مقامی شخص کی لاش دریا سے برآمد
راجوری //راجوری میں ایک مقامی شخص کی لاش دریا سے برآمد ہونے کے بعد پولیس نے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں ۔پولیس نے بتایا کہ مذکورہ شخص کی شناخت جے رام ولد پارس رام سکنہ اگراتی کے طورپر ہوئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس سلسلہ میں ایک اطلاع موصول ہو ئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ مذکورہ علا قہ میں ایک لاش پڑی ہوئی ہے جس کے بعد پولیس کی ایک ٹیم نے موقعہ پر جا کر لاش کو ہسپتال منتقل کروایا تاکہ اس کا پوسٹ مارٹم کروایا جاسکے ۔انہوں نے بتایا کہ تمام قانونی لورزامات مکمل کرنے کے بعد لاش کو آخری رسومات کیلئے لواحقین کے حوالے کر دیا گیا ہے ۔
پونچھ کے گائوں منگناڑ میں پانی کا منصوبہ 9برس بعد بھی نامکمل
مکینوں کا سخت دقتوں کا سامنا ،وعلاقہ کا فد ڈی سی پونچھ سے ملا قی
حسین محتشم
پونچھ// ضلع پونچھ کے منگناڑ کے گائوں کلساں لوہر کی عوام کو پانی فراہم کرنے کیلئے محکمہ صحت عامہ کی جانب سے2012-13میںپانی چڑھانے کا منصوبہ (لفٹ سسٹم) کا کام شروع کیا گیا تھا جو 9برس بعد بھی مکمل نہیں ہوسکا۔مقامی لوگ الزام لگا رہے ہیں کہ متعلقہ افسران اپنی اپنی ذمہ داریاں قبول کرنے سے انکاری ہیں۔اس سلسلہ میں حاجی شیر عالم ولد حاجی غلام یوسف ساکن منگناڑ محلہ لور کلساں کی قیادت میں گائوں کے لوگوں کا ایک وفد ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ اندرجیت سے ملا جہاں انہوں نے الزام لگایا کہ لفٹ سسٹم کے لئے3کڑور روپئے فراہم کئے جانے کے باوجود اس کی تعمیرات نامکمل ہیں۔وفٖد نے ضلع ترقیاتی کمشنر کو ایک تحریری یاداشت بھی پیش کی جس میں انہوں نے الزام لگایا کہ محکمہ صحت عامہ (پی ایچ ای ) کی جانب سے مئی2012 میں گائوں منگناڑ کی عوام کو درپیش پانی کی قلت ختم کرنے کے لئے لفٹ سسٹم کا سنگ بیناد رکھا گیاتھا۔اس دوران ایک ڈھانچہ بھی تیار کیا گیا تھا اور کچھ پاپئیں بھی بچھائی گئی لیکن اس کے بعد سے اب تک تقریبا تین کروڑ روپئے اس کام کے لئے سرکار نے واگزار کئے ہیں جن کا زمینی سطح پر کہیں نام و نشان نظر نہیں آتا۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں گائوں کی عوام کی جانب سے شکایت کئے جانے پر کئی بار انکوائری کروائی گئی لیکن اس کا کوئی حل نہ نکلا ۔ وفد میں شامل افراد نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 9واں سال ختم ہونے کو ہے کڑوروں روپے خرچ ہوگئے مگرگائوں کی عوام کو پانی فراہم کرنے کے لیے بنایا جانے والا لفٹ سسٹم مکمل نہ ہوسکا ۔انہوں نے کہا کہ جو کام کیا گیا تھا اس میں بھی وہاں لگائی گئی پاپئیں غائب ہیں ، جو ڈھانچہ تیار کیا گیا تھا وہ خستہ حال ہوچکا ہے، منصوبہ مکمل نہ ہونے کی وجہ سے لاکھوں مالیت کا سامان تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔انہوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر سے اپیل کی کہ وہ اس سلسلہ میں افسران کی ایک ٹیم تشکیل دے کر اس کی دوبارہ جانچ کروائیں۔ ڈی سی نے وفد کے تمام مسائل سنے کے بعد موقع پر ہی اضافی ضلع ترقیاتی کمشنر کو اس سلسلہ کی تحقیقات کی ہدایت کرتے ہوئے فوری رپورٹ پیش کرنے کو کہا۔
خاتون نے خودکشی کی کوشش کی
رمیش کیسر
نوشہرہ //سب ڈویژن نوشرہ کے مانپور گائوں میں ایک خاتون نے خو د کشی کرنے کی کوشش کی تاہم اس کو علاج معالجہ کیلئے ہسپتال بھرتی کروادیا گیا ہیے ۔پولیس نے بتایا کہ سب ڈدویژن کے مانپور علاقہ میں ایک شادی شدہ خاتون نے کوئی زہریلی چیز نگل کر خود کشی کرنے کی کوش کی تاہم لواحقین نے اس کو علاج معا لجہ کیلئے ہسپتال منتقل دیا ہے ۔خاتون کی شناخت جیوتی دیوی زوجہ راکیش کمار کے طورپر ہوئی ہے مقامی ہسپتال سے ڈاکٹروں نے اس کو گور نمنٹ میڈیکل کالج ریفر کر دیا ہے جبکہ پولیس نے اس سلسلہ میں ایک معاملہ درج کرتے ہوئے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں ۔
مسافر گاڑیوں کے کرایہ پر کوئی روک ٹوک نہیں
پونچھ //خطہ پیر پنچال کے اکثر مقامات پر مسافرگاڑیوں کے کرائے و سواریوں میں ہوئے دوگنے اضافے پر انتظامیہ کی جانب سے کوئی کنٹرول ہی نہیں کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے عام لوگوں کو دقتوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔مکینوں نے انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ مختلف رابطہ سڑکوں پر ڈرائیور طبقہ اپنی من مانی کرتے ہوئے عوام سے طے شدہ کرائے سے بھی اضافی کرایہ وصول کررہا ہے اور جب کوئی مسافر اعتراض کرے تو اسے کھری کھوٹی سننی پڑتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ کرائے میں انتظامیہ کی جانب سے جتنا اضافہ کیا گیا ، اس سے اضافی کرایہ عوام سے وصول کیا جا رہا ہے اور اس کی کوئی خبر لینے والا نہیں ہے ،انتظامیہ خواب غفلت میں ہے۔مسافروں نے بتایا کہ اکثر رابطہ سڑکوں پر ٹاٹا سومو ڈرائیور اپنی من مانیاں کر تے ہیں جس کی وجہ سے مسافروں کو دوران سفر شدید مشکلا ت سے دو چار ہونا پڑتا ہے ۔انہوں نے جموں وکشمیر انتظامیہ سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ مسافر کرائیوں پر کنٹرول کرنے کیساتھ ساتھ کووڈ کے دوران گاڑیوں میں اور لوڈنگ کرنے والوں کیخلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے ۔
شاہپور 14کلو میٹر سڑک برسوں بعد بھی نامکمل
راجوری //سب ڈویژن کوٹرنکہ میں محکمہ پی ایم جی ایس وائی کی سڑک 9برسوں بعد بھی مکمل نہ ہونے کی وجہ سے دیہات کی عوام کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔کوٹرنکہ تا شاہپور 14کلو میٹر سڑک کی تعمیر کا عمل 2011میں شروع کیا گیا تھا لیکن متعلقہ محکمہ زمینی کٹائی کے بعد سست ہو گیا ہے جس کی وجہ سے عام لوگ اپنی جان جوکھم میں ڈال کر سفر کرنے پر مجبور ہیں ۔مکینوں نے محکمہ پی ایم جی ایس وائی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ کروڑوں روپے خرچ کرنے کے بعد بھی پروجیکٹ کو مکمل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں لی جارہی ہے ۔لوگوں نے محکمہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ رابطہ سڑک کو معیاری بنانے کیلئے نہ تو نالیوں کا کوئی بندوبست کیا گیا ہے اور نہ ہی حفاظتی باندھ تعمیر کئے گئے ہیں جس کی وجہ سے بارشوں کا پانی ملحقہ علا قوں میں آنے والی زرخیز زمینوں و رہائشی مکانات کو شدید نقصان پہنچارہا ہے ۔ایک مقامی شخص نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سڑک کی تعمیر کیلئے کئی مرتبہ متعلقہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اور محکمہ پی ایم جی ایس وائی کے ایگز یکٹو انجینئر سے رجوع کر چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی عملی کام ہی نہیں کیا جارہا ہے ۔مقامی لوگوں نے لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ سے مانگ کرتے ہوئے کہا مذکورہ رابطہ سڑک کے زیر تحت آنے والی آبادی کو معیاری سہولیات فراہم کرنے کیلئے محکمہ کو ہدایت جاری کی جائیں ۔
منجا کوٹ کی اکثر رابطہ سڑکیں بدحالی کا شکار
راجوری //تحصیل منجا کوٹ کے مختلف دیہات میں رابطہ سڑکیں کئی برسوں سے مکمل نہیں ہو سکی جس کی وجہ سے مکینوں کو دوران آمد ورفت شدید مشکلات کا سا مناکرناپڑرہا ہے ۔مقامی لوگوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ کئی محکموں کی جانب سے تعمیرات کو مکمل ہی نہیں کیاجارہا ہے جس کی وجہ سے جہاں سڑکوں کے قریب آباد لوگوں کی زارعی اراضی کو نقصان پہنچ رہا ہے وہائیں رہائشی مکانات بھی تباہ ہو رہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ کئی ٹرانسپورٹروں نے قرض لے کر گاڑیاں لی ہوئی ہیں لیکن رابطہ سڑکوں کی خراب حالت کی وجہ سے مذکورہ گاڑیاں بھی تباہ ہو رہی ہیں ۔مکینوں نے بتایا کہ دھیری رلیوٹ تا کوٹلی کالابن سڑک کیساتھ ساتھ بھمبر گلی تا منگل ناڑ رابطہ سڑک گزشتہ کئی عرصہ سے زیر تعمیر ہیں لیکن انتظامیہ و متعلقہ محکمو ں کی جانب سے پروجیکٹوں کو جلد مکمل کرنے میں کوئی دلچسپی ہی ظاہر نہیں کی جارہی ہے ۔انہوں نے جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ رابطہ سڑکوں کو جلداز جلد مکمل کروانے کیلئے متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کی جائیں ۔
پیر بڈیسر میں رابطہ سڑک تعمیر کرنے کا مطالبہ
رمیش کیسر
نوشہرہ //نوشہرہ سب ڈویژن کے پیر بڈیسر علا قہ میں مکینوں کی آمد ورفت کیلئے رابطہ سڑک نہ ہونے کی وجہ سے مقامی لوگوں کو دوران آمد ورفت شدید مشکلات کا سامنا کرناپڑرہا ہے ۔سب ڈویژن کے سرحدی علا قہ میں آباد گائوں کے مکینوں نے بتایا کہ مذکورہ علا قہ میں کوٹلی ،پڑاں وغیرہ محلہ کے 72کنبہ جات آباد ہیں جن کیلئے رابطہ سڑک ہی دستیاب نہیں ہے اور مشکل وقت میں بھی مذکورہ کنبوں کے افراد کئی کلو میٹر کی پیدل مسافت طے کر نے پر مجبور ہیں ۔لوگوں نے بتایا کہ وہ پیدل3کلو میٹر کی مسافت طے کر کے پیڑاں گائوں میں جاتے ہیں ۔شیر محمد ،محمد شبیر ،محمد ریاض ،سلطان احمد ودیگران نے بتایا کہ وہ گزشتہ کئی برسوں سے سڑک رابطہ کی مانگ کررہے ہیں لیکن محکمہ جنگلات کی جانب سے رخنہ ڈالنے کی وجہ سے ان کو شدید مشکلات کا سامنا کرناپڑرہا ہے ۔انہوں نے کہاکہ سڑک کی تعمیر والی جگہ ملکیت ہے تاہم اس کے باوجود بھی رخنہ ڈالنے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔مکینوں نے لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ علاقہ کو رابطہ سڑک کیساتھ جوڑنے کیلئے عملی سطح پر کام کیا جائے ۔