گلزار بٹ
شوپیان// جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان میں تاریخی مغل روڈ پر واقع مغل دور کی تاریخی قیام گاہ سکھ سرائے کی تزئین و مرمت اور بحالی کا کام جلد شروع کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد خطے کے تعمیراتی ورثے کو محفوظ بنانا اور سیاحت کو فروغ دینا ہے۔سرکاری حکام کے مطابق حکومت نے کیپیکس بجٹ 2026-27 کے تحت اس تاریخی سرائے کی مرمت اور بحالی کے لیے 4.84 کروڑ روپے منظور کیے ہیں۔شوپیاں کے رکنِ اسمبلی شبیر احمد کلے نے کشمیرعظمیٰ کو بتایا کہ یہ منصوبہ ان کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ ہے، جس کا مقصد اس تاریخی ورثے کی بحالی اور اسے دوبارہ زندہ کرنا تھا۔انہوں نے کہا کہ مغل روڈ کے ساتھ واقع دیگر تاریخی سراؤں کو بھی مرحلہ وار بحال کیا جائے گا۔
ایم ایل اے کے مطابق، ’’یہ تاریخی مقامات بے پناہ ثقافتی اور ورثہ جاتی اہمیت رکھتے ہیں اور مستقبل میں خطے کا رخ کرنے والے سیاحوں اور مسافروں کے لیے بڑی توجہ کا مرکز بن سکتے ہیں۔‘‘شبیر احمد کلے نے کہا کہ سکھ سرائے اور دیگر تاریخی ڈھانچوں کی بحالی سے نہ صرف سیاحوں کو کشمیر کی بھرپور تاریخی وراثت سے روشناس ہونے کا موقع ملے گا بلکہ وادی کے روایتی سیاحتی مقامات سے ہٹ کر نئے مقامات کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔تقریباً 2,700 میٹر کی بلندی پر واقع سکھ سرائے، شوپیان قصبے سے تقریباً 40 منٹ کی مسافت پر واقع ہے اور اسے مغل دور کے سفری راستوں کی ایک اہم یادگار تصور کیا جاتا ہے۔تقریباً 9,600 مربع فٹ رقبے پر محیط یہ تاریخی عمارت ایک سرسبز چراگاہ کے درمیان واقع ہے اور مغل روڈ سے وابستہ تاریخی اور تعمیراتی ورثے کی عکاسی کرتی ہے۔مٹی، اینٹ اور پتھر سے تعمیر کی گئی یہ صدیوں پرانی عمارت طویل عرصے سے عدم توجہی کا شکار رہی ہے اور اس وقت خستہ حالی کی حالت میں ہے۔ اس کے داخلی حصے کی دیواریں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں، جبکہ عمارت کے دیگر حصے بھی فوری تحفظ، مرمت اور بحالی کے متقاضی ہیں۔توقع ہے کہ بحالی کا یہ منصوبہ سکھ سرائے کی تاریخی شناخت کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ اسے سیاحوں کے لیے زیادہ پرکشش اور آسان رسائی والا مقام بنائے گا۔ اس تاریخی قیام گاہ کی بحالی سے مغل روڈ پر ورثہ جاتی سیاحت کو بھی نئی جہت ملے گی، جو کشمیر کو جموں خطے سے ملانے والی ایک اہم تاریخی شاہراہ ہے۔