شیخ عابد حسین،کشتواڑ
نشہ پِلا کے گِرانا تو سب کو آتا ہے
مزا تو جب ہے کہ گِرتوں کو تھام لے ساقی
(علامہ ؔاقبالؒ)
نوجوان نسل کسی بھی قوم کی ترقی میں کلیدی و درخشاں کردار ادا کرتی ہے۔نوجوان ازل سے ہی مستقبل کے معمار رہے ہیں۔جب نوجوانوں کے اندر غیرتِ شبیری جاگتی ہے تو وہ بڑے سے بڑے ظالم و جابر کے روبرو بھی کلمہ حق بلند کئے دیتے ہیں۔نوجوانوں کے گرم خون و دہکتے ولولے کی وجہ سے ہی تو قوموں نے غلامی کی زنجیروں کو پگھلا کر اپنے لئے آزادی کا سنہری ہار بنایا ہے۔روس ہو، امریکہ ہو یا پھر قدیم یونان ہو، اپنے نوجوانوں کی بدولت ہی یہ ممالک دنیا میں اوجِ کمال تک پہنچے ہیں۔نوجوان اگر چاہیں تو سکندرِ اعظم بن کر پوری دنیا پہ اپنا پرچم لہرا دیں اور نوجوان گر چاہیں تو عباس ؑ کی طرح حق کیلئے اپنا سب کچھ لٹا دیں۔چمن میں مہکتے ہوئے گل نوجوان ہی ہیں اور گر یہی مہکتے ہوئے گل کسی دن بہکتے ہوئے کانٹے کا روپ دھار لیں تو ایسا معاشرہ تباہی، فرسودگی و بربادی کی جانب رواں ہو جاتا ہے۔نوجوان گر مردِ مومن بن جائے تو پوری ملت کی زندگیاں سنور جائیں اور گر یہی نوجوان ابلیس کی روش اپنا لے تو خلق خدا کے لیے زندگی اذیت ناک موت سے بھی بدتر بنا دے۔کیچڑ اسی پہ پھینکے کی کوشش کی جاتی ہے کہ جسکا لباس سب سے اجلا، نفیس اور پاک دامن ہو،چونکہ جوانی کے دنوں میں ہی انسان کی صلاحیتیں و قابلیتیں ثریا کی بلندیوں کو چھو رہی ہوتی ہے، اسی لئے شیطانی کرداروں کی ہمیشہ یہی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح رہ نوردوں کو حق کی راہ سے گمراہ کر کے باطل کا پیروکار بنا دیا جائے اور اپنے منفی مقاصد کو پورا کرنے کیلئے باطل منشیات کا سہارا لیتے ہیں اور منشیات ہر طرح سے ایمان، اخلاق، کردار، ضمیر،تعلقات، خواب، ہوش و حواس کیلئے زہر قاتل ہیں۔
جوانی کا دور ہی کچھ الگ سا ہوتا ہے،کسی کو چاند کو چھونے کی خواہش تو کسی کو کہکشاں کی وسعتوں کو اُجاگر کرنے کی آرزو ہوتی ہے۔کوئی آسماں کی بلندیوں میں پرواز کرنا چاہتا ہے تو کوئی سمندروں کا سینہ چیرنا چاہتا ہے، کوئی بلبل کی طرح ساز بکھیرنا چاہتا ہے تو کوئی فصلوں کی طرح اپنی مستی میں لہرانا چاہتا ہے۔ہر کوئی اپنے آپ کو آئینے میں بہترین اور کامل دیکھتا ہے۔کسی کے ساتھ معمولی سا بھی غیر متوقع واقع پیش آئے تو دنیا سے اسکا اعتبار اٹھ جاتا ہے، اللہ رب العزت کی ذات سے شکوے و شکایات شروع کر دیتا ہے، تسلیم و رضا کی تسبیح ہاتھ سے گرا دیتا ہے اور عین اُسی وقت شیطان کے گندے نوکیلے پنجے اسے آ دبوچتے ہیں، اسے منشیات کے دلدل میں کھینچ کے لے جاتے ہیں جہاں سے نکلنا انتہائی کٹھن کام ہے۔منشیات سے اول اول تو کچھ سکون ملتا ہے پر یہ پل بھر کا سکون صدیوں کی بے سکونی کا باعث بنتا ہے۔منشیات کا جنگل ہے ہی اس قدر ویران اور خونخوار کہ اس جنگل کے درندے انسان سے اسکے رشتے، اسکے احساسات، اسکے جذبات، اسکے پاک خیالات و اسکے نظریات سب چھین لیتے ہیں اور انسان محض ایک زندہ نعش کے طور پر جینا شروع کر دیتا ہے جو کہ اسکے اعزا و اقارب کیلئے حشر سے کسی طور کم نہیں ہوتا۔
منشیات ہر روپ میں دیمک کی مانند ہیں اور یہ دیمک ایسا دیمک ہے کہ اگر اس کو ذرا سا بھی پروان چڑھایا جائے، یہ جسم کی تمام تر صلاحیتوں و قابلیتوں کو چاٹ کر ختم کر جاتا ہے۔کبھی ذہن کو مفلوج کر دیتا ہے تو کبھی دل کے دورے کا باعث بنتا ہے۔یہی دیمک جسم کے خلیات کی بے ترتیب نشوونما کرتا ہے اور کینسر جیسے خطرناک مرض میں مبتلا کرا دیتا ہے،ازدواجی زندگی ہو یا سماجی زندگی منشیات کے استعمال سے ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے۔منشیات کے عادی اشخاص اچھے اور برے میں تمیز روا نہیں رکھ پاتے اور یوں انکے افعال درندگی کی انتہا تک پہنچ جاتے ہیں جو کہ پوری انسانیت کیلئے تکلیف کا سبب بنتے ہیں۔منشیات کے عادی لوگ تکلیف زیادہ انہی کو ہی پہنچاتے ہیں جن کے لیے وہ سب سے زیادہ عزیز ہوتے ہیں۔نشہ ویسے ہے کیا کہ ہمارے جسم کے نیورانز کسی ایک خاص شے کے عادی ہو جاتے ہیں اور جب تک انہیں وہ شے نہیں ملتی ،وہ پر سکون نہیں ہو پاتے اور اسی شے کو حاصل کرنے کیلئے منشیات کا عادی شخص ہر حد کو پار کر دیتا ہے، جس سے وہ معاشرے کیلئے زہریلے بچھو سے بھی زیادہ خطرناک ہو جاتا ہے،وہ انسان جس کی خوبصورتی پہ ساری دنیا کی خوبروی رشک کیا کرتی تھی ،منشیات کے استعمال کے بعد اسی انسان کی جانب دیکھ کر ہی خوف و رنج محسوس ہوتا ہے کیونکہ منشیات خوشیوں کا گھلا گھونٹ دیتی ہے۔
غم کسے نہیں ہے؟ بے سکونی کسے نہیں ہے؟ ناکامی کسے نہیں ہوئی ہے؟ یہ دنیا ہے،جنت نہیں۔آدم کو اسی لیے جنت سے دنیا میں سزا کے لیے بھیجا گیا تھا کہ وہ دنیا کی اذیتیں خندہ پیشانی سے برداشت کر سکے۔آسائشیں تو جنت میں تھیں،دنیا میں مشکل بھی آئے گی، غمِ روزگار بھی ہو گا، فراق کا درد بھی ہو گا، ہجر کا رنج بھی ہو گا، اپنوں کو کھونے کا غم بھی ہو گا، طعنے و ملامتیں بھی سننے کو ملیں گی،اپنوں میں چھپے غیر بھی سامنے آئیں گے، خواہشی حسرت کا روپ بھی لیں گی اور مایوسیاں بھی آ گھیریں گی ،اسکا یہ مطلب تو نہیں کہ کمزور بن جائیں اور منشیات کا استعمال شروع کر کے ہر پریشانی سے منہ پھیر لیں۔یقین جانیے! پریشانی اسوقت تک آپکا پیچھا نہیں چھوڑتی، جب تک آپ اللہ رب العزت پہ توکل رکھ کر اسکا سامنا نہیں کرتے۔کیوں نہ ہم نوجوان منشیات کے استعمال کے بجائے خدا رب العزت کے آگے سجدہ ریز ہوں اور اس سے نصرت و مدد مانگیں تاکہ ہم زندگی میں پیش آنے والے نا خوشگوار معاملات کا جوانمردی سے سامنا کریں اور انہی ناخوشگوار معاملات کو خوشگوار لمحات میں تبدیل کر دیں۔کسی چیز کے رعب کو دیکھ کر منہ چھپانا سب سے بڑی ذلت ہے اور اسی رعب کے آگے کلمہِ حق بلند کرنا سب سے بڑی ہمت و عزت ہے۔اللہ رب العزت ہم سب کو منشیات جیسی برائی سے محفوظ رکھے اور اس برائی کو حق کی تلوار کے ساتھ جڑ سے ہمیشہ کیلئے کاٹنے کی توفیق دے۔آمین!
حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتا
ٹوٹے بھی جو تارا تو زمیں پر نہیں گرتا
گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا
لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا
(قتیلؔ شفائی)
[email protected]>