حضرت مفتی فیض الوحید علیہ الرحمہ (ابن مولوی غلام حسین) کی 1964ء میں تحصیل تھنہ مٹڈی ضلع راجوری کے ایک گاؤں دودھاسن بالا میں ولادت ہوئی۔ آپ کی پیدائش کے ٹھیک سترہ (17) دن بعد آپ پر سے آپ کے والد کا سایہ آٹھ گیا اور آپ کو یتیم کا حادثہ برداشت کرنا پڑا۔ ابتدائی تعلیم کے لئے مقامی ہائی اسکول میں داخل ہوئے اور علوم مروجہ کی تعلیم حاصل کی۔ 1927 کو آپ نے تھنہ منڈی میں موجود مدرسہ کاشف العلوم میں شعبہ فارسی میں داخلہ لیا۔ آٹھ ماہ بعد مدرسہ بند ہو گیا تو آپ نے قریب کے ایک گاؤں رہتہال میں امام جامع مسجد حافظ محمد صابر کے پاس ایک پارہ حفظ کیا۔ 1978 میں آپ نے یوپی کا رخ کیا ، وہاں ضلع مظفر نگر کے ایک قصبے کے مدرسہ تعلیم القرآن میں داخلہ لیا۔ 1982 میں آپ نے حفظ و قرآت سے تکمیل پائی۔ 1983 ء میں آپ ڈھائی ماہ تک حضرت مولانا حامد میاں خلیفہ حضرت تھانویؒ کے پاس رہے جہاں آپ نے کچھ پاروں کا دور کیا۔ 1984ء میں آپ نے ضلع غازی آباد کے قصبہ ہاپوڑ کے مدرسہ خادم الاسلام میں عالمیت کے شعبہ میں داخلہ لیا۔ درس نظامی کے آٹھ سالہ نصاب میں سے دو سال کی تکمیل کی۔ 86-1985ء میں دارالعلوم دیوبند میں داخلہ لیا مگر ایک سال چھوڑ کر چوتھے سال میں یعنی تیسرے سال کا مطالعہ کر کے امتحان دیا اور الحمد اللہ چوتھے سال میں داخلہ ہو گیا۔ 91-1990ء میں دارالعلوم دیوبند سے فضیلت کی اور بیانوے ( 92 ) فی صد نمبرات حاصل ہوئے۔ دوسرے سال افتاء میں داخلہ لیا اور 1992 میں افتاء کی تکمیل کی۔ اس کے ساتھ اپ نے جامع اردو علی گڈھ اور کچھ دوسرے پرائیویٹ اداروں میں چند امتحانات پاس کئے جن کی اسناد پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ دینیات سے ایم اے کے پہلے سال کا امتحان پاس کیا۔ جس میں %75 نمبرات آئے ، لیکن کچھ مجبوریوں کی بناء پر آپ فائنل ائیر کا امتحان نہ دے سکے۔ پھر آپ نے جامعہ علی گڈھ ہی کی اسناد پر آگرہ یونیورسٹی سے اردو میں ایم اے مکمل کیا اور اچھے نمبرات حاصل کیے۔
1992ء کے آخر میں آپ میں جموں وارد ہوئے اور یہاں جھلکا محلہ جموں کے مدرسہ اشرف العلوم میں شعبہ عالمیت میں تدریسی خدمات پر مامور ہوئے اور آپ کا ماہانہ وظیفہ ایک ہزار روپیہ مقرر ہوا۔ دو سال تک مدرسہ اشرف العلوم میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ اس دوران یہاں کے صدر مدرس حضرت قاری جمال الدین قاسمی و حافظ نذیر احمد کے ہمراہ ایک اچھے ادارہ کے لئے جگہ کی تلاش کی۔ تلاش بسیار کے بعد بٹھنڈی گاؤں کے لوگوں نے ایک چھوٹا سا قطعہ اراضی مشترکہ اراضی میں سے برائے ادارہ وقف کیا۔ جموں کے مدرسہ میں رہتے ہوئے یہاں تین کمروں کی ایک عمارت بنوائی اور 5 اکتوبر 1995ء یہاں منتقل ہوئے۔ قاری جمال الدین و حافظ نذر احمد آپ کے ہمراہ آئے۔ کافی عرصہ اس جھگڑا میں گزرا کہ ادارہ کا مہتمم کون ہو۔ آپ کا اصرار تھا کہ قاری جمال الدین قاسمی مہتم کی ذمہ داری سنبھال لیں۔ لیکن وہ قبول نہ فرماتے تھے۔ آخر قاری صاحب نے اس کے لئے حامی بھر لی اور یہ عہدہ قبول کیا۔ یہاں ادارہ وجود میں آتے ہی بریلوی حضرات سے کشمکش شروع ہوگئی۔ گاؤں کے کچھ لوگ بھی ایک بریلوی مولوی کے کہنے میں آئے اور پھر حالات کشیدہ ہوتے رہے۔ ماہ اگست 1995 ء میں آپ کو پولیس نے گرفتار کیا اور آپ پر پبلک سیفٹی ایکٹ لگا دیا گیا۔ لیکن بہت کوششوں سے کوئی گیارہ ماہ بعد وہ ختم ہو گیا اور آپ دوبارہ مدرسے میں حاضر ہوئے۔ مئی 1997ء ایک حادثہ کے الزام میں پھر گرفتار ہوئے اور اگست 2000 تک آپ محبوس رہے۔ جیل میں آپ نے چند فقہی کتابوں کے علاوہ گوجری زبان میں قرآن کریم کے ترجمہ تفسیر کا کام انجام دیا۔ 2001 ء سے آپ پھر اس ادارہ کی تدریس سے وابستہ ہوئے۔ آپ کو حضرت مفتی محمود الحسن گنگوہی ؒ ، حضرت مولانا مسیح اللہ خان ؒ جلال آبادی ، مفتی مبین احمد صاحب کی صحبت میسر آئی اور آپ نے ان سے خوب خوب استفادہ کیا۔(بحوالہ : آئین مدارس جموں و کشمیر، ص 236 تا 237)
آپ کی علمی، دینی و دعوتی سرگرمیوں پر ایک طائرانہ نظر
آپ جموں و کشمیر کے ایک ایسے عالمِ باعمل تھے، جو نہ صرف منبر کے واعظ بلکہ جادہ حق کے ایسے رہرو تھے جنہیں پابند ِ سلاسل بھی کیا گیا۔آپ نے جسم پر زخم بھی کھائے تھے اور طرح طرح کی اذیتیں برداشت کیں۔ جیل میں رہ کر آپ نے گوجری زبان میں قرآن حکیم کا ترجمہ مع تفسیر رقم فرمائی۔ اس کے علاوہ آپ نے گوجری میں "سراجا منیرا" نام سے سیرت کی ایک بہترین کتاب بھی تصنیف کی۔ اور چند سال قبل اسے اردو قالب میں بھی ڈھالا، اور اب وہ منظر عام پر آکر مقبول عام ہوچکی۔ اس سیرتی کتاب کا اسلوب زبان و بیان کے لحاظ سے نہایت جاذب و دلکش ہے۔ یہ کتاب ادبی مٹھاس سے بھر پور ہے۔ قاری اس کو پڑھ کر صاف محسوس کر سکتا ہے کہ مصنف نے کن عشق و محبت کے احساسات کے ساتھ اس کو رقم کیا ہوگا۔
ان کی آواز میں واعظ کا درد اور مجاہد کا جوش تھا، وہ قاری قرآن نہیں بلکہ عاشقِ قرآن تھے ، بل کہ اگر کہا جائے کہ وہ "قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن" کی عملی تفسیر تھے تو بیجا نہ ہوگا۔ وہ جب خطاب کرتے تو قرآنی آیات اور اس کی تشریح کے ایسی باندھنے جاتے کہ سامعین پر ساحرانہ سکوت چھا جاتا۔
مفتی صاحب کے انتقال سے جموں شہر میں جو خلا پیدا ہوا ہے شاید ہی اس خلا کو کوئی پْر کر سکے۔ بلکہ حضرت کی رحلت جموں کشمیر کے علمی افق کے لیے ایسا خلا ہے جس کی بھرپائی شاید ہی ممکن ہو۔ آپ کے ہزاروں شاگرد اور لاکھوں معتقدین کے لیے یہ حادثہ فاجعہ نہایت الم ناک ہے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے ، پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے ، اور ملت کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔ ؎
مدتوں رویا کریں گے جام و پیمانہ تجھے
(مضمون نگار متعلم دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤاترپردیش ہیں)
ای میل۔[email protected]