علم وادب کا گلشن مطالعہ ‘مکالمہ اور ذہانت کے پھولوں سے مہکتارہتا ہے۔کئی لوگ مطالعہ کرنے کااچھا ذوق رکھتے ہیں لیکن تحریر ی طور پر کچھ بھی نہیں کرتے ۔اسی طرح کئی لوگ توایسے بھی ہیں جو لکھتے رہتے ہیں لیکن مطالعہ کرنے سے جی چراتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ مطالعہ لکھنے کی غذا کے مترادف ہے کیونکہ پھر تحریر میں یکسانیت کے بجائے نیاپن اور تازگی آتی ہے۔کتاب’’مقالات حمادانجمؔ‘‘کے مطالعے سے ظاہر ہے کہ ان مقالات میں ایک صاحب علم کا سنجیدہ مطالعہ‘فکری مکالمہ اور ذہانت کی خوشبو ‘ قاری کے ذہن کو فکری تازگی سے مہکاتی ہے۔حماد انجمؔ (۱۹۵۶ء-۲۰۱۵ء) ایک قادرالکلام شاعر بھی تھے اور صاحب بصیرت نثر نگار بھی۔ نعت گوئی‘غزل گوئی اوررباعی کے فن پر استادانہ نظر رکھتے تھے اور نثر میں پیش نظر کتاب’’مقالات حمادانجم‘‘(مرتب:ڈاکٹر شمس کمال انجم)کے مضامین سے ان کے ذوق مطالعہ ، موجِ فکراورتحریری صلاحیت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔حماد انجم اگرچہ بنیادی طور پر وکالت کے پیشہ سے منسلک تھے تاہم گھر کے علمی وادبی ماحول اور اپنی ذہانت وفطانت سے شعرگوئی اور نثرنگاری میں ماہرانہ عبوررکھتے تھے۔ان کے خاندان کے علمی وادبی ماحول کو دیکھ کر فارسی مثل یاد آتی ہے کہ’’ایں خانہ ہمہ آفتاب است‘‘۔آپ کے والدمحترم مولانا ڈاکٹر ابوالمآثر حامد الانصاری انجمؔ ایک عالم دین‘ خطیب‘ ادیب اور شاعر تھے۔700صفحات پر مشتمل ان کاکلام’’کلیات انجم‘‘ کے نام سے شائع ہوا ہے۔ حمادانجم کے ایک بھائی سہیل انجم معروف صحافی ہیں جبکہ دوسرے بھائی ڈاکٹر شمس کمال انجم شعبہ عربی (بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری )میں استاد ہیں۔ادیب ‘شاعر اور مترجم بھی ہیں۔اس طرح سے اس خاندان کے افراد علم وادب کے انجم نظر آتے ہیں۔
علم وادب کی تحصیل اور ترسیل میں ڈگریوں سے زیادہ خدادادصلاحیت ہی کام آتی ہے۔اس کا اندازہ پیش نظر کتاب کے مضامین کے معیار اور معنویت سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔سائنس اور قانون کی تعلیم سے آراستہ ہونے کے باوجود حماد انجم کی شاعری اور مقالات سے ان کی ذہانت اور فطانت کا بخوبی علم ہوجاتا ہے۔ان کی قابلیت اور شاعری کی تعریف کرتے ہوئے ابن احمد نقوی(نئی دہلی)فرماتے ہیں:
’’ جناب حماد انجم اپنے گرامی مرتبت والد کی فنی وفکری وراثت کے امین بن کر دیارسخن وری میں وارد ہوئے ہیں۔ ان کا زیر نظر
مجموعۂ کلام(شاخ گلِ تر)ان کے فن کی پختگی اور فکر کی گہرائی کا پتہ دیتا ہے۔ویسے ان کے کلام میں میرؔوغالبؔ‘اقبالؔ‘
فضا ؔابن فیضی‘فیضؔ‘فرازؔ اور پروین شاکرؔ کے فن اورفکر کا عکس نمایاں ہے۔ غالبؔ کی زمین میں انہوں نے جو غزلیں کہی ہیں
وہ ان کی قادرالکلامی کو ظاہر کرتی ہیں۔ ان کے ہاں جدید لب ولہجہ بھی ہے۔نئے قافیے اور نئی ترکیبیں استعمال کی ہیں۔‘‘
(مقالات حماد انجم۔ص:78)
پیش نظر کتاب کے مقالات متنوع موضوعات کے حامل ہیں‘جن میں’’ حمد‘نعت ‘تاریخ اورفن‘‘’’ اصلاح کلام‘ضرورت ‘اہمیت طریقہ کار‘‘ ’’ آمد اور آورد کی بات‘‘ مجروح سلطان پوری: ترقی پسند غزل کا اولین شاعر‘‘’’عامر عثمانی:سودائے کوئے جاناں کا شاعر‘‘’’ چہ بے خبر ز کلام ومقام اقبالؔ است‘‘’’ رباعی کافن اور رباعی گوئی‘‘’’تبصرہ مقدمہ صنف رباعی‘‘’’ ڈاکٹر فرید پربتی کی مختلف جہات سیربینی‘‘’’ سلیم ساغر کی رباعی نگاری‘‘ ’’کوثرصدیقی کی رباعی نمائیاں‘‘’’ ستیہ پال آنند کی نثری نظمیں‘‘’’ روایت‘ ترقی پسندی ‘جدیدیت‘مابعدجدیدیت اور شاعری کا جدیداسلوب۔۔۔ایک مکالمہ‘‘ نئی نسل ‘فن شاعری‘برتاؤ اور امکانات ‘‘’’ایک کولمبس شاعر اپنی سوچ کے جزیرے میں‘‘’’حبیب سیفی کی شعری تازگی‘‘’’سرداروں کی شاعری‘‘’’مولانا حامدالانصاری انجم‘حیات اور شاعری‘‘وغیرہ جیسے عنوان کی حامل مشمولات شامل ہیں۔یہ میں نے کتاب کے مضامین میں ’’مشتے نمونہ از خروارے‘‘کی مثل لکھ دیا۔
کسی بھی مضمون یا کتاب کا مطالعہ جب قاری کی سوچ کو متاثر کرے اور معلومات میںاضافہ ثابت ہوجائے تو اس قلم کار کی ذہانت قابل تحسین بن جاتی ہے۔ پیش نظر کتاب کی مشمولات کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں کسی بھی موضوع پر گھسی پٹی باتیں نہیں دہرائی گئی ہیں بلکہ ایک باشعور ادیب کی ادب فہمی اور تفہیمی بصیرت واضح طورپر سامنے آتی ہے۔ اس تعلق سے کئی مضامین پر بات ہوسکتی ہے تاہم اختصار کے ساتھ چند مضامین تک بات محدود رکھی جائے گی۔ان مضامین میں خیالات کی تازگی اور اسلوب میں دلنشیں تاثیر ہے۔جملوں کی ساخت میں معیاری پن ہے اور خیالات میں استفہامیہ لہجہ اور دانشورانہ فکر صاف جھلکتی ہے اور ساتھ ہی کئی مضامین محققانہ فکرونظر سے بھی مزین ہیں۔ اردو میں حمد ونعت کے تاریخی اور فنی موضوع پر محققانہ فکرونظر سے مضمون’’ حمد ونعت‘تاریخ اورفن‘‘ اور ’’سوالنامہ برائے ماہنامہ شاعر۔۔۔حمد ونعت نمبر‘‘ میںاظہار خیال کیا گیا ہے۔ان تحریرات کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ان میں اردو میں تحریر شدہ حمد ونعت پر کہیں کہیں ناقدانہ نظر بھی دوڑائی گئی ہے اور مثالوں کے ساتھ اپنے موقف کی صراحت کی گئی ہے اور لکھا گیا ہے کہ:
’’اتنی وسعت اور پھیلاؤ ‘رنگارنگی اور گوناگونی کے باوجود حمد نگاری کی بھی اپنی Limitaionsضروری ہیں۔ اللہ کی ذات
وصفات میں شرک کا شائبہ شامل نہ ہو‘ اس کی بزرگی‘ بڑائی ‘عظمت وکبریائی پہ حرف نہ آئے ۔‘‘(ص: 87)
ادبی مضامین پر توجہ دیں تو کتاب میں کئی فن پاروں ‘اصناف شعر اور شاعروں کے علاوہ مجموعوں پر توجہ طلب نگارشات دیکھنے کو ملتی ہیں۔آج کل بیشترلکھنے والے عجلت پسندی کے شکار نظر آتے ہیں ‘ابھی یہ بھی پتہ نہیں ہوتا کہ جو تحریر شعر یا افسانہ کے فنی اور ہیئتی لوازمات پر کھرا اترتی بھی ہے کہ نہیں ‘بس سوشل میڈیا پرپوسٹ کردی جاتی ہے اور واہ واہ ‘بہت خوب کے کمنٹس دیکھ کر لکھنے والا پھولے نہیں سماتا ہے۔کتاب کے ایک اہم مضمون’’اصلاح کلام۔۔۔۔ضرورت ‘اہمیت اور طریقۂ کار‘‘ میں تحقیقی اور اصلاحی نقطہ نگاہ سے شعر وسخن میں اصلاح اور تربیت کی اہمیت اور افادیت پر عمدہ گفتگو ہوئی ہے۔ اصلاح کی اہمیت کوخوبصورت پیرائیہ میںبیان کیا گیا ہے:
’’ اصلاح سے ہر شے میں نکھارآتی ہے۔قبح میں تخفیف اور حسن میں اضافہ ہوتا ہے۔ بد صورتی ختم ہوتی ہے۔ خوب صورتی
پیدا ہوتی ہے۔ نقائص وعیوب زائل ہوجاتے ہیں اور ہنراجاگر ہوتے ہیں۔ اصلاح ایک فطری عمل ہے جو ہرتحقیق‘ہرفن
ہرتعمیر اور ہرتصویر کو خوب سے خوب اور بہتر سے بہتر بنانے کے کام آتا ہے۔‘‘(ص:99 )
اصلاح سخن کے تعلق سے کئی اشعار کے علاوہ مجروح سلطان پوری کا مشہور زمانہ شعر کی مثال بھی پیش کی گئی جس میں مجروح کے کسی دوست نے انہیں یہ مشورہ دیا تھا کہ دوسرے مصرعے میں ’’غیر‘‘ کی جگہ’’لوگ‘‘ لکھیں تو ہم بھی دیکھتے ہیں کہ اس ایک لفظ سے شعر کہاں سے کہاں تک پہنچ گیاہے:
میں اکیلے ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
شاعری میں آمد اور آورد کی بحثیں ہمیشہ سے ہوتی رہتی ہیں۔مضمون’’آمد اور آورد‘‘میں اسی نوعیت کی بحث کو معنی خیز انداز سے موضوع بنایا گیا ہے اور اشعار کے ساتھ اپنی بات کو متوازن بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔آمداورآورد کی توضیح کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ:
’’آمد‘ خلاقیت کی وہ خاص کیفیت ہوتی ہے جس میں مضمون الہام کی طرح بیساختہ تخلیق پہ اترتا ہے۔تخلیق کی ایک رو ہوتی
ہے جو غیب سے بلاتکلف ذہن میں مضامین کو گویا القا کرتی ہے۔قلمکار بے لاگ فریضۂ لوح وقلم اداکرتے ہوئے
گذرجاتاہے۔آمد کسی جملے کا نہیں بلکہ طبیعت کی مکمل آمادگی کی حالت کا نام ہے اسی طرح آورد بھی کوئی سانچہ یا پیمانہ نہیں
ہوتا ۔یہ بھی ایک حالت تخلیق ہوتی ہے ۔آمد میں مضمون کی تخلیق برجستہ ہوتی ہے جب کہ آورد کی کیفیت کو بالقصد طاری کرنا
پڑتا ہے۔آمد کا نزول صرف شاعری ہی میں نہیں ہوتا بلکہ نثر میں بھی آمد ہوتی ہے علی ہذا القیاس نثری نظم میں بھی آمد کی جلوہ
گری دیکھی جاسکتی ہے۔‘‘(ص:106)
دراصل ایسے موضوعات پر وہی انسان صحیح ڈھنگ سے لکھ سکتا ہے جو خود ان تجربات سے گذرا ہو‘ اس لئے یہ مضمون اس وجہ سے بھی اپنا اچھا تاثر چھوڑ جاتا ہے کیونکہ لکھنے والا خود بھی شعری تجربات یا آمد وآورد کی کیفیات سے گزرا ہے۔جیسا کہ لکھتے ہیں:
’’ میں خود بھی آمد اور آورد کی کیفیت سے دوچار ہوتاہوں۔ کبھی اشعار شبنم کے قطرہ کی طرح برس جاتے ہیں ۔کبھی بادل چھا جاتے ہیں مگر بارش نہیں ہوتی۔ گھنٹوں کا وظیفہ اور ریاضت بے کار جاتی ہے۔‘‘(ص:107)
علّامہ اقبالؔ کی شخصیت اور کلام کو جہاں ایک طرف خوب سراہا جاتا ہے وہاں دوسری جانب چند لوگ اس معاملہ میںمنفی فکر کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں۔اس تعلق سے کتاب کا ایک مضمون’’ چہ بے خبر ز کلام ومقام اقبالؔ است ‘‘دانشورانہ گفتگو کا مظہر ہے۔ اس میں انورشیخ کی کتاب’’ فکراقبال پرایک تنقیدی نظر‘‘ کو موضوع بنایاگیا ہے اورکتاب میں پیش ہوئے خیالات کو رد کرتے ہوئے اقبالؔ کو پڑھنے ‘سمجھنے اور اس پر قلم اٹھانے کے بارے میں اہم بات کہی گئی ہے کہ:
’’اقبالؔ کا ایک مخصوص لب ولہجہ اور ان کی ایک منفرد فکر ہے۔اقبالؔ پر لکھنے کے لئے قلم پکڑنے کا سلیقہ سیکھ لیناچاہئے۔
ذہن وفکر کے شیشے کوصاف کرکے بالکل خالی الذہن اور غیر جانب دار ہوکر ہی کسی کے بارے میں کوئی رائے قائم
کی جانی چاہئے۔لیکن یہاں تو معاملہ ہی الٹا ہے جب صاحب مضمون کا ذہن اقبالؔ کے تعلق سے کبھی صاف نہیں رہا
بلکہ ہمیشہ اقبالؔکو’’شک‘‘ کی نظرسے دیکھا تو ظاہر ہے کہ نتیجہ بھی’’ مشکوک‘‘ ہی برآمد ہوگا۔‘‘(ص:163)
شاعری میں رباعی گوئی کے لئے فن عروض پر گہری نظر ہونی چاہئے کیونکہ اس کے چارہی مصرعوں میں ایک جہان معنی کو سمونا ہوتا ہے۔عام طور پر رباعی کے 24اوزان مستند مانے جاتے ہیں ۔مقالہ نگار چونکہ خود بھی رباعی گوئی میں ایک نام رکھتے ہیں اس لئے شامل کتاب مضامین مضمون’’ رباعی کافن اور رباعی گوئی‘‘اور’’ اردو رباعی :چند ملاحظات ‘‘میں اس صنف کے تحقیقی‘ فنی اور موضوعاتی پہلوؤں پر ماہرانہ اظہارخیال کیا گیا ہے۔جس دوران کئی اہم رباعی گو شعرا ء جوش ملیح آبادی‘ فراق گورکھپوری‘ڈاکٹر فرید پربتی وغیرہ کی رباعی گوئی پر بھی گفتگو ہوئی ہے۔رباعی کے موضوعات کااحاطہ کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ:
’’ رباعی کا موضوع حسن وعشق ‘تصوف ‘پند ونصائح‘حکمت وموعظت ‘جام وپیمانہ‘ ساقی وخرابات ہیں لیکن ان میں
آشوب دہر ‘حالات حاضرہ‘سیاست اور عالمی حالات وکوائف کو بھی سمویا گیا ہے۔‘‘(ص:173)
مجموعی طور پر شامل کتاب مشمولات کا مطالعہ ایک زیرک دماغ ادیب کی عکاسی کرتا ہے اور اس کتاب کی اہمیت اس امر میں پوشیدہ ہے کہ ہر موضوع پر مناسب انداز سے روشنی ڈالی گئی ہے نہ کہ بھرتی کے غیر ضروری مواد سے قاری کو اکتانے کا سامان فراہم کیا گیا ہے۔کتاب ہرادبی قاری کے لئے مفید نظر آتی ہے خصوصاََ کالج اور یونیورسٹی سطح کے طلبہ کی معلومات میں اضافے کاباعث بنے گی ۔
پتہ۔ وڈی پورہ ،ہندوارہ کشمیر۔193221
ای میل۔[email protected]
فو ن نمبر۔7006544358
������