مڈ ڈے میل سکیم میں پنچایتی نمائندگان کو شامل کرنا خوش آئندہ قدم
سکیم کو مکمل طور پنچایتی نمائندگان کے حوالے کر کے اساتذہ کو اس سے مبرا رکھنے کامطالبہ
عظمیٰ نیوز
جموں// سرکار کی طرف سے سرکاری سکولوں میں مڈ ڈے میل سکیم کو چلانے کے لئے پنچایتوں کو شامل کرنے کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس سکیم کو مکمل طور پر پنچایتی نمائندوں کو سوپنے کی مانگ کرتے ہوئے اساتذہ کو اس سے ممبرا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے میڈیا انچارج کی طرف سے جاری ایک بیان کے مطابق فورم کے ریاستی چیئرمین فاروق احمد تانترے نے سرکار کے اس حکم کا خیر مقدم کرتے ہوئے مڈ ڈے میل کو یوری طرح سے پنچایتی نمائندگان کے سپرد کر نے کی اپیل کی ہے ۔انہوں نے کہا ہے کہ فورم شروع سے ہی یہ مطالبہ کرتی آ رہی ہے کہ سکولوں میں اس سکیم کو اساتذہ کے ذریعے سے چلانے کی وجہ سے سکولوں میں درس و تدریس کا کام متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کیا کہ بیشتر پرائمری و مڈل سکولوں میں سٹاف کی کمی کی وجہ سے ایک استاد اسی کام پرمامور رہتا ہے جس کی وجہ سے نصاب مکمل کرنے میں اساتذہ کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور بچوں کی تعلیم متاثر ہو جاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ دور دراز کے علاقوں میں اس سکیم کو چلانے میں اساتذہ کو اور بھی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ اشیائے خوردنی اور گیس و دیگر کچن کے سامان کا انتظام کرنے کے علاوہ اس کے حساب کتاب میں ایک استاد کا بیشتر وقت گزر جاتا ہے جس کی وجہ سے جن سکولوں میں صرف دو یا تین استاد تعینات ہیں تعلیمی نظام طرح سے متاثر ہو جاتا ہے ۔فورم نے گورنر انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ اساتذہ کو اس کام سے ممبرا کیا جائے تاکہ سکولوں میں تعلیم کا کام متاثر نہ ہو ۔
بانہال میں شہری کی مارپیٹ پر فریڈم مومنٹ کی مذمت
عظمیٰ نیوز
جموں// جموں کشمیر فریڈم مومنٹ کے چیئرمین محمدشر یف سر تاج نے بانہال کے مقام پر فوج کی طرف سے عام شہری کی بلاوجہ مارپیٹ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے فوج اورنیم فوجی دستوں کو کشمیر ی قوم کو مارپیٹ کرنے کی پوری آزادی دے رکھی ہے چاہے وہ ریاست جموں و کشمیر کے کسی بھی خطے میں رہتے ہوں ۔یہاں جاری ایک بیان میں ان کاکہناتھاکہ انسانی حقوق کی دھجیاں اُڑانا فورسز کا معمول بن چکا ہے ۔ سر تاج نے کہاکہ مودی سرکار کی یہ خام خیالی ہے کہ جموں کشمیر کی عوام کو فورسز کی دہشت سے خوف زدہ کریں گے،ان کے اس عمل سے یہاں کی غیور عوام کے جوش جزبہ میں دن بدن اضافہ ہی ہوگا اورکمی نہیں ہوگی،اس لئے مودی سرکارکو چاہئے کہ وہ اس قسم کے غیر انسانی اور غیر اخلاقی ہتھکنڈے ترک کرے اور اس دیرنہ حل طلب مسئلہ کے فوری حل کے لئے سہ فریقی بات چیت کے اقدام کرے۔ان کاکہناتھاکہ دنیا کا کوئی بھی مسئلہ بغیر بات چیت کے حل نہیں ہوسکتا ہے اور نہ ہی کوئی مسئلہ فوجی طاقت سے دبا یا جا سکتا ہے۔انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور ہندستان کے امن پسند اور انسان دوست عوام سے اپیل کی کہ انسانی حقوق کی پامالیوں کا نوٹس لےتے ہوئے یہا ں پرانسانی حقوق کی پامالیوں پر روک لگا نے اوربے لگام فورسز کو لگام لگانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
بھاجپا نے اقتدار کیلئے عوام سے دھوکہ کیا:کانگریس
جموں //کانگریس کے سینئر لیڈر و سابق وزیر مولہ رام نے کہاہے کہ کانگریس وہ واحد جماعت ہے جوملک کے سیکولر کو بچاسکتی ہے جبکہ بھاجپا تفریق پسند سیاست پر یقین رکھتی ہے اور اس نے اقتدار کیلئے عوام کو دھوکہ دیاہے ۔رائے پور دومانہ میں کارکنان کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بھاجپا نے رائے دہندگان کے ساتھ کھلواڑ کرکے اقتدار پر قبضہ جمایا۔انہوں نے کہاکہ مرکز میں برسر اقتدار اور ریاست میں سابق بھاجپا حکومت نے امن و ترقی کو نقصان پہنچایا جس کے نتیجہ میں لوگوں میں اس جماعت کے تئیں غم وغصہ بڑھ رہاہے ۔انہوں نے کہاکہ 2014کے دورن کئے گئے وعدے ایفا نہیں کئے گئے ۔
انجینئر رشید کیخلاف یووا راجپوت سبھا کا احتجاجی مظاہرہ
توی پل پر ٹریفک کی آمدورفت معطل کردی
عظمیٰ نیوز
جموں //یووا راجپوت سبھا کے کارکنان نے سابق ممبراسمبلی لنگیٹ انجینئر رشید کے مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف بیان پر احتجاجی مظاہرہ کیا جس دوران انہوں نے توی پل پر گاڑیوں کی آمدورفت بند کرنے کی بھی کوشش کی ۔ اس موقعہ پر کارکنان نے کہاکہ انجینئر رشید کا بیان ڈوگرہ طبقہ کے خلاف ہے جس کو برداشت نہیں کیاجائے گا۔ احتجاج کی قیادت کرتے ہوئے سریندر سنگھ گلی صدریووا راجپوت سبھا نے کہاکہ تنظیم کے ارکان نے پہلے ہی پولیس کے پاس انجینئر رشید کے خلاف شکایت درج کروائی ہے اوراسے فوری طور پر گرفتار کیاجائے ۔ انہوں نے کہاکہ انجینئر رشید نے ایسے کلمات کہے ہیں جن کو برداشت نہیں کیاجاسکتا۔ان کاکہناتھاکہ اس بیان کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے اور پولیس کو اپنی کارروائی کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ انجینئررشید جموں کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔