منڈی//گزشتہ ماہ کی اکیس تاریخ کو کنوئیاںبھینچ کے مقام پر لقمہ اجل بننے والے اتولی کے نوجوان فردوس احمد کے رشتہ داروںنے منڈی میں پولیس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیاکہ اسے قتل کیاگیا اوراس کی موت سڑک حادثے میں نہیں ہوئی ۔مظاہرین نے منڈی پل کو دو گھنٹے تک بند کر کے ٹریفک کی نقل و حرکت کو روک کر پولیس کے خلاف شدید احتجاج کیا ۔اس احتجاج کی وجہ سے منڈی پونچھ روڈپر گاڑیوں کی آمدو رفت بھی مسدود رہی ۔تاہم بعد ازآں ڈی وائی ایس پی ہیڈ کوارٹر پونچھ شاہد نعیم نے مظاہرین کو اس کیس میں مزید تحقیقات کرکے انہیں انصاف دلایاجائے گاجس کیلئے وہ ایک ہفتے کی مہلت دیں ۔فردوس کے بڑے بھائی نے اس حوالے سے کشمیرعظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بھائی کا قتل کیا گیا ہے جس کو پولیس ایک سڑک حادثہ بتا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فردوس پونچھ آئی ٹی آئی میں زیر تعلیم تھاجوپونچھ سے سیڑی خواجہ کی طرف موٹر سائیکل پر جا رہا تھااوراس کے ہمراہ اس کے دو دوست شبیر احمد ولد عبدالمجید ساکنہ سیڑی ملان وثقلین مشتاق ولد مشتاق احمد ساکنہ کھنیتر بھی موٹرسائیکل پر سوار تھے ۔انہوںنے سوال کیاکہ اگر فردوس کی موت سڑک حادثہ کی وجہ سے ہو ئی تو اس کے دو دوست بھی اسی موٹر سائیکل پر سوار تھے ،انہیں کیوں کوئی گزند نہیں پہنچی ۔انہوںنے الزام عائد کیاکہ ان کے بھائی کا قتل کیاگیاہے اور پولیس اس کو حادثہ بتلاکر ملوثین کو بچارہی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ بیس روز سے وہ پولیس اسٹیشن پونچھ کے چکر لگا لگا کر تھک گئے مگر پولیس اس معاملے میں کوئی پیش رفت نہیں کر رہی۔ ایس ایس پی پونچھ راجیو پانڈے نے رابطہ کرنے پر بتایاکہ پولیس نے اس معاملے میں تحقیقات کی جس سے یہ پتہ چلا کہ فردوس کی موت سڑک حادثے میں ہوئی ہے۔