سرینگر//سابق مرکزی وزیر ،پروفیسر سیف الدین سوز نے کہا ہے کہــ عوامی حلقوں نے میری نوٹس میں مظفر حسین بیگ کا وہ بیان لایا ہے جس کے مطابق بیگ کے خیال میں دفعہ 370 کا وجود ختم ہو چکا ہے۔ ایک بیان میں سوز نے کہا کہ مظفربیگ دہلی کی لیڈرشپ سے مرعوب نظر آتے ہیں،ورنہ وہ جانتے ہیں کہ عوامی جدوجہد کے دائرے میں عوامی عدالت سب سے بڑی عدالت ہوتی ہے اور اسی عدالت میں عوام کا مستقبل طے ہوتا ہے۔اس پس منظر میں بیگ اور دوسرے وکیلوں کو عوامی مفاد میں آگے آنا چاہئے اور ریاست کی داخلی خود مختاری کے حصول کیلئے اپنی مدد پیش کرنی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ہماری سیاسی قیادت نے اپنی جدوجہد کے دوران 1947ء میں ہی اُس بات کا نوٹس لیا تھا کہ اختلافات کے باوجود یہ بات صحیح تھی کہ مہاراجہ پرتاپ سنگھ سے لے کر مہاراجہ ہری سنگھ تک سبھی ڈوگرہ مہاراجائوں نے ریاست کی داخلی خودمختاری کی حفاظت کی تھی۔آج کے دن ہمیں کیا اس بات کا نوٹس نہیں لینا چاہئے کہ راجہ پرتاپ سنگھ کے زمانے سے ہی سٹیٹ سبجیکٹ جیسے معاملات کو طے کیا گیا تھا،یہ بات بھی صحیح ہے کہ مہاراجہ ہری سنگھ نے صرف تین شعبوں میں ہندوستان کے ساتھ الحاق کیا تھا یعنی دفاع ، خارجہ امور اور مواصلات ۔دریں اثناء کشمیر کی مین اسٹریم جماعتوں کو زمینی حقائق کا نوٹس لے کر اپنا وجود قائم رکھنا چاہئے اور ریاست کی اندرونی خود مختاری کی حفاظت کیلئے اٹھ کھڑا ہونا چاہئے،ورنہ اُ ن پر علامہ اقبال ؔکا یہ شعر صحیح تصور ہوگا،’’یہ نادان گر گئے سجدے میں، جب وقت قیام آیا‘‘۔