکتی ہیں اوریہ غیرمشروط نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ خاص فرائض اورذمہ داریاں ہیں ۔ عرضی میں کہاگیا ہے کہ سوشل میڈیا کی پہنچ روایتی میڈیا سے زیادہ وسیع ہے اوراس میں ملک میں کئی فرقہ وارانہ تشددکے واقعات کاحوالہ بھی دیاگیاہے جہاں سوشل میڈیا کاغلط استعمال کیاگیا۔25جنوری کوعدالت عظمیٰ نے مرکز ،پریس کونسل آف انڈیا اور نیوز براڈ کاسٹرس ایسوسی ایشن سے ایک الگ مفاد عامہ کی عرضی پرجوابات طلب کئے جس میں میڈیا ٹریبونل قائم کرنے کی درخواست کی گئی ہے تاکہ میڈیا،چینلوں اور نیٹ ورکوں کے کلاف شکایات کی سماعت کی جاسکے۔عرضی میں کہا گیا ہے کہ میڈیاخاص طور سے الیکٹرانک ایک متمرد گھوڑے کی طرح ہے جس پر لگام کسنے کی ضرورت ہے ۔ عرضی میں ایک آزادکمیٹی تشکیل دینے کو بھی کہاگیا ہے جس کی سربراہی ملک کے سابق چیف جسٹس یا عدالت عظمیٰ کے جج کریں گے جو میڈیاتجارت سے وابستہ پورے قانونی نظام کا جائزہ لیں اورضوابط کوتجویز کرے۔عدالت عظمیٰ نے وزارت اطلاعات ونشریات،پریس کونسل آف انڈیا اور نیوزبراڈکاسٹرس ایسوسی ایشن کے علاوہ نیوزبراڈکاسٹرس فیڈریشن اور نیوزبراڈکاسٹرس اسٹینداڑڈاتھارٹی کو فلمسازنیلیش نوالکھااورسول انجینئرنتن میمانے کی مفاد عامہ کی عرضی پرنوٹس جاری کئے ۔