مجاہد عالم ندوی
اسلام خاندان کو معاشرے کی ایک اکائی قرار دیتا ہے ، مسلمان خاندان پورے معاشرے کا ایک بہت چھوٹا نمونہ ہے ، اسلام میں شادی ایک مقدس معاہدہ ہے جس میں شوہر اور بیوی دونوں کے فرائض اور حقوق ہیں ، شوہر کا فرض ہے کہ وہ خاندان کی مکمل کفالت کرے ،چاہے اس کی بیوی مالدار اور اقتصادی طور پر اس کی کفالت کی محتاج نہ ہو ، بیوی کو حصول معاش کی کوئی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اگر کسی عورت کا شوہر نہ ہو ، نہ باپ تو وہ خاندان کے وسیع تر حلقے میں پناہ لے سکتی ہے۔ بیوی کا بھی فرض ہے کہ وہ شوہر اور خاندان کی نگرانی اور خبر گیری کی پوری طرف ذمہ داری قبول کرے ، گھر بار پر پوری طرف اس کا کنٹرول ہوتا ہے ، بچوں کی تعلیم و تربیت میں وہ نمایاں کردار ادا کرتی ہے ۔
اللّٰہ کے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٫’’ لوگو! تمہاری بیویوں پر تمہارے حقوق ہیں اور تم پر تمہاری بیویوں کے حقوق ہیں‘‘۔ آپؐ نے یہ بھی فرمایا : ’’جب کوئی شخص اپنی بیوی بچوں پر اپنا مال خرچ کرتا ہے تو وہ اس کی طرف سے صدقہ شمار ہوتا ہے‘‘۔
والدین اپنے بچوں کے لیے بڑی قربانیاں کرتے ہیں ، ہمیں ان سے اپنے دلوں کی گہرائیوں سے محبت کرنی چاہیے اور انہیں خوش رکھنا چاہیے ، جیسے جیسے تم بڑے ہوتے جاؤ تم والدین کی مدد کرو ، ان کے ساتھ تمہارا معاملہ مفاہمت کا ہونا چاہیے ، خوشی خوشی گھر کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لو ، تمہیں اس کا انتظار نہیں کرنا چاہیے کہ ان کو خالی کر دینے ، کھانے کی تیاری میں امداد کرنے اور پالین کو ویکیوم کلینر سے پاک کر دینے کی یاد دہانی کرائی جائے۔ اگر تم اپنی والدہ سے یہ کہہ کر باہر گئے ہو کہ تم کھیل کر سات بجے واپس آ جاؤ گے تو تمہارا فرض ہے کہ وقت پر گھر واپس آ جاؤ ، اپنے والدین کا اعتماد حاصل کرنے کا یہ بہترین طریقہ ہے ۔
اللہ کے رسول ؐنے فرمایا ہے: ٫’’جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے‘‘۔ اور یہ بھی فرمایا : ’’ اس کی ناک خاک آلود ہو ، جس نے اپنے والدین میں سے کسی ایک یا دونوں کو بڑھاپے کی طرف بڑھتے دیکھا اور ان کی خدمت کر کے جنت میں داخل نہ ہوا‘‘۔
ایک حدیث میں آتا ہے : ٫’’ وہ جو ہمارے چھوٹوں سے شفقت اور بڑوں سے محبت و احترام سے پیش نہیں آتا وہ ہم میں سے نہیں ہے‘‘۔
اسلام پڑوسیوں کے ساتھ اچھے سلوک پر بہت زور دیتا ہے۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ وہ مومن نہیں ہے جو خود تو پیٹ بھر کر کھانا کھاتا ہے اور اس کا پڑوسی بھوکا سوتا ہے ۔ ٫’’ جس کے شَر سے ہمسایہ محفوظ نہیں،اُس کا ٹھکانہ جہنم ہے۔کسی کے گھر میں اس کی اجازت کے بغیر داخل ہونا اخلاق کی کھلی خلاف ورزی ہے، جیسا کہ قرآن و حدیث میں اس پر زور دیا گیا ہے۔ قرآن کہتا ہے : ’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو ، اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھروں میں داخل نہ ہو ، جب تک کہ گھر والوں کی اجازت نہ لے لو اور گھر والوں پر سلام نہ بھیج لو ، یہ طریقہ تمہارے لیے بہتر ہے ، توقع ہے کہ تم اس کا خیال رکھو گے ، پھر اگر وہاں کسی کو نہ پاؤ تو داخل نہ ہو، جب تک کہ تم کو اجازت نہ دے دی جائے ، اور اگر تم سے کہا جائے کہ واپس چلے جاؤ تو واپس جاؤ ، یہ تمہارے لئے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے ، اور جو کچھ تم کرتے ہو ، اللّٰہ اسے خوب جانتا ہے ۔ ( سورہ نور)
اسلام گھریلو زندگی میں آداب و مراسم کے اصولوں کی پابندی پر بہت زور دیتا ہے ، گھر کے ملازموں کو نسبتاً زیادہ آزادی حاصل ہوتی ہے۔ اس لیے کہ وہ ہر وقت آتے جاتے رہتے ہیں ۔ لیکن ان کی اس آزادی کے بھی کچھ متعین حدود ہیں۔ تین وقتوں میں انہیں داخل ہونے سے پہلے اجازت لینی چاہیے۔ فجر کی نماز سے پہلے ، دو پہر میں جب لوگ لباس کے معاملے میں تکلف ترک کر دیتے ہیں ، عشاء کی نماز کے بعد خاص طور پر جب بچے بالغ ( سمجھدار ) ہو جائیں تو انہیں بھی ان اوقات میں اسی طرح اجازت لینے کی ضرورت ہے ۔کیونکہ یہ تخلیہ کے اوقات ہیں ، خلوت کا لحاظ بہت ضروری ہے ، یہ صاف ستھری اور منظم زندگی کے لئے بہت ضروری ہے ، گھر کے سب افراد کو دروازے پر آنے والے لوگوں سمیت ، ان صحتمند اصولوں کی پابندی کرنی چاہیے ۔
(رابطہ : 8429816993)
[email protected]