اردو یونیورسٹی، نظامت فاصلاتی تعلیم
دوبارہ رجسٹریشن کی تاریخ میں توسیع
حیدرآباد//مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی ، نظامت فاصلاتی تعلیم کے ایسے طلبہ جنہوں نے مقررہ وقت میں اپنا کورس مکمل نہیں کیا انہیں صرف ایک مرتبہ دوبارہ رجسٹریشن کی تاریخ میں 200 روپئے دیرانہ فیس کے ساتھ 31؍ جولائی تک توسیع کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ امیدوار کو 500 روپئے جرمانہ کے ساتھ کورس فیس بھی ادا کرنی ہوگی۔ پروفیسر شانِ کاظم نقوی، ڈائرکٹر انچارج نظامت فاصلاتی تعلیم کے بموجب دوبارہ رجسٹریشن کا فارم اور دیگر تفصیلات یونیورسٹی ویب سائٹ www.manuu.ac.in پر دستیاب ہیں۔ فارم ویب سائٹ سے ڈائون لوڈ کیا جاسکتا ہے اور متعلقہ ریجنل / سب ریجنل سنٹر پر یا ہیڈ کوارٹرس میں داخل کیا جاسکتا ہے۔ ایک علیحدہ اطلاع کے مطابق فاصلاتی تعلیم کے تحت امتحان میں شرکت کے لیے دیرانہ فیس 200 روپئے کے ساتھ 31؍ جولائی تک فارم داخل کیا جاسکتا ہے۔ فیس صرف آن لائن ہی داخل کی جاسکتی ہے۔ اس کے لیے لنک http://manuucoe.in/OnlinePayment/index.php/main3 پر لاگ ان کیا جاسکتا ہے۔
یوم الحاق 26/27اکتوبر کو پنتھرس کا اجلاس
جموں//نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی پروفیسر بھیم سنگھ نے ، جو قومی اتحاد کی مضبوطی کے لئے کئی سماجی اور انسانی حقوق گروپ کی سربراہی کرتے ہیں ، آج کہا کہ جموں وکشمیر کے یوم الحاق 26/27اکتوبر کو ، جس دن مہاراجہ نے جموں وکشمیر کے ہندستان کے ساتھ الحاق نامہ پر دستخط کئے تھے اور گورنر جنرل آف انڈیا لارڈ ماونٹ بیٹن نے اسے 27اکتوبر ، 1947کو اسے منظور ی دی تھی، پنتھرس کنبہ کا تاریخی اجلاس منعقد کیا جائے گا۔جموں وکشمیر نے دیگر 575ریاستوں کی طرح 1947میں الحاق نامہ پر دستخخط کئے تھے اور دستور ساز اسمبلی نے تمام پر غور کیا لیکن یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ جموں وکشمیر کے الحاق نامہ کو دیگر ریاستوں کی طرح منظور نہیں کیا گیا۔ 26جنوری، 1950کو ہندستانی آئین پیش کیا گیا جس میں دفعہ ۔370کو عارضی دفعہ کے طورپر شامل کیا گیا اور صدر جمہوریہ واحد ایسی اتھارٹی ہیں جنہیں اس میں کا اختیار حاصل ہے۔پروفیسر بھیم سنگھ نے 1981میںری سیٹلمنٹ ایکٹ کی منظوری کے خلاف جموں وکشمیر اسمبلی کے ساتھ ساتھ کانگریس سے استعفی دیکر اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر جن میں سے آج کچھ باحیات نہیں ہیں ، اپنی پنتھرس پارٹی قائم کی جس سے جموں وکشمیر کے لوگوں کی حق و انصاف کی لڑائی کے لئے جدوجہد کی جاسکے۔پروفیسر بھیم سنگھ نے اپنے ساتھیوں ، ساتھیوں اورپنتھرس پارٹی کارکنوں سے بات چیت کے دوران اس بات پر رضامندی کا اظہار کیا کہ 26اور 27اکتوبر 2018کو پنتھرس کنبہ کا دوروزہ اجلاس منعقد کیا جائے۔انہوں نے اعلان کیا کہ پنتھرس پارٹی کے تمام کارکنوںکو اس اجلاس میںشرکت کی دعوت دی جاتی ہے جس میں اس پر غور کیا جائے گا کہ کشمیر سے کنیا کماری تک سیکولر جھنڈے اور جمہوریت، امن اور ترقی کے مفاد میں لوگوں کو متحد کرنے کیلئے کیا کیا جائے۔
پنچایتوں کوفعال بنانے کے فیصلے کی ستائش
جموں//جموں مسلم فرنٹ کے عہدیداران نے گورنرانتظامیہ کے اُس فیصلے کاخیرمقدم کیاجس کے تحت پنچایتوں کوقابل کاربنانے اورپنچایت انتخابات کے انعقاد کیلئے کہاگیاہے ۔فرنٹ کے ذمہ داران نے پنچایتوں کے غیرمتحرک رہنے پرتنقیدکرتے ہوئے کہاکہ پنچایتیں انتظامیہ کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔فرنٹ کے صدر عمران قاضی نے ریاست کے حالات پر تبادلہ خیال کرنے کیلئے میٹنگ کاانعقاد کیاجس میں ریاستی گورنرانتظامیہ کی جانب سے پنچایتوں کوفعال بنانے کیلئے کی جارہی کاوشوں کوسراہاگیا۔انہوںنے حکومت سے مانگ کی کہ حال ہی میں لاء آفیسروں کی تعیناتی میں خواتین کونمائندگی دینے کی پرزوراپیل کی گئی اورمزیدخواتین کولاء آفیسربنانے کی وکالت کی گئی۔اس دوران لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ پنچایتوں کے کام کوموثربنانے کیلئے تعاون دیں ۔
جموں میں ہندو مخالف لوگوں کو بسایا گیا ہے:بجرنگ دل
جموں// بجرنگ دل کے قومی کوآری نیٹر سوہن سنگھ سولنکی نے کہا کہ صوبہ جموں میں مسلم اور روہنگیا کالونیوں کے قیام کا مقصد صوبے میں ہندؤں کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جموں شہر کے چاروں اطراف میں ہندو مخالف لوگوں خاص طور پر روہنگیا مسلمانوں کو بسایا گیا ہے۔ سوہن سنگھ سولنکی نے ان باتوں کا اظہار بدھ کے روز یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا ’یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ جموں میں الگ سے (مسلم) کالونیاں وجود میں لائی جارہی ہیں۔ ان کا مقصد جموں میں ہندؤں کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنا ہے۔ سابقہ حکومتوں کو اس طرف دھیان دینا چاہیے تھا۔ آج جموں کے چاروں اطراف ہندو مخالف سرگرمیاں چلائی جارہی ہیں۔ ہندو مخالف لوگ خاص طور پر روہنگیا مسلمان اور بنگلہ دیشی درانداز رہ رہے ہیں۔ جموں میں فوج پر حملہ ہونا، پتھراؤ ہونا، یہ بہت بڑی بات ہے۔ یہ سلسلہ جاری رہا تو ہمیں مجبوراً ایجی ٹیشن شروع کرنا پڑے گی۔ ہندوسماج ایک بار پھر کھڑا ہوجائے گا اور خطہ میں چل رہی ملک مخالف سرگرمیوں کو روکے گا‘۔ یو این آئی
اویس احمدرانا نے ضلع ترقیاتی کمشنر شوپیاں کاعہدہ سنبھالا
شوپیاں//اویس احمدرانا( آئی اے ایس) نے ضلع ترقیاتی کمشنرشوپیاں کے عہدے کاچارج سنبھال لیاہے ۔عہدہ سنبھالنے کے موقعہ پراویس احمدنے عام آدمی کوبہترانتظامیہ فراہم کرنے کے عزم کااعادہ کیا۔اس کے بعدڈپٹی کمشنرنے ضلع وسیکٹورل افسران کے ساتھ تعارفی میٹنگ منعقدکی اورافسران کووقت مقررہ کے اندرترقیاتی کاموں کی تکمیل کی ہدایت دی اورساتھ ہی کہاکہ عوامی اثاثوں کی تعمیر کوبغیرکسی تاخیرکے یقینی بنایاجائے۔انہوں نے ملازمین سے کہاکہ وہ تندہی سے کام کریں اوروقت کی پابندی کاخاص خیال رکھیں۔اویس احمدنے تمام آفیسران کوہدایت کی کہ وہ بائیومیٹرک حاضری کیلئے مشینوں کوجلدنصب کرکے آن لائن مانیٹرنگ نظام کوبحال کریں ۔انہوں نے دفترمیں تاخیرسے پہنچنے والے عملے کوسخت ہدایات دیں کہ وہ مستقبل میں پابندی ٔ وقت اورقواعدکی پاسداری کریں ۔اس کے علاوہ افسران سے کہاکہ وہ سٹیشن چھوڑنے سے پہلے اعلیٰ آفیسران سے اجازت نامہ حاصل کرلیں اورفیلڈدوروں سے متعلق رجسٹروں کوبہترطریقے سے ترتیب دیں۔بعدازاں ڈی ڈی سی نے منی سیکریٹریٹ کادورہ کرکے ضلع دفاترکاجائزہ لیا۔واضح رہے کہ اس سے پہلے اویس احمدرانا ایس ڈی ایم بھدرواہ، ایس ڈی ایم کرنا ہ ،ڈپٹی سیکریٹری فائنانس کے عہدوں پرخدمات انجام دے چکے ہیں۔
ڈی آئی اوادہم پورکے تبادلے کے سلسلے میں الوداعی تقریب
ٓادہم پور//ڈسٹرکٹ انفارمیشن سنٹر ،ادہم پورکی جانب سے ڈسٹرکٹ انفارمیشن افسرایشاچب کے جوائنٹ ڈائریکٹرانفارمیشن جموں کے دفترمیں کلچرل افسرکے طورپر تبادلے کے سلسلے میں ایک پروقارالوداعی تقریب کااہتمام کیاگیا۔اس دوران دفترکے عملے نے ایشاچب کے ساتھ کام کرنے کے تجربات بیان کیے اورانہیں نیک خواہشات سے نوازا۔بعدازاں انجینئرسجادسومبریانے نئے ڈسٹرکٹ انفارمیشن افسرکاعہدہ سنبھالااور عملے کے ممبران کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔
امر ناتھ یاترا2018
۔7351یاتریوں نے پوتر گپھا کے درشن کئے
سرینگر/ شری امر ناتھ جی یاترا کے21 ویں روز 7351یاتریوں نے پوتر گپھامیں شولنگم کے درشن کئے۔ یاترا شروع ہونے سے اب تک208933 یاتری اب تک پوتر گپھا میں شو لنگم کے درشن کرچکے ہیں۔
بٹل بالیاں ادہم پورمیں شجرکاری مہم کاانعقاد
ادہم پور//سی آرپی ایف 187نے سوشل فاریسٹری کے اشتراک سے بٹل بالیاں ادھم پورمیں شجرکاری مہم کا انعقادکیا۔اس موقعہ پرضلع ترقیاتی کمشنررویندرکمار مہمان خصوصی تھے جبکہ تقریب کی صدارت ڈپٹی انسپکٹرجنرل سی آرپی ایف 187 نے کی۔اس دوران ڈپٹی کمشنرنے شجرکاری کی اہمیت کوبیان کیا۔اس دوران افسران نے پودے لگائے۔ڈی سی موصوف نے کہاکہ شجرکاری وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔اس موقعہ پر ڈی سی نے ڈی ایف اوسوشل فاریسٹری کی شجرکاری مہم کے لیے ستائش کی۔اپنے خطاب میں ڈی آئی جی سی آرپی ایف ہریندرکمارنے فاریسٹ کورکی افادیت سے متعلق تبادلہ خیال کیا۔اس موقعہ پر ڈی ایف اوسوشل فاریسٹری جگل گپتا۔کمانڈنٹ سی آرپی ایف ہریندرکماراورسی آرپی ایف کے اہلکاربھی موجودتھے۔