مینڈھر//خطہ پیر پنجال کو کشمیر سے ملانے والی واحد مغل شاہراہ کی حالت روز بروز خستہ ہوتی جا رہی ہے اور انتظامیہ اس اہم اور جموں و کشمیر کے درمیان متبادل روڈ کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہی ۔کئی جگہوںسے تو روڈ بالکل ہی ختم ہوچکی ہے اور اگر عدم توجہی کا یہی عالم رہاتو پھر عنقریب یہ روڈ مٹ جائے گی ۔ مینڈھر کے محمد کبیر ،علی محمد، جہانگیر خان اور شوکت علی خان کاکہناہے کہ مغل شاہراہ تباہی کے دہانے کی طرف جا رہی ہے اور پونچھ اور شوپیاں انتظامیہ سڑک کی طرف کوئی دھیان نہیں دے رہی ہے جبکہ اس سڑک پر سرکار نے کروڑوں روپے خرچ کرکے بڑی مشکل سے اسے تعمیر کرایا۔انہوںنے کہاکہ حکومت اسے قومی شاہراہ کو درجہ دینے کی باتیں کررہی ہے اور اسے جموں اور کشمیر کے درمیان متبادل روڈ بھی سمجھاجارہاہے لیکن اسے اس قدر عدم توجہی کاشکار بنادیاگیاہے جیسے یہ کوئی لنک روڈ ہو ۔ان کاکہناتھاکہ انہوںنے حال ہی میں دیکھاہے کہ سڑک کے بیچ بڑے بڑے کھڈے بنے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے گاڑیوں کا چلنا روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے اور کہیں پربھی روڈ ٹھیک کرنے والے ملازمین کام نہیں کر رہے ۔انہوںنے کہاکہ سڑک کے کنارے کئی جگہوں پر مشینیں کھڑی دکھائی دیتی ہیں لیکن سڑک کی مرمت نہیں ہورہی ۔ان کا کہنا تھا کہ جموں سرینگر ہائی وے پر جام لگنے کی وجہ سے ان دنوں ہزاروں گاڑیاں مغل شاہراہ سے آتی جاتی ہیں جبکہ کئی ہزار لوگ چھوٹی بڑی گاڑیوں میں ہر ہروز سفر کرتے ہیں لیکن سرکار سڑک کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی اور اگر یہی حالت رہی تو سڑک پر گاڑیاں چلانا نہایت ہی مشکل ہو جائے گا ۔انہوںنے کہاکہ خطہ پیر پنچال کیلئے یہ سڑک اہم سنگ میل ہے اوراس کے بغیر لوگوں کو دو دن کا سفر کرکے کشمیر جانا پڑتا تھا اس لئے اس کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس کی مرمت کی جائے اور ٹنل کی تعمیر کاکام شروع کیاجائے جس کا بارہا اعلان کیاجاچکاہے ۔ان کاکہناہے کہ خود وزیر اعلیٰ نے گزشتہ برس مرکزی وزیر برائے ٹرانسپورٹ و نیشنل ہائی ویز سے ملاقات کرکے یہ کہاتھاکہ مغل شاہراہ پر ٹنل کی تعمیر کو منظوری مل گئی ہے جس کے بعد بڑے پیمانے پر تشہیر بھی کی گئی لیکن ابھی تک اس سلسلے میں کوئی ٹھوس اقدام نہیں ہوسکاہے اور روڈ کی حالت کو بہتر بنانے کے بجائے اسے تباہ ہونے کیلئے چھوڑ دیاگیاہے ۔انہوںنے کہاکہ یہ روڈ خطہ کے لوگوں کیلئے بہت اہم ہے اس لئے انہیں احتجاج کیلئے مجبور نہ کیاجائے ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ حکومت کی طرف سے مغل شاہراہ کا ابھی تک باضابطہ طور پر افتتاح بھی نہیں کیاگیا جبکہ اس سڑک پر گاڑیاں چلتے ہوئے سات سال ہوگئے ہیں ۔ یہ اہم شاہراہ سردیوں کے چار سے پانچ ماہ بند ہوجاتی ہے جس دوران راجوری پونچھ کے لوگوں کو کشمیر جانے کیلئے جموں سے ہوکر طویل سفر کرناپڑتاہے ۔اس سڑک سے جہاں راجوری پونچھ کے لوگوں کیلئے مسافت آسان ہوگئی ہے وہیں ان کو کشمیر کی سبزیاں اور میوہ جات وغیرہ بھی مقامی مارکیٹ میں سستی قیمت پر مل جاتے ہیں ۔مقامی لوگوں کی طرف سے بارہایہ مطالبہ کیاجارہاہے کہ اس سڑک پر چھتہ پانی کے مقام پر ٹنل کی تعمیر کی جائے جس سے ان کا سفر پوراسال جاری رہ سکے لیکن ابھی تک اس سلسلے میں کوئی خاص پیشرفت نہیں ہوئی۔یاد رہے کہ پی ڈی پی اور بی جے پی نے اپنے کم از کم مشترکہ پروگرام میں بھی اس سڑک پر ٹنل کی تعمیر کا اعلان کیاہے اور پی ڈی پی نے انتخابات سے قبل بھی ایسے اعلانات کئے تھے ۔