جدید سائنسی نظریات میںمعروف نظریہ اضافیت(Theory of Relativity) آئن سٹائن کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔اس نظریے کی آمد سے کائنات کے بارے میں ہمارے انداز نظر کو ایک نئی جہت ملی ہے اور ایک نیا زاویہ بھی ہماری ذہنی وسعت میں بہم پہنچا ہے۔’’نظریہ اضافیت عمومی‘‘ کو جو تھیوری کا دوسرا حصہ ہے اس کا سہارا لیں تو اصل کو سمجھنے کیلئے ایک مثال سامنے آتی ہے۔مثال کے طور پر فرض کیجئے کہ ایک ایسا راکٹ بنا لیا گیا ہے جو روشنی کی رفتار (یعنی تین لاکھ کلو میٹر فی سیکنڈ) سے ذراکم رفتارپر خلا میں سفر کر سکتا ہے۔سوارخلابازوں کی ٹیم کو رفتار بہت تیز ہونے کی وجہ سے زمین پر موجود تمام لوگ بے حس و حرکت نظر آتے ہیں۔جب راکٹ کا عملہ مسلسل ایک سال تک اسی رفتار سے خلاء میں سفر کرنے کے بعدواپسی کا سفر بھی اسی تیزی سے زمین پر لوٹتا ہے تو انہیں علم ہوتا ہے کہ زمین پر ان کی غیر موجودگی کو ایک طویل عرصہ گذر چکا ہے۔جن بچوں کو وہ چھوڑ کر گئے تھے وہ اب بوڑھوں کی حیثیت سے ان کا استقبال کر رہے ہیں۔وہ بے حد حیران ہوتے ہیں کہ انہوں نے تو سفر میں صرف ایک یا دو سال گذارے ہیں تو اتنی مدت کیسے گذر گئی۔اضافیت میںاسے’’جڑواں تقاضہــ‘‘(Twins Paradox) کہا جاتا ہے اور اس تقاضے کا جواب خصوصی نظریہ اضافیت’ ’وقت میں تاخیر‘‘(Time Dilation)کے ذریعے فراہم کرتا ہے۔جب کسی چیز کی رفتار بے انتہاء بڑھ جائے اور روشنی کی رفتار کے قریب پہنچنے لگے تو وقت ساکن لوگوں کے مقابلے میں سست پڑنا شروع ہوجاتا ہے۔یعنی یہ ممکن ہے کہ جب ہماری مثال کے خلائی مسافروںکے لئے ایک سیکنڈ گزرا ہو تو زمینی باشندوں پر اسی دوران میں کئی گھنٹے گزر گئے ہوں۔ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وقت صرف متحرک شئے کے لئے آہستہ ہوتا ہے۔لہٰذا اگر کوئی ساکن فرد مذکورہ راکٹ میں سوار اپنے کسی دوست کا منتظر ہے تواس کیلئے انتظار کے لمحے طویل ہوتے چلے جاتے ہیں۔اصل میں یہی وہ مقام ہے جہاں ہم آکر نظریہ اضافیت کے ذریعے واقع معراج کی توجیہ میں غلطی کر جاتے ہیں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ جب آنحضرت ﷺمعراج کے سفر سے واپس آئے تو حجرہ مبارکہ کے دروازے پر لٹکی ہوئی کنڈی اسی طرح ہل رہی تھی جیسے آپ ﷺ چھوڑ کر گئے تھے۔گویا کہ اتنے طویل عرصے میں زمین پرایک لمحہ بھی نہیں گذرا تھا۔اس کے ساتھ ساتھ اگر خصوصی نظریہ اضافیت کو مد نظررکھتے ہوئے اس واقعے کی حقانیت جاننے کی کوشش کی جائے تو معلوم ہوگا کہ اصل میں زمین پر آنحضرت ﷺ کی غیر موجودگی میں کئی برس گزر جانے چاہئے تھے لیکن ایسا نہیں ہوا۔
دوسرا حصہ یعنی ’’عمومی نظریہ اضافیت‘‘ میں آئن سٹائن نے وقت (زمان )اور خلاء (مکان)کو ایک دوسرے سے مربوط کر کے زمان و مکان(Time & Space)کی مخلوط شکل میں پیش کیاہے۔اور کائنات کی اسی انداز سے منظر کشی کی ہے۔کائنات میںتین جہتیں مکانی(Spatial Dimensions)ہیں جنہیں ہم لمبائی،چوڑائی اور اونچائی (یا موٹائی)سے تعبیر کرتے ہیں، جب کہ ایک جہت زمانی ہے جسے ہم وقت کہتے ہیں۔اسی طرح عمومی اضافیت نے کائنات کی زمان اور مکان کی ایک چادر(Sheet)کے طور پر پیش کیا ہے۔تمام کہکشاں، جھرمٹ،ستارے،سیارے،سیارچے اور شہابئے وغیرہ کائنات کی اسی زمانی چادر پر پر منحصر ہیں اور قدرت کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کے تابع ہیں۔انسان چونکہ اسی کائنات مظاہر کا باشندہ ہے لہٰذا اس کی کیفیت بھی کچھ مختلف نہیں۔آئن سٹائن کے عمومی نظریہ اضافیت کے تحت کائنات کے کسی بھی حصے کو زمان و مکان کی اس چادر میں ایک نقطے کی حیثیت سے بیان کیا جا سکتا ہے۔ اس نظرئیے نے انسان کو اس بات کا احساس دلایا ہے کہ وہ کتنا بے وقعت اور محدود اختیارات رکھتا ہے۔یہاں اس بات کا مشاہدے میں نقطہ حاصل ہوتا ہے کہ کیا کائنات صرف وہی ہے جو طبعی طور پر قابل مشاہدہ ہے ؟ ایسی دیگر کائناتیں ممکن نہیں جو ایک دوسرے سے قریب متوازی اور جداگانہ انداز میں پہلو بہ پہلو وجود رکھتی ہوں؟ اس کا جواب ہے ’’ہاں‘‘ لیکن اگر ایسا ممکن ہے تو پھر ہم ایسی دیگر کائناتوں کا مشاہدہ کیوں نہیں کر پاتے؟ یہ بات ذرا سی پیچیدہ،وضاحت و توجہ طلب ہے۔اسلئے انسان ایک اور مثال کا سہارا لیتا ہے اپنی محدودیت کے حساب سے اندازہ صحیح تب ہوگا۔
امریکی مشہور ماہر فلکیات کارل ساگان(Carl Sagan)اپنی ایک ریسرچ کی کتاب ’’کائنات‘‘(Cosmos) میں ایک فرضی مخلوق کا تصور پیش کرتا ہے جو کہ دو جہتی(Two Dimenional) ہے۔ وہ ٹیبل کی سطح پر پڑنے والے سائے کی مانند ہیں جسے صرف دو مکانی جہتیں ہی معلوم ہیں۔جن میں وہ خود وجود رکھتے ہیں یعنی صرف لمبائی اور چوڑائی۔لہٰذا وہ نہ تو موٹائی و چوڑائی کا ادراک کر سکتے ہیں اور نہ ہی ان کے ہاں موٹائی یا اونچائی کا کوئی تصور ہی ہے۔وہ صرف ایک سطح (Surface)پر ہی رہتے ہیں۔ایسی ہی کسی مخلوق سے انسان جیسی سہ جہتی(Three Dimensional)مخلوق کی ملاقات ہوجاتی ہے۔راہ و رسم بڑھانے کیلئے سہ جہتی مخلوق،اس دو جہتی مخلوق کو آواز دے کر پکارتی ہے۔اس پر دو جہتی مخلوق ڈر جاتی ہے اور سمجھتی ہے کہ یہ آوازاس کے اپنے اندر سے آئی ہے اور وہ سہم سی جاتی ہے۔ اصل میں ہم انسانوں کی کیفیت بھی دو جہتی سطح پر محدود اس مخلوق کی سی ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ ہماری طبعی قفس(Physical Prison)چار جہتی ہے اور اسے ہم وسیع و عریض کائنات کے طور پر جانتے ہیں۔کل ملاکر عالم بالا کی کائنات کی تفہیم ہمارے لئے ناممکن اور مشاہدات بھی بالا تر ہیں۔
اصل میں ہمارا مقصد و مدعا معراج النبی ﷺ کو سائنٹفک انداز میں سمجھنا ہے۔لہٰذا عالم دنیا جو قابل مشاہدہ کائنات اور عالم بالا یعنی ہمارے مشاہدے و ادراک سے ماوراء کائنات دو الگ الگ زمانی و مکانی چادریں ہیں۔یہ ایک دوسرے کے قریب تو ہوسکتی ہیںلیکن بے انتہا قربت کے باوجود ایک کائنات میں جو کچھ ہورہا ہے اس کا دوسری کائنات میں ہونے والے عمل پر نہ کوئی اثر پڑے گا اور نہ اسے وہاں محسوس کیا جائے گا۔لہٰذا حضور اکرم ﷺ زمان و مکان کی کائناتی چادر کے ایک نقطے پرسے دوسری زمانی و مکانی چادر پرپہنچے اور معراج کے مشاہدات کے بعد(خواہ اس کی مدت کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو) آنحضرت ﷺ زمان و مکان کی کائناتی چادر کے بالکل اسی نقطے پر واپس پہنچ گئے جہاں آپ ﷺ معراج سے قبل تھے۔اور یہ وہی نقطہ تھا جب آنحضرت ﷺ کو دروازے کی کنڈی اسی طرح ہلتی ہوئی ملی جیسی کہ وہ چھوڑ کر گئے تھے۔گویا کہ معراج کے واقعے میں وقت کی تاخیر کے بجائے زمان و مکان میں سفر والا نظریہ زیادہ صحیح محسوس ہوتاہے۔میری رائے میں واقعہ معراج کی دلیل کے طور پر’’روشنی کی رفتار سے سفر‘‘ کے بجائے مختلف زمان و مکان کے مابین سفر والا تصور زیادہ صحیح اور سانسی ابہام سے پاک ہے جس کی مدد سے خصوصی نظریہ اضافیت کے تحت پیدا ہونے والے سوالات کا تسلی بخش جواب دیا جا سکتا ہے۔
اعتراضات: واقعہ معراج النبی ﷺ بعض لوگوں کی سمجھ میں اس لئے بھی نہیں آتا کہ وہ کہتے ہیں کہ ایک انسان کس طرح کھربوں میلوں کا فاصلہ یعنی مسجد الحرام سے مسجد الاقصیٰ تک اور پھر زمین سے آسمانوں تک،پھر سدرۃ المنتہیٰ تک چشم زدن میں طے کرکے واپس آجائے اور بستر بھی گرم ہو اور دروازے کی کنڈی بھی ہل رہی ہو اور ساتھ ہی وضو کا پانی بھی چل رہا ہو۔ایسے فضائی سفر میںبہت سی رکاوٹیں ہیں۔۱)پہلی رکاوٹ کشش ثقل ہے جس پر کنٹرول حاصل کرنے کیلئے غیر معمولی وسائل و ذرائع کی ضرورت ہے کیونکہ زمین کے مدار اور مرکز ثقل سے نکلنے کے لئے کم از کم چالیس ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار کی ضرورت ہے۔۲)دوسری رکاوٹ زمین کے باہر خلا میں ہوا نہیں ہے جبکہ ہوا کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔۳)تیسری رکاوٹ ایسے سفر میں اس حصے میں سورج کی جلا دینے والی تپش ہے کہ جس حصے پر سورج کی مستقل روشنی پڑرہی ہے اور اس حصے میں مار دینے والی سردی ہے کہ جہاں سورج کی روشنی نہیں پڑرہی۔۴) چوتھی رکاوٹ وہ خطرناک شعاعیں ہیں کہ فضا ئے زمین سے اوپر موجود ہیں مثلا کاسمک ری(Cosmic Rays) الٹرا وائلٹ ریز(Ultra Violet Rays)اور ایکس ریز X-Rays یہ شعائیں اگر تھوڑی مقدار میں انسانی بدن پر پڑیں تو بدن کے آرگانزمOrganism کیلئے نقصان دہ نہیں نہیں ہیں لیکن فضائے زمین کے باہر یہ شعائیں بہت تباہ کن ہوتی ہیں۔کیونکہ روئے زمین پر بسنے والوں کے لئے زمین کے اوپر موجود فضا کی وجہ سے ان کی تابش ختم ہوجاتی ہے۔ایک اور مشکل یہ ہے کہ خلا میں انسان بے وزنی کیفیت سے دوچار ہوتا ہے۔ آخری مشکل اس سلسلے میں زمانے کی ہے اور یہ ایک اہم رکاوٹ ہے۔چونکہ دور حاضر کے سائنسی علوم کے مطابق روشنی کی رفتار ہر چیز سے زیادہ ہے۔ایک مشاہدہ کے مطابق روشنی کی رفتار سے بہت کم رفتار پر زمین پر آنے والے شہابئے ہوا کی رگڑ سے جل جاتے ہیں اور فضاء ہی میں بھسم ہو جاتے ہیں تو پھر یہ کیونکر ممکن ہے کہ حضور ﷺ اتنا طویل سفر پلک جھپکنے میں طے کر سکے؟
بالا اعتراضات کے جوابات میں اہم وجہ یہ ہے کہ اسی کی وجہ سے ان کے دماغوں میں یہ شکوک پیدا ہوئے ہیں!اور وہ یہ کہنے پر مجبور ہوجاتے ہیںکہ معراج صرف خواب میں ہوئی ہے۔اور یہ کہ حضور ﷺ غنودگی کی حالت میں تھے اور پھر آنکھ لگ گئی اور یہ تمام واقعات عالم رئویا میں آپ ﷺ نے دیکھے یا روحانی سفر درپیش تھا۔جسم کے ساتھ اتنے زیادہ فاصلوں کو لمحوں میں طے کرنا ان کی سمجھ سے باہر ہے۔ اسراء کے معنی خواب کے نہیں بلکہ جسمانی طور پر ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے لئے ہیں۔
یہ بات عیاں ہے کہ فضائی سفر کی تمام تر مشکلات کے باوجود آخر کا رانسان علم کی قوت سے اس پر دسترس حاصل کر چکا ہے اور سوائے زمانے کی مشکل کے باقی تمام مشکلات حل ہو چکی ہیں اور زمانے کی مشکل بھی تو بہت دور کے سفر سے مربوط ہے۔اس میں شک نہیں کہ مسئلہ معراج عمومی اور معمولی پہلو نہیں رکھتا بلکہ یہ اللہ کی لا منتہاہی قدرت و طاقت کے ذریعے ممکن ہوا اور انبیاء کے تمام تر معجزات اسی قسم کے تھے ۔جب انسان یہ طاقت رکھتا ہے کہ سائنسی ترقی کی بنیاد پرایسی چیزیں بنالے کہ جو زمینی مرکز ثقل سے باہر نکل سکتی ہیں ایسی چیزیں تیار کرلے کہ فضائے زمین سے سے باہر کی ہولناک شعائیں ان پر اثر نہ کر سکیں اور مشق کے ذریعے بے وزنی کی کیفیت میں رہنے کی عادت پیدا کرلے۔ یعنی جب انسان اپنی محدود قوت کے ذریعے یہ کام کر سکتا ہے تو پھر کیا اللہ اپنی لا محدود طاقت کے ذریعے یہ کام نہیں کر سکتا؟
چند ضروری باتیں واضع کردی جائیں تو مسئلہ کو مزید بحث میں نہ پڑنے سے بہتر سمجھنے میں آسانی ہوگی۔آئن سٹائن کے مطابق مادی شئے کے سفر کرنے کی آخری حد روشنی کی رفتار ہے جو۱۸۶۰۰۰ (ایک لاکھ چھیاسی ہزار) میل فی سیکنڈ ہے ۔دوسری رفتار قرآن حکیم نے امر کی بتائی ہے جو پلک جھپکنے میں پوری کائنات سے گزر جاتی ہے۔چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے ـ’وما امرنا الا واحدۃ کلمح بابصر:(۵۰) ’’اور ہمارا حکم ایسا ہے جیسے ایک پلک جھپک جانا‘‘۔سائنسی طور ہم جانتے ہیں کہ ایٹم کے بھی ۱۰۰ چھوٹے چھوٹے ذرات ہیں(Sub Atomic Particles) ان میں سے ایک نیوٹرینو (Neutrino) ہے جوتمام کائنات کے مادے میں سے بغیر ٹکرائے گذر جاتا ہے،مادہ اس کے لئے مزاحمت پیدا نہیں کرتا اور نہ ہی وہ کسی مادی شئے سے رگڑ کھاتا ہے۔وہ بہت چھوٹا ذرہ ہے اور نہ ہی وہ رگڑ سے جلتا ہے کیونکہ رگڑ تو مادے کی اس صورت میں پیدا ہوگی جب کہ وہ کم ازکم ایٹم کی کمیت کا ہوگا۔۲۳ ستمبر ۲۰۱۱ء کو سرن لیبارٹری میں تحقیق میں سائنسدانوں نے ثابت کیا تھا کہ نیوٹرینو کی رفتار روشنی کی رفتارسے بھی ذیادہ ہے۔مزید یہ کہ ایٹم (Atom)کے مرکز کے گردالیکٹرون چکر لگا رہے ہوتے ہیں۔ان دونوں کے درمیان مادہ نہیں ہوتا بلکہ وہاں بھی خلا موجود ہوتا ہے۔دوسری جانب( (Tachyonنامی ذرے کا وجود دریافت کرنے میں سائنسدان ثابت کرنے میں جٹے ہیں اور تھیوری میں اس کا وجود ثابت ہو چکا ہے، یہ ہیں مادے کی اشکال اور مختلف رفتاریں۔
جبرائیل علیہ اسلام نے آپ ﷺ کو براق پر سوار کیا؟ براق ، برق سے نکلا ہے،جس کے معنی بجلی کے ہیں،اور اس کی رفتار ۱۸۶۰۰۰ میل فی سیکنڈ ہے۔اگر کوئی وقت کے گھوڑے پر سوار ہو جائے تو وقت اس کے لئے ٹھہر جاتا ہے۔یعنی اگر آپ ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے چلیں تو وقت بالکل رک جاتا ہے کیونکہ وقت کی رفتار بھی یہی ہے۔وقت گر جائے گا۔کیونکہ وقت اور فاصلہ مادے کی چوتھی جہت ہے۔اسلئے جو شخص اس چوتھی جہت پر قابو پا لیتا ہے کائنات اس کیلئے ایک نقطہ بن جاتی ہے۔وقت رک جاتا ہے کیونکہ جس رفتار سے وقت چل رہا ہے وہ آدمی بھی اسی رفتار سے چل رہا ہے۔حالانکہ وہ آدمی اپنے آپ کو چلتا ہوا محسوس کرے گا لیکن کائنات اس کے لئے وہیں تھم جاتی ہے جب اس نے وقت اور فاصلے کو قابو میں کر لیا ہو۔اس کے لئے چاہے سینکڑوں ہزاروںبرس حالت میں گذرجائیں لیکن وقت رکا رہے گا اور جوں ہی وہ وقت کے گھوڑے سے اترے گا وقت کی گھڑی پھر سے ٹک ٹک شروع کردے گی، وہ آدمی چاہے پوری کائنات کی سیر کرکے آجائے، بستر گرم ہوگا، کنڈی ہل رہی ہوگی اور پانی چل رہا ہوگا۔بجلی کا ایک بلب ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل کے فاصلے پر رکھ دیں۔سوئچ دبائیں تو ایک سیکنڈ میں وہ بلب جلنے لگے گا۔ یہ برقی رو کی تیز رفتاری ہے اور پھر ہوا کی تیز رفتاری بھی اس کی ایک مثال ہوسکتی۔اب معراج شریف میں چاہے ہزار سال صرف ہوگئے ہوں یا ایک لاکھ برس،وقت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ورنہ یہ شبہ اور اشکال پیش آ سکتا ہے کہ اتنی طویل و عظیم مسافت ایک رات میں کیسے طے ہوگئی۔اللہ جل جلالہ کی قدرتیں لا انتہاء ہیں، وہ ہر بات پر قادر کہ رات کو جب تک چاہے روکے رکھے،اگر وہ روکے تو کوئی اس کی ذات پاک کے سوا نہیں جو دن نکال سکے۔قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’ آپ کہیے کہ بھلا یہ تو بتائو کہ اللہ تعالیٰ اگر قیامت تک تم پر رات کو مسلط کردے تو اس کے سوا کون روشنی لا سکتا ہے؟آپ کہیے کہ بھلا یہ تو بتلائو کہ اگر اللہ چاہے تو قیامت تک تم پر دن ہی دن رہنے دے تو کون رات لا سکتا ہے اس کے سوا، جس میں تم آرام پائو‘‘۔(القصص، ۷۱ تا ۷۲)
اللہ تعالیٰ کو پوری قدرت حاصل ہے کہ وہ اگر چاہے تو وقت کو روک سکتا ہے پھر جب انسان خلائی جہازچاند،زہرہ اور مریخ تک پہنچ سکتا ہے تو خدائی طاقت اور لا انتہاء قدرت رکھنے والے کے حکم سے کیا اس کے رسول ﷺ شب معراج میں آسمانوں کو طے کرکے سدرۃ المنتہیٰ تک نہیں پہنچ سکتا؟ہے کوئی سوچنے والا؟ پھر ایک اور طریقے سے غور کریں کہ جو سواری، براق آپ کیلئے بھیجی گئی تھی،اس کی تیز رفتاری کا کیا عالم تھا۔روایت میں تصریح کے ساتھ درج ہے کہ اس کا ایک قدم حد نظر تک پڑتا تھا جو روشنی کی رفتار سے ہزارہا درجہ زیادہ ہے۔ہماری نظروں کی حد نیلگوں خیمہ ہے جو آسمان پر پڑا اور چونکہ آسمان از روئے قرآن سات ہیں، اس لئے سات قدم میں ساتوں آسمان طے ہوگئے، پھر اس سے آگے کی مسافت بھی چند قدم کی تھی۔
المختصر حاصل کلام یہ کل سفر رات کے بارہ گھنٹوں میں سے چند منٹ میں طے ہوگیا اور اسی طرح واپسی بھی، تو اب بتائے کہ اس سرعت سیر کے ساتھ ایک ہی رات میں آمد و رفت ممکن ٹھہری یا غیر ممکن؟ اس کے بغیر روز مرہ کا مشاہدہ ہے کہ ایک گھر میں بیک وقت بلب جل رہے ہیں، پنکھے سے ہوا صاف ہو رہی ہے،ریڈیو سنا جا رہا ہے، ٹیپ ریکارڈ پر ریکارڈنگ ہو رہی ہے،ٹیلی ویژن دیکھنا،ٹیلی فون پر گفتگو،فریج میں کھانے محفوظ کرنا، ایر کنڈیشنر کا استعمال، کپڑوں کی استری،سی ڈی پلیئرز کا استعمال وغیرہ وغیرہ۔اگر کسی نے بڑھ کر مین سوئچ آف کردیا،پھر کیا ؟ لمحوں میں ہر چیز کام کرنا بند کر دے گی!!! معلوم یہ ہوا کہ یہ تمام کرنٹ کی کار فرمائی تھی۔یہی حال تمام کارخانوں کا ہے، دفاتر کا، فیکٹریوں کا ۔ہر ہر ادارے کا ہے برق رفتار ٹرینس اور ہوائی جہازوں کا ہے۔۔جیسے ہی کرنٹ غائب ہوتی ہے تو سب کچھ رک جاتا ہے۔جونہی واپس کرنٹ آتی ہے ہر شئے کام کرنا شروع کر دیتی ہے۔آج کا انسان ان روز مرہ کے مشاہدات کے پیش نظر واقعہ کی روایات کی صداقت کا ادراک کر سکتا ہے۔روایتیں ملتی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ جب سفر معراج سے واپس تشریف لائے تو بستر کی گرمی اسی طرح باقی تھی، وضو کا پانی ہنوز بہہ رہا تھا، کنڈی ابھی ہل رہی تھی۔۔ چودہ سو سال پہلے اس پر یقین لانا نا ممکنات میں سے تھا لیکن آج یہ بات آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہے۔کرنٹ کے کرشمے نے ثابت کر دیا کہ لمحوں میں کیا کچھ ہوسکتا ہے۔اسی طرح معراج کی شب نظام زمان و مکان معطل ہو گیا تھا،وقت رک گیا تھا۔کیا یہ خالق کائنات، نظام زمان و مکان کے بنانے والے کیلئے کچھ مشکل تھا ؟ جب سرور کائنات ﷺ سفر معراج سے واپس ہوئے تو معطل نظام پھر سے روبہ عمل ہوگیا!!بستر کی گرمی جہاں بند ہوئی تھی پھر سے محسوس ہونے لگی، پانی بہنا جس مقام پر رک گیا تھا وہاں سے جاری ہوگیا، کنڈی جس زاویے پر ہلنے سے رک گئی تھی پھر سے حرکت میں آگئے۔جیسے کرنٹ کے آف ہوتے ہی تمام کام رک گئے تھے اور آن ہوتے ہی حرکت میں آگئے۔
ایک خصوصی شرف آنحضور ﷺ کا جسم اور روح کے ساتھ معراج حاصل کرنا ہے،یہ مرتبہ کسی اور نبی اور رسول کو حاصل نہیں ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اپنے محبوب نبی اکرم ﷺ کی عظمت و بزرگذیدگی ظاہر کرنے کیلئے یہ خارق عادت قدرت ظاہر فرمائی۔یہ مسئلہ خالص یقین و اعتقاد کا ہے، بس اس پر ایمان لانا اور اس کی حقیقت و کیفیت کو علم الٰہی کے سپرد کر دینا ہی عین عبادت ہے اور ویسے بھی نبوت، وحی اور دیگر معجزات کے تمام معاملات احاطہ عقل و قیاس سے باہر کی چیزیں ہیں۔ جو شخص ان چیزوں کو قیاس کے تابع اور اپنی عقل و فہم پر موقوف رکھے اور کہے کہ یہ چیز جب تک عقل میں نہ آئیں، میں اس کو نہیں مانوں گاتو سمجھنا چاہیے کہ وہ شخص ایمان کے اپنے حصہ سے محروم رہا۔اللہ رب العزت ہمیں قرآن و سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
کچھ دوست یہ تحریر پڑھ کر سوچیں گے کہ ان معاملات کو سائنس کے ساتھ جوڑنے اور بیان کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔کیا اسلام کی سچائی کیلئے سائنس کی تصدیق ضروری ہے۔میری ان قارئین سے گزارش ہے کہ یقینا دین اسلام، سائنس کی تصدیق کا محتاج نہیں ہے بلکہ ایک مسلمان کیلئے ضروری ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی بات پر ہی ایمان و یقین رکھے، چاہے سائنسی نظریات اس کے الٹ ہی کیوں نہ ہوں۔جیسے ڈارون کا نظریہ ارتقاء وغیرہ وغیرہ۔حضرات سائنسی نظریات کو سچے اور پکے مسلمانوں کیلئے اس لئے بھی بیان کیا جاتا ہے کہ قرآن مجید،کثیر مقامات کائنات کی نشانیوں پر غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔یاد رہے کہ ’’غور و فکر‘‘ نہ کہ سرسری نظر سے دیکھنا اور بد قسمتی سے یہ کام مسلمانوں کے بجائے غیر مسلم سر انجام دے رہے ہیں حالانکہ ان کا مقصد صرف مادی تحقیق ہے۔ جب ہم ان کی تحقیقات کو جو کہ اللہ کی عظیم الشان طاقت و ٹکنالوجی کے سامنے کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتیں، پڑھتے ہیں تو ہمارے ایمان پختہ ہوتا ہے اور ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔مثلاً واقعہ معراج کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہماری زمین سے باہر سماوٰت میں کچھ اور ہی قسم کے قوانین قدرت رو بہ عمل ہیں جن کو آج کا انسان کسی قدر سمجھنے کی کوشش کررہا ہے مگر قربان جائیے اس قدرت خداوندی پر کہ جس نے ۱۵۰۰ سال قبل اس شان سے اپنے محبوب بندے ﷺ کو زمین و آسمان کی سیر کرائی کہ آج بھی عقل و علم اس کو کما حقہ سمجھنے سے قاصر ہیں۔اس کے علاوہ سائنسی معلومات کو بیان کرنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ نام نہاد مسلمان اور غیر مسلم جو کہ سائنس کو ہی حرف آخر مانتے ہیں! سمجھایا جائے کہ جن باتوں یا مشاہدات تک آج کے سائنسدان پہنچے ہیں اگر وہیں قرآن و حدیث سے ثابت ملتی ہوں اور تقریبا ۱۵۰۰ سال پرانی باتیں ہیں،تو پھر سچا اور ایڈوانس کون ہے؟؟علاوہ ازیں یہ قرآن پاک کے سچے اور الہامی ہونے کی بھی تصدیق ہے۔کیونکہ یہ ابتدعا سے کلام الٰہی میں موجود تھیں مگر سائنس کی ترقی سے پہلے کسی بھی مفسر نے ببانگ دہل ان کا ذکر نہیں کیا تھا۔چنانچہ اگر قرآن پاک کسی انسان کی تخلیق ہوتی تو ہمیں ان معلومات کا علم تک بھی نہ ہوتا ؟۔
(مضمون نگار پروفیسر جغرافیہ اور ریٹائرڈ کالج پرنسپل ہیں اور راجوری جموں کشمیر کے رہایشی ہیں)
ای میل۔[email protected]
فون نمبر۔9419171179
���������