عارضی لکڑی کے ڈھکن اور غیر ہموار مین ہول چیمبرز نے حفاظتی خدشات بڑھا دئیے
عاقب سلام
سرینگر// سرینگر کے مختلف علاقوں میں کھلے اور خراب مین ہول ایک سنگین حفاظتی خطرے کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔مسافروں اور پیدل چلنے والوں کا کہنا ہے کہ شہری بنیادی ڈھانچے کی مسلسل نظراندازی نے متعدد سڑکوں اور فٹ پاتھوں کو ممکنہ طور پر جان لیوا مقامات میں تبدیل کر دیا ہے۔ڈاؤن ٹاؤن کے علاقوں سے لے کر حضرت بل، صورہ، نگین اور شہر کے کئی اپ ٹاؤن علاقوں تک، بغیر ڈھکن والے مین ہول، غیر ہموار چیمبر کور اور عارضی لکڑی کے تختے روزانہ ہزاروں مسافروں کی جان کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ڈاؤن ٹاؤن کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ بارہا شکایات اور سڑکوں کی اپ گریڈیشن و اسمارٹ سٹی منصوبوں پر بھاری اخراجات کے باوجود یہ مسئلہ برقرار ہے۔ڈاؤن ٹاؤن کے مقامی رہائشی فاروق احمد نے کہا، ’’ہم اس مسئلے سے مکمل طور پر تنگ آ چکے ہیں۔ گوجوارہ سے ہوال تک اور ملحقہ علاقوں میں جگہ جگہ کھلے مین ہول، غیر ہموار مین ہول اور ٹوٹے ہوئے ڈھکن موجود ہیں۔ لوگ روزانہ ان خطرات سے بچتے بچاتے گزرنے پر مجبور ہیں۔‘‘کئی مقامات پر غائب مین ہول کور کی جگہ صرف کمزور لکڑی کے تختے رکھے گئے ہیں، جبکہ بعض جگہوں پر متعلقہ حکام نے صرف عارضی انتباہی کھمبے یا جھنڈے نصب کیے ہیں تاکہ گاڑی چلانے والوں اور پیدل چلنے والوں کو خبردار کیا جا سکے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے عارضی انتظامات ناکافی ہیں اور دباؤ پڑنے پر، خصوصاً بارش کے دوران یا رات کے وقت جب حدِ نگاہ کم ہوتی ہے، گر سکتے ہیں۔حال ہی میں مصروف باغِ علی مردان۔اسکمز صورہ روڈ اور شہر کے مرکزی علاقے میں کھلے مین ہول مسافروں کے لیے تشویش کا باعث بنے ہیں، جہاں ایک بغیر ڈھکن والا مین ہول ایمبولینسوں اور ہنگامی گاڑیوں کے زیرِ استعمال راستے پر مسلسل خطرہ بنا ہوا ہے۔صورہ کے اس مقام کے قریب ایک دکاندار نے بتایا کہ دو پہیہ گاڑیوں کے متعدد حادثات ہوتے ہوتے بچنے کے بعد اسے خود مین ہول کے قریب اپنا سائن بورڈ رکھنا پڑا۔انہوں نے کہا، ’’کئی موٹر سائیکل سوار بال بال اس میں گرنے سے بچے۔ خطرہ واضح ہونے کے باوجود کسی محکمے نے کارروائی نہیں کی، اس لیے میں نے لوگوں کو خبردار کرنے کے لیے اپنا سائن بورڈ لگا دیا۔ یہ سڑک دن بھر مصروف رہتی ہے، خاص طور پر اسکمز جانے والی ایمبولینسوں کی وجہ سے۔‘‘نگین۔حضرت بل روٹ کے پیدل چلنے والوں نے بھی فٹ پاتھوں پر کھلے مین ہول اور خراب ڈھکنوں کی شکایت کی۔ایک مقامی رہائشی نے کہا، ’’ہمیں ہر چند قدم بعد بہت احتیاط سے چلنا پڑتا ہے۔ بزرگ، بچے اور باہر سے آنے والے افراد خاص طور پر زیادہ خطرے میں ہیں۔ پیدل چلنے والوں کے راستوں پر ایسے خطرات کا ہونا ناقابلِ قبول ہے۔‘‘موٹر گاڑی چلانے والوں کا کہنا ہے کہ سڑک کی سطح سے اوپر یا نیچے نصب غیر ہموار مین ہول کور ایک اور بڑا مسئلہ بن چکے ہیں، جن کی وجہ سے گاڑیوں کو اچانک بریک لگانی پڑتی ہے یا رخ بدلنا پڑتا ہے، جس سے حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔دو پہیہ گاڑی استعمال کرنے والے فیضان نے کہا، ’’ہم ٹیکس ادا کرتے ہیں اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر کروڑوں روپے خرچ ہونے کے دعوے سنتے ہیں، لیکن مناسب طریقے سے ڈھکے ہوئے مین ہول جیسی بنیادی شہری سہولت بھی نظرانداز کی جا رہی ہے۔‘‘ کشمیر عظمیٰ گزشتہ چند برسوں کے دوران شہر کے مختلف حصوں میں غائب اور غیر ہموار مین ہول کور سمیت اس نوعیت کے مسائل کو بارہا اجاگر کرتا رہا ہے۔ حکام نے اس سے قبل کئی مین ہول کور کے غائب ہونے کی وجہ چوری کو قرار دیتے ہوئے کہا تھا، “متبادل ڈھکن بار بار نصب کیے گئے اور مین ہول کی مرمت بھی اسی کے مطابق کی گئی۔ ماضی میں مین ہول کور کی چوری کے معاملات پولیس کے ساتھ بھی اٹھائے گئے تھے،” ایک اہلکار نے بتایا۔