عظمیٰ نیوز سروس
راجوری//خطہ پیر پنچال کو وادی کے ساتھ جوڑنے والی اہم شاہراہ مغل شاہراہ اس وقت کئی مقامات پر خستہ حالی کا شکار ہو چکی ہے۔ سڑک کے مختلف حصوں میں گہرے کھڈے پڑ چکے ہیں جس کے باعث اس شاہراہ پر سفر کرنا دشوار بنتا جا رہا ہے۔ مسافروں اور ٹرانسپورٹروں نے متعلقہ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق یہ شاہراہ نہ صرف راجوری اور پونچھ اضلاع کو وادی کشمیر سے ملاتی ہے بلکہ تجارتی اور سماجی روابط کے لئے بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ تاہم سڑک کی ابتر حالت کے باعث گاڑیوں کو نقصان پہنچ رہا ہے اور حادثات کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔
خاص طور پر بارشوں کے بعد کھڈے مزید گہرے ہو جاتے ہیں جس سے ڈرائیوروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ خستہ سڑک کے باعث سفر کا دورانیہ بڑھ گیا ہے اور گاڑیوں کی مرمت پر اضافی اخراجات برداشت کرنے پڑ رہے ہیں۔ عوامی حلقوں نے کہا کہ آئندہ موسم گرما کے پیش نظر اس شاہراہ کی مکمل مرمت اور کھڈوں کو معیاری طریقے سے پْر کیا جانا ناگزیر ہے تاکہ سیاحوں اور مقامی افراد کو بہتر سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔لوگوں نے متعلقہ محکمہ تعمیرات عامہ اور ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ فوری طور پر سڑک کی حالت کا جائزہ لے کر ضروری ہدایات جاری کی جائیں اور معیاری مواد کے ساتھ مرمتی کام انجام دیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔عوام نے امید ظاہر کی ہے کہ حکام اس اہم شاہراہ کی افادیت کو مدنظر رکھتے ہوئے سنجیدہ اقدامات کریں گے تاکہ خطہ پیر پنچال کے عوام کو محفوظ اور معیاری سفری سہولیات میسر آ سکیں۔