سرنکوٹ// مغل شاہراہ کھلنے سے جہاں لوگوں کشمیر آنے جانے میں آسانی ہوئی ہے وہیں سرنکوٹ میں تنگ سڑک کے سبب دن بھر جام لگارہتاہے ۔خاص طور پر بس اڈہ سرنکوٹ سے لیکر ہاڑی محلہ میں راہ چلنے کا راستہ نہیں ملتاجس وجہ سے راہگیروںکو سخت مشکلات کاسامناہے۔چونکہ سرنکوٹ بازار سے گزرنے والی سڑک بہت ہی تنگ ہے اور اوپر سے کچھ لوگ گاڑیاں سڑک کنارے کھڑی کردیتے ہیں اس وجہ سے ٹریفک جام لگ جاتا ہے۔ایک مقامی شخص نے بتایا کہ سرنکوٹ میں کوئی بھی پولیس اہلکار سڑک پر دکھائی نہیں دیتا جس سے فائدہ پاکر لوگ گاڑیاں سڑک کنارے کھڑی کردیتے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ پولیس اہلکار سن بھر ہوٹلوں میں بیٹھے رہتے ہیں اور ڈیوٹی دینا پسند نہیں کرتے ۔ ایک دوکاندار خالد حسین نے کہا کہ اگر پولیس چاہے تو سڑک کے دونوں طرف گاڑیاں لگنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا لیکن پولیس اہلکارکام کرکے راضی ہی نہیں۔انہوںنے کہاکہ غلط پارکنگ کرنے والوں کے خلاف کارروائی بھی کی جاسکتی ہے لیکن ایسا نہیں کیاجارہا اور یہی وجہ ہے کہ بازار میں آئے دن جام لگارہتاہے جس سے راہگیروں کو تو پریشانی ہوتی ہی ہے لیکن ساتھ ہی دوکاندار طبقہ بھی متاثر ہوتاہے ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ بفلیاز سے لیکر سرنکوٹ بازار ختم ہونے تک سڑک انتہائی تنگ ہے جس پر دوطرفہ گاڑیاں چلتی ہیں ۔اس دوران جب بڑی گاڑیاں سڑک پر دوڑتی ہیں تو گھنٹوں تک جام لگ جاتاہے ۔جب اس سلسلے میں ایس ایچ او سرنکوٹ سے بات ہوئی تو انہوںنے کہاکہ وہ اس صورتحال سے واقف ہیں لیکن یہ کام ٹریفک پولیس کا ہے ۔البتہ انہوںنے کہاکہ انہوںنے حکام سے بات کی ہے اور وہ اپنی ٹیم کوٹریفک مسئلے سے نمٹنے کیلئے بھیجتے ہیں ۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ نہ صرف سرنکوٹ بازار والی سڑک بلکہ سرنکوٹ سے لیکر بفلیاز تک روڈ کی کشادگی کی جائے تاکہ باربار جام سے نجات مل سکے ۔