آرینز کی جانب سے ’بیٹی بچائو ۔بیٹی پڑھائو ‘ کے تحت 50 طالبات میں سکالر شپ تقسیم
جموں //طالبات میں اعلیٰ تعلیم کو فروغ دینے کیلئے آرئینز گروپ آف کالجز نے ’ ’بٹی بچائو ،بیٹی پڑھائو ‘‘ کے تحت 50 طالبات میںسیشن 2019-20 کیلئے سکالر شپ تقسیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ایک بیان کے مطابق آرئینز نے طالبات کے لئے خصوصی سکالر شپ ہیلپ لائن نمبر1800-123-3633 لانچ کیا ہے۔آرئینز گروپ کے چیر مین ڈاکٹر انشو کٹاریہ نے کہا کہ سکالرشپ ان 50 ذہین طالبات میں تقسیم کیجائے گی ،جنھوں نے 12ویں جماعت میں 70% سے زائد نمبرات حاصل کئے ہوں اور آرئینز میں اپنی اعلیٰ تعلیم جاری رکھنے کے متمنی ہوں۔سکیم ہذا کے تحت موذوں طالبات کو 10,000/- روپے کی یکمشت رقم دی جائے گی ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ آرئینز کالج میں متعدد کورسوں کیلئے 13ویں اکیڈمک سیشن کیلئے داخلہ جاری ہے۔ضرورت مند اور مستحق طلاب کواعلیٰ تعلیم جاری رکھنے کے مقصد سے ان کی مدد کیلئے آرئینز مختلف سکالر شپ سکیموں جیسے کہ فوجی اہلکاروں ، مرحوم ایم ا ٓر میموریل کٹاریہ سکالرشپ،روشان سکالر شپ سکیم غیرہ کے تحت بھی طلاب کو کالج میں داخلہ دیتی ہے۔
بھور کیمپ میں ڈگری کالج کھولنے کا مطالبہ
جموں // ایک سماجی رضا کار تنظیم آدرش بھارتیہ سماج نے سرکار سے بھور کیمپ میں ڈگری کالج کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔ایک پریس بیان میں تنظیم نے کہا ہے کہ علاقہ کے لوگوں کا یہ مطالبہ عرصہ دراز سے ہے۔تنظیم کے ممبروں نے گورنر ستیہ پال ملک سے بھور کیمپ کیلئے ڈگری کالج کھولنے کا حکم جاری کرنے کی گُذارش کی ہے کیونکہ مضافاتی علاقہ میں کوئی سرکاری کالج نہیں ہے۔بیان پر دستخط کرنے والوں میںآدرش بھارتیہ سماج کے چیر مین کرنل (ریٹائرڈ)آر کے شرما ، صدر ڈاکٹر نیتر پرکاش شرما ، ڈاکٹر سوشما شرما ، دیوا کر ناتھ کھجوریہ،وملا کماری، کیپٹن (ریٹائرڈ) اوم پرکاش، سدیش کمار شرما ، پروین کمار، ایس گلزار سنگھ ، گورو شرما ، دھیرج شرما ،مہندر کمار، منوہر للع شرما ، یوگیتا ائیشر، ڈاکٹر للت شرما ، پنڈت سریندر کمار، ہمت رائے، ایس ہر بھجن کور،کملا دیوی، ایس بلدیو سنگھ ، کھیم راج، اوم پرکاش، ٹیک چند، جگدیش کمار، روتی پرساد،ڈاکٹر نہا شرما ،ڈاکٹر تیجدر شرما اور پنڈت چمن لعل شرما بھی شامل تھے۔
یاتریوں نے ترکوٹہ پہاڑیوں پر مانسون شجر کاری شروع کی
کٹرا //شری ماتا ویشنو دیوی شرائن بورڈ ترکوٹہ پہاڑیوں پر اور بھون کی جانب جانے والی پگڈنڈی پر ماحول کے تحفظ اور سر سبز رکھنے کیلئے لگاتار اپنی کاویشن جاری رکھے ہوئے ہے۔اس مقصد کو حاصل کرنے کیلئے شرائن بورڈ نے اپنے شجر کاری مہم کے لئے رواں سال کے مون سون پروگرام کے تحت ادھکواری میں شجر اکری مہم کا افتتاح کیا۔ رواں سال کے شجر کاری مہم کے تحت شرائن بورڈ کاشرائن کے علاقہ میں 1.50لاکھ پودے لگانے کا منصوبہ ہے، جس میں جنگلاتی، باغبانی ،پھولوں ،ادویاتی اور زیبائشی اقسام کے پودے لگائے جائیں گے۔ شرائن بورڈکے چیف ایگزیکٹو افسر سرمن دیپ سنگھ نے ادھکواری میں پیپل، برگد و دیگر اقسام کے درخت لگا کر شجر کاری مہم کا افتتاح کیا۔بعد ازاں ادھکواری میں جامع شجر کاری مہم کا اہتمام کیا گیا،جس میں یاتریوں کے علاوہ شرائن برڈ کے عملہ نے بھی شرکت کی۔شجر کاری میں چنار، پیپل، برگد، ہراڈ،بہرا، آملہ، جامون ،ارجنا ، بہوینیا،امرود، املی، املٹاس، جعفری، سورج مکھی، بالسم ، پینزی، و دیگر اقسام کے پودے لگائے گئے۔یہ تمام پودے شرائن بورڈ کی جانب سے قائم ہائی ۔ٹیک نرسری نے دستیاب کئے تھے۔ایڈیشنل سی ای او وویک ورما ، ڈپٹی سی ای اوز ڈاکٹر اروند کروانی، امت ورمانی، دیپک دوبے، و شرائن بورڈ کے متعلقہ افسراں و دیگر عملہ بھی اس موقعہ پر موجود تھے۔
پنتھرز سربراہ بھیم سنگھ کی صدرہند سے اپیل
ریاست کی تسلیم شدہ سیاسی جماعتوںکی میٹنگ بلائی جائے
جموں//جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی پروفیسر بھیم سنگھ نے ہندستان کے صدر سے جموں و کشمیر میں سرگرم تمام منظور شدہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ قومی جماعتوں کے نمائندوں کی فوری طورپر میٹنگ بلانے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ کچھ ذاتی مفاد پرست اور بنیاد پرست ایجنسیوں نے جموں و کشمیر میں شہریوں کے درمیان تنوع-جدوجہد پیدا کرنے کی ایک مہم شروع کر دی ہے۔ پینتھرس سربراہ نے صدر سے ہر سیاسی پارٹی کے کم از کم ایک سابق ممبر اسمبلی کو شامل کرکے فوری طورپر میٹنگ بلانے کی اپیل کی۔جموں و کشمیر میں صرف تین منظور شدہ سیاسی پارٹیاں ہیں نیشنل کانفرنس، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور نیشنل پینتھرس پارٹی اور دیگر پارٹیوں کے ایک سابق ممبر اسمبلی سمیت حریت کانفرنس کے سابق ممبر اسمبلی کو بھی مدعو کیا جا جائے۔پروفیسر بھیم سنگھ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں موجودہ قیادت بے ایمانی کر رہی ہے، جیسا پہلے انہوں نے اقتدار حاصل کرنے کے لئے تھا اور اب وادی کے حساس علاقوں میں پروپگنڈہ کیا جا رہا ہے، جو ریاست کا ایک علاقہ ہے۔ پینتھرس سربراہ نے شیطانی پروپیگنڈے پر افسوس کا اظہار کیا، جو وادی میں جھوٹی افواہیں پھیلا کرریاست میں تقسیم اور افراتفری پیدا کرنے کے لئے وادی میں نفرت کو اکسا رہی ہے۔ انہوں نے افسوس کے ساتھ کہا کہ جموں و کشمیر میں موجودہ انتظامیہ عوام کے ساتھ بات چیت کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی اور گورنر راج کے تحت حکومت میں ایک بھی مشیر نہیں ہے۔ سیاسی پارٹی کے شہری مشیر عوام کے رابطے میں رہنے کے لئے انتہائی مفید ہوں گے۔ پینتھرس سربراہ نے ہندستان کے صدر رامناتھ کووند سے درخواست کی چونکہ جموں و کشمیر صدر راج کے تحت ہے اور ہندستان کے صدر کو سیاسی نظام اور پارٹیوں کی طرف سے رابطہ بنانے کی ضرورت ہوتی ہے، جسے ریاستی انتظامیہ کی طرف سے مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ انتظامیہ مواصلات کے لئے لوگوں کو مضبوط بنایا جائے، جو بیوروکریسی یا سیکورٹی فورسز کے ذریعے ممکن نہیں ہے۔ پینتھرس سربراہ نے صدر سے علاقائی اور قومی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کی ایک میٹنگ جلد از جلد میٹنگ بلانے کی اپیل کی تاکہ مرکزی حکومت کو صورتحال کے بارے میں مناسب معلومات ملے اوراسے پتہ چل سکے کہ موجودہ صورتحال میں ریاست میں کیا کئے جانے کی ضرورت ہے۔