بلال فرقانی
سرینگر//سرینگر میں ایک ایسا منفرد ثقافتی مقام شہریوں اور سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے جہاں داخل ہوتے ہی ماضی کی یادیں نہ صرف تازہ ہو جاتی ہیں بلکہ ایک مکمل ثقافتی تجربے کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔یہ مقام انسان اپنے گزرے ہوئے خوشگوار لمحات، بچپن، پرانی روایات اور سماجی زندگی کو یاد کر کے ایک ساتھ خوشی اور ہلکی سی اداسی کا احساس اور جذباتی کیفیت محسوس کرتا ہے۔ ۔شہر کے علی جان کمپلیکس میں’کیفے لیبرٹی‘ نامی یہ ثقافتی مقام اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ یہاں کشمیری سماج کی پرانی طرزِ زندگی کو حقیقی ماحول کے قریب تر انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ لکڑی سے بنے روایتی دریچے، قدیم دروازے، دیواروں کی سادہ مگر تاریخی ساخت اور چھتوں پر روایتی’ وگوو ‘انداز کی بناوٹ مل کر ایک ایسا ماحول تشکیل دیتے ہیں جو آنے والوں کو فوراً ماضی کی طرف لے جاتا ہے۔دیواروں پر آویزاں قدیم گھڑیاں وقت کے تسلسل اور انسانی زندگی کے بدلتے مراحل کی علامت ہیں، جبکہ پرانی ریڈیو سیٹیں، ٹرانسسٹر، گراموفون، لالٹینیں، ٹائپ رائٹر، پرانے ٹیلی فون، قدیم کیمرے، لکڑی کے صندوقچے، روایتی کانگڑیاں اور دیگر نایاب اشیاء اس جگہ کو ایک زندہ ثقافتی عجائب گھر میں تبدیل کر دیتی ہیں۔بالی ووڈ کے سنہرے دور کی معروف شخصیات اور کلاسک فلموں کے مناظر اس جگہ کو مزید جذباتی اور یادگار بنا دیتے ہیں، جس سے آنے والے افراد اپنے ماضی کے مختلف پہلوؤں سے جڑ جاتے ہیں۔سیاحوں کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ انہیں کشمیر کی ثقافت کو صرف دیکھنے نہیں بلکہ محسوس کرنے کا موقع دیتا ہے۔ کیفے لیبرٹی کے جنرل منیجر،سوبندو،جن کا تعلق مغربی بنگال کے کولکتہ سے ہے،کا کہنا ہے کہ اکثر یہاں آنے والے سیاح ان قدئم چیزوں کو دیکھ کر کشمیر کی تہذیب،تمدن،ثقافت اور اشیاء کے باے میں پوچھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خود ان چیزوں کو دیکھ کر اتنا متاثر ہوا ہے کہ وادی کے قدئم تہذیب اور طرز زندگی کی جھلک کتابوں میں کھنگالنے لگا۔ تیز رفتار دور میں سکون قلب اور بچپن کی یادوں سے جڑنے کیلئے یہ مقام توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔