راجوری //محکمہ دیہی ترقی ویسے تو ترقی کے کاموں کے بڑے دعوے کرتے ہیں لیکن زمینی سطح پر دیکھا جائے تو ان کے کام پچاس فیصد بھی نہیں ہوتے۔ منجاکوٹ میں دیکھا جائے تو ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے لگ بھگ تین کروڑ روپے کے کاموں کو زمینی سطح پر شکل دی گئی ہے۔جس کی ابھی تک غریب لوگوں کو ادائیگی نہیں کی گئی جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ محکمہ ان غریب لوگوں کا پیسہ کہیں غلط جگہ پر استعمال کر رہے ہیں۔ آج سے لگ بھگ بیس سال قبل بی ڈی آو دفتر کے سامنے سریا پڑا ہوا ہے لیکن ڈیپارٹمنٹ والوں نے اس سریا کو غریب لوگوں کے کاموں کے لئے دینے کی زحمت نہیں سمجھی۔حالانکہ گورنمنٹ کی طرف سے سریا زمینی سطح پر چل رہے ترقیاتی کاموں کے لئے آتا ہے۔ وہیں اگر دیکھا جائے منجاکوٹ میں دفتر کے بالکل سامنے والے بورڈ بھی پڑے ہوئے ہیں۔لیکن محکمہ نے ان بورڈوں کو مناسب جگہ پر لگانا بہتر نہیں سمجھا۔سال 2000 میں دہری دہاڑہ کے لیے ماڈرن گاوں کے نام پر ایک بورڈ آیا تھا۔ جس کی قیمت لگ بھگ ا یک لاکھ سے زیادہ بتائی جا رہی ہے جو ابھی تک بھی بی ڈی آو دفتر کے سامنے پڑا ہوا ہیجواس کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیپارٹمنٹ صرف کمیشن کے لیے ہی بورڈ منگواتے ہیں۔مقامی لوگوں کاکہناہے آخر ایسا کب تک چلے گا۔کیا محکمہ ایسی حرکتوں سے باز آئے گایاکہ نہیں۔ اس پر لوگوں نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہمحکمہ کو مال ہڑپنے کے بجائے زمینی سطح پر چل رہے ترقیاتی کاموں کو ترجیح دینی چاہیے۔