کیپیکس بجٹ کے بروقت استعمال اور ترقیاتی منصوبوں کی رفتار بڑھانے پر زور
سرینگر//وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے تمام سرکاری محکموں کو کیپیکس (Capital Expenditure) اخراجات کی رفتار تیز کرنے اور دستیاب فنڈز کا بروقت استعمال یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔وزیراعلیٰ نے منگل کو سول سیکریٹریٹ سرینگر میں کیپیکس اخراجات کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں، عوامی خدمات اور معاشی ترقی کیلئے دستیاب وسائل کا موثر استعمال ناگزیر ہے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے ان محکموں پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت دی جہاں اخراجات کی رفتار توقع کے مطابق نہیں ہے۔ انہوں نے سال کے آخری مہینوں تک اخراجات مخر کرنے کے رجحان پر تشویش کا اظہار کیا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ پیسہ موجود ہو اور خرچ نہ کیا جائے تو اسے نااہلی کے سوا کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ فنڈز نہ ہونا سمجھ میں آ سکتا ہے، لیکن دستیاب وسائل کو استعمال نہ کرنا قابل وضاحت نہیں۔
انہوں نے کہا کہ اجلاس مالی سال کے آغاز میں اس لیے طلب کیا گیا ہے تاکہ بروقت اصلاحی اقدامات کیے جا سکیں اور محکمے باقی ماندہ کام کے موسم سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔عمر عبداللہ نے کہا کہ کشمیر وادی اور جموں کے میدانی علاقوں میں ابھی کافی کام کا موسم باقی ہے، اس لیے جاری کیے گئے فنڈز کے مناسب استعمال میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔اجلاس میں وزرا سکینہ ایتو، جاوید احمد رانا، جاوید احمد ڈار اور ستیش شرماکے علاوہ چیف سیکریٹری اتل ڈلو، مختلف محکموں کے ایڈیشنل چیف سیکریٹریز، انتظامی سیکریٹریز، سربراہانِ محکمے اور دیگر اعلی افسران موجود تھے۔ بیرون اضلاع تعینات افسران نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے شرکت کی۔وزیراعلیٰ نے Special Assistance to States for Capital Investment (SASCI)اسکیم کا جائزہ لیتے ہوئے محکموں کو ہدایت دی کہ اس کے تحت دستیاب تمام رقوم کا مکمل استعمال یقینی بنایا جائے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر رواں مالی سال میں فنڈز استعمال نہ کیے گئے تو اگلے مالی سال میں جموں و کشمیر کے لیے مختص رقم متاثر ہو سکتی ہے۔وزیراعلی نے کہا کہ SASCI Part-I کے تحت دستیاب ہر روپیہ استعمال ہونا چاہیے اور محکمے فوری طور پر اہل منصوبوں کی نشاندہی کریں۔انہوں نے وزرا کو ہدایت دی کہ وہ ہر دو ہفتے بعد اسکیم کے تحت اصلاحات سے متعلق اہداف کا ذاتی طور پر جائزہ لیں تاکہ جموں و کشمیر اصلاحاتی جزو کے تحت اضافی مالی معاونت حاصل کر سکے۔عمر عبداللہ نے محکموں کو کہا کہ وہ ایسے منصوبوں پر فوری کام شروع کریں جن کے انتظامی منظوری اور ٹینڈرنگ کے مراحل مکمل ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسے منصوبوں کو ابتدائی طور پر کیپیکس بجٹ سے شروع کیا جا سکتا ہے اور بعد میں SASCI کے اصلاحاتی جزو کے تحت منتقل کیا جا سکتا ہے۔
وزیراعلیٰ نے محکموں کو ہدایت دی کہ وہ اگلے مالی سال کے لیے منصوبوں کی مضبوط فہرست پہلے سے تیار کریں اور صرف فنڈز کے انتظار میں نہ رہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا چیلنج اب فنڈز کی کمی نہیں بلکہ مناسب منصوبہ بندی اور منصوبوں کی تیاری ہے۔وزیراعلیٰ نے محکموں کو مشورہ دیا کہ وہ بجٹ مشاورت کے دوران اراکین اسمبلی کی جانب سے پیش کردہ ترقیاتی ترجیحات کا دوبارہ جائزہ لیں اور خاص طور پر 2 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے منصوبوں کو مستقبل میں SASCI فنڈنگ کے لیے شامل کریں۔انہوں نے 2027-28 مالی سال کے منصوبوں کے لیے انتظامی منظوریوں اور دیگر قانونی مراحل کو پہلے ہی مکمل کرنے کی ہدایت دی تاکہ فنڈز جاری ہوتے ہی کام شروع کیا جا سکے۔وزیراعلیٰ نے مرکزی معاونت والی اسکیموں کے تحت اخراجات کی رفتار بہتر بنانے پر بھی زور دیا اور محکموں کو ہدایت دی کہ جاری کردہ فنڈز کا موثر اور بروقت استعمال یقینی بنایا جائے۔انہوں نے ٹینڈرنگ کے عمل کو آسان اور مثر بنانے سے متعلق وزرا کی تجاویز کا بھی جائزہ لیا اور متعلقہ محکموں کو شفافیت اور جواب دہی برقرار رکھتے ہوئے خریداری کے طریقہ کار کو بہتر بنانے کی ہدایت دی۔اجلاس کے آغاز میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری فنانس **شیلیندر کمار** نے مالی سال 2026-27 کے کیپیکس اخراجات کی صورتحال پر تفصیلی پریزنٹیشن دی، جس میں یو ٹی سیکٹر، ڈسٹرکٹ کیپیکس اور مرکزی معاونت والی اسکیموں کے تحت اخراجات کا جائزہ شامل تھا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ آئندہ جائزہ اجلاس میں مختلف شعبوں میں اخراجات کی کارکردگی میں واضح بہتری نظر آنی چاہیے۔