شہاب حمزہ
آزادی کی پہلی صبح سے لے کر آزادی کے امرت مہتسو تک کوئی ایسا دن نہیں گزرا، جہاں مسلمانوں کے سیاسی زوال کے صفحوں پر چند عبارتیں نہ تحریر کی گئی ہوں اور ان عبارتوں کو اس وقت ان صفوں پر بڑے شان سے لکھا گیا ہے جب قومی سطح یا ریاستی سطح پر انتخاب ہوئے ہوں۔ یہی صورتحال وارڈ اور پنچایت انتخاب کا بھی ہے ۔آزادی کے بعد سے ہی مسلمان ایک زمانے تک کانگریس کے روایتی ووٹرز رہےہیں، لیکن ان انتخابات کا مشاہدہ یہ بتاتا ہے کہ ہر چناو کے بعد مسلمان اپنا وقار کھو تے گئے ہیں اور چند برسوں میں ہی سیاسی اعتبار سے صفحے سے حاشئے تک کا سفر مسلمانوں نے طے کرلیا ۔بی جے پی کے اقتدار میں آتے ہی مسلمانوں کے ووٹ کی قیمت تمام قوم سے بدتر حالت پر پہنچ گئی ۔ آج بی جے پی کو مسلمانوں کے ووٹ کی ضرورت نہیں ہے ۔دوسری سیاسی پارٹیوں میں بھی مسلمانوں کے ووٹ کی قیمت میں کمی آئی ہے ۔ وجہ یہ ہے کہ اپنی فیصلہ کن اثر رکھنے والی تعداد کے باوجود بھی اکثر اسمبلی اور پارلیمانی حلقوں سے مسلم حمایت کے امیدوار ناکامیاب ہوتے ہیں ۔ مسلم اکثریتی علاقے سے دوسری پارٹی کے امیدوار کا فتح یاب نہ ہونا، جس کی مسلمان حمایت کرتے ہیں ،ایک غلط تاثر پیددا کردیتا ہے۔ مسلمانوں کے حق میں اس کے جوبُرے نتائج مرتب ہوتے ہیں، وہ یہ کہ اس قوم کی ذہنیت سیاسی اعتبار سے اس قابل نہیں کہ فیصلہ کن تعداد ہونے کے باوجود کسی امیدوار کے مقدر کے فیصلے کی صلاحیت رکھتےہیں، اور یہی ہندوستان کی میدانِ سیاست میں اس قوم کے لئے افسوس کا مقام ہے ۔مسلمانوں کا انتشار، آپسی اختلافات، فرقہ، مسلک اور جماعت بندی کے جھگڑوں نے مسلم اتحاد کو اس قدر متاثر کیا ہے کہ ملک کی سیاست میں ان کاکہیں بھی مقام نہیں ،کوئی بھی جگہ نہیں۔ آزادی سے قبل بھی مسلمانوں کی آبادی ملک کے ہر خطے میں مذکورہ بالا سامانِ انتشار کے ان تمام فتنوں میں جکڑی ہوئی تھی، اس کے باوجود اتحاد و ملت کے بے شمار شواہد ملک کے ہر خطے میں روشن ستاروں کے مانند جلوہ افروز تھے۔ لیکن آزادی کے بعد مسلسل انہی سب باتوں کو لے کر اختلافات اور دوریاں بڑھتی گئی اور ہر دن آپسی اختلافات نئی شکل اختیار کر رہی ہے۔ غور کرنے کا مقام ہے کہ ہماری ایسی حالت کیوں ہو رہی ہے ۔
اگر ہم گجرات کے حالیہ اسمبلی انتخابات کی بات کریں تو 17 ایسی سیٹوں سے بی جے پی کے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں، جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ایسی کیا وجہ ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت والی سیٹ سے بی جے پی کے امیدوار کامیاب ہوگئے ۔ گجرات کے ایک اسمبلی حلقہ کی سیٹ سے کانگریس کے ایک مسلم امیدوار کو کامیابی سے دور رکھنے کے لیے 11 آزاد مسلم امیدوار میدان میں کھڑے ہو گئے، اس کے باوجود ہارجیت کا فاصلہ صرف 658 ووٹو کا رہا ۔ ایک اور اسمبلی حلقہ کی کہانی یہ رہی کہ 44 امیدوار میدان میں اپنی تقدیر آزمانے اتر گئے، جس میں سے 35 مسلمان تھے جو اپنی قسمت آزما رہے تھے ۔ مسلم ذہنیت کے ایسے مزاحیہ قصے ہر انتخاب کے دوران دیکھنے کو مل جاتے ہیں ۔ گجرات کے انتخاب کو لے کر تجزیہ کرنا یہاں میرا مقصد ہرگز نہیں ،میں صرف یہ بتانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ ہندوستان جیسے عظیم الشان جمہوری ملک میں جہاں ایک جانب ہر روز اور ہر انتخاب کے ساتھ مسلمانوں کے سیاسی زوال کی نئی تاریخ مرتب کی گئی ہے وہیں دوسری جانب اسی پیمانے پر بی جے پی کے عروج کی داستانیں بھی لکھی گئی ہیں ۔میں کسی سیاسی جماعت کی نہیں بلکہ سیاسی ذہنیت کی بات کر رہا ہوں ۔سیاسی عروج و زوال کی اور سیاسی اتحاد و سیاسی انتشار کا ذکر کر رہا ہوں ۔ ملک کی دانش ور ،سیاسی لیڈران، قوم کے رہبر اور ذمہ داران کا یہ اہم فریضہ ہے کہ قوم کو متحد کرنے کی کوشش کریں تاکہ سیاسی تنزلی کے سفر کو روکا جا سکے۔ لہٰذا یہ لازمی ہے کہ مسلمان بھی ہوش کے ناخن لیں اور قوم کے رہبر ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر قوم کے حالات پر غور کریں اور ایک بار پھر سے ایسے اقدامات کیے جائیں، جس کے نتیجے میں منتشر قوم متحد ہو سکے اور زوال کی تاریک غار سے عروج کی جانب قدم بڑھا سکے ۔
(رابطہ۔8340349807)
[email protected]>