اے ڈی جی منیرخان نے اہلکاروں وآفیسروں کے مسائل سُنے
جموں//ایڈیشنل ڈائریکٹرآف پولیس ہوم گارڈس ،سی ڈی ، ایس ڈی آرایف /سیکورٹی جموں وکشمیر منیراحمدخان نے ایس ڈی آرایف کی دوسری بٹالین کادورہ کیااورگارڈآف آنرکاجائزہ لیا۔اے ڈی جی پی نے ایس ڈی آرایف کی دوسری بٹالین کے اہلکاروں اورآفیسروں کے مسائل سننے کیلئے دربارمنعقد کیا۔اس دوران اہلکاروں وافسروں نے پرموشن ، گریڈپے اور دیگرمتعلقہ مسائل اُجاگرکئے۔اس موقعہ پر مسائل کوبغورسنااوران کے ازالہ کوتیزرفتارعمل کے ذریعے حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔شبیراحمدایس ایس پی ،ایس اوہیڈکوارٹر کم انچارج کمانڈنٹ ایس ڈی آرایف ،سیکنڈبٹالین جموں ،سنیل راج ، ایس ایس پی سٹاف ہیڈکوارٹر (ایڈمنسٹریشن)، ڈائریکشن آفیس اوردیگرآفیسران بھی دربارمیںموجودتھے۔
شوپیان میں عام شہریوں ہلاکتوں کامعاملہ
عدالتی جانچ کروائی جائے:حکیم یاسین
جموں//چیئرمین پی ڈی ایف اورایم ایل اے خانصاب حکیم محمدیٰسین نے شوپیان میں تازہ شہری ہلاکتوں پرگہرے دُکھ کااظہارکرتے ہوئے واقعے کی عدالتی جانچ کروانے کامطالبہ کیاہے۔ یہاں جاری پریس بیان میں حکیم محمدیٰسین نے وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی جویونیفائیڈکمانڈ کی سرپرست بھی ہے پرالزام لگایاکہ وہ سیکورٹی فورسزمیں چھپے ان چندکالے بھیڑیوں پرلگام لگانے میں بُری طرح ناکام ہوگئی ہے جو آئے دن نہتے شہریوں کی ہلاکتوں کے مرتکب ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اعلیٰ سطح پرسیکورٹی انتظامیہ میں جواب دہی نہ ہونے کی وجہ سے ریاست خاص کروادی کشمیرکے مختلف حصوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کاایک نہ ٹوٹنے والاسلسلہ شروع ہوگیا ہے جس کی ساری ذمہ داری موجودہ سرکارپرعائد ہوتی ہے ۔ انہوں نے انتباہ دیاکہ اگرسیکورٹی نظام میں چھپے کالے بھیڑیوں کوالگ تھلگ کرکے معصوم شہریوں کی ہلاکتوں پر فوری روک نہ لگائی گئی تواس کے ملکی اورریاستی سطح پر بھیانک نتائج برآمدہونے کاخدشہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ عام شہریوں کی بلاوجہ ہلاکتیں ملک کے اجتماعی مفادات کے خلاف ہیں۔ حکیم یٰسین نے کہاکہ وادی میں شہری ہلاکتوں کی وجہ سے عام لوگوں میں خوف وہراس اورعدم تحفظ کاماحول پیداہواہے جس کے منفی اثرات آنے والے سیاحتی موسم پربھی پڑسکتے ہیں اورسیلانی وادی کی سیاحت پرآنے سے گریزکریں گے۔
ہلاکتوں پرمگرمچھ کے آنسوبہانا حکومت کامعمول:تاریگامی
جموں//شوپیاں میں عام شہریوں کی ہلاکت کوانتہائی افسوسناک قراردیتے ہوئے سی پی آئی (ایم) کے سینئرلیڈراورممبراسمبلی کولگام محمدیوسف تاریگامی نے کہاہے کہ اس طرح کے واقعات کے ذمہ داروں کے خلاف کوئی موثر کارروائی عمل میں نہ لانابدقسمتی ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت کی جانب سے ہلاکتوں کے واقعات کی تحقیقات کے احکامات سے ابھی تک کچھ بھی حاصل نہیں ہواہے ۔سرکار کی طرف سے اس طرح کی ہلاکتوں پرمگرمچھ کے آنسوبہانا معمول بن چکاہے ۔جب بھی عام شہریوں کی ہلاکت کاکوئی واقعہ پیش آتاہے توحکومت فوری طورپر تحقیقات کاآرڈردے دیتی ہے لیکن تحقیقات کاکوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آتاہے۔تاریگامی نے کہاکہ فورسزکی طرف سے شوپیان میں حال ہی میں ہوئی عام شہریوں کی ہلاکت کے واقعے کاکچھ بھی جوازپیش کریں،اسے درست تسلیم نہیں کیاجاسکتا۔ انسانی جانوں کازیاں نہایت ہی افسوسناک ہے اورجوعناصرہلاکتوں کے ذمہ دارہیں انہیں جواب دہ ہوناچاہیئے ۔آخرکب تک کشمیرمیں عام شہریوں کاخون بہتارہے گا۔تاریگامی نے ملک بھرکی جمہوری قوتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ حکومت پراس بات کے لیے دبائوڈالیں ،کہ وہ سیکورٹی فورسزکوانتہائی تحمل اورذمہ داری اختیارکرنے کاپابندبنائے۔ انہوں نے اس بات پربھی زوردیاکہ اس طرح کے غیرانسانی واقعات کے خلاف سو ل سوسائٹی کواپنی آوازبلندکرنے کیلئے آگے آناچاہیئے اورساتھ ہی پارلیمنٹ میںجمہوریت نوازعوامی نمائندوں کو متحدہ طورکر اس معاملے کواُجاگرکرنے کی ضرورت ہے۔تاریگامی نے متاثرہ کنبوں کے ساتھ ہمدردی کااظہارکرتے ہوئے پُرزور مطالبہ کیاکہ سیکورٹی فورسزکودیئے گئے غیرضروری اختیارت کوواپس لینے کے لیے کم سے کم پرامن علاقوں سے افسپاہٹایاجائے۔
ایسے واقعات کشمیریوں کوقومی دھارے سے دورکررہے ہیں:وکیل
جموں وکشمیربچائوتحریک کے صدروسابق وزیرعبدالغنی وکیل نے شوپیاں میں عام شہریوں کی سیکورٹی فورسزکی فائرنگ کے نتیجے میں ہوئی ہلاکتوں پردُکھ کااظہارکیاہے۔یہاں جاری پریس بیان میں عبدالغنی وکیل نے کہاکہ اگراسی طرح عام شہریوں کی قتل وغارت جاری رہی توریاست کے عوام خاص کروادی کے لوگ قومی دھارے سے اتنے دورہوسکتے ہیں کہ واپس آنا ناممکن بن سکتاہے۔عبدالغنی وکیل نے شوپیاں میں عام شہریوں کی سیکورٹی فورسزکی فائرنگ سے ہوئی اموات کی پرزورالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیاکہ وہ فوری طورپرواقعہ کی عدالتی تحقیقات کے احکامات صادرکئے جائیں اورتحقیقات کم سے کم موجودہ ہائی کورٹ جج کی نگرانی میں ہونی چاہیئے اورحکومت پرزوردیاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات رونمانہ ہوں کویقینی بنایاجائے۔
کٹھوعہ واقعہ کی تحقیقات سی بی آئی سے کروائی جائے:پروفیسربھیم سنگھ
جموں//جے کے این پی پی کے سرپرست و سپریم کورٹ کے سنیئر ایڈوکیٹ پروفیسر بھیم سنگھ نے ضلع کٹھوعہ کے موضع رسانہ کا دورہ کیااور شاکی کنبہ کے ارکان کے علاوہ متاثرہ لڑکی کے والدین محمدیوسف اور نگینہ ، سول سوسائیٹی کے ممبران، پنچوں /سرپنچوںاور دیگر سبھی طبقوں کے معزز اشخاص کے ساتھ ملاقات کی اور صورت حال کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کیں۔سول سوسائٹی کے ممبران نے بھیم سنگھ کو بتایاکہ مقامی پولیس بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے متعدد نوجوانوںکو گرفتار کرکے علاقہ میں خوف و ہراس پیدا کررہی ہے۔اور یہ ساری صورت حال کچھ پیشہ ور سیاست دانوںکی ایماپر پیدا کی جارہی ہے۔بھیم سنگھ نے ایک معصوم بچی کی عصمت ریزی اور قتل پر گہرے رنج و غم کا اظہارکرتے ہوئے متاثرہ کنبہ کے ساتھ ہمدردی ظاہر کی ۔انہوں نے ریاست کے گورنر سے اپیل کی وہ ریاستی سرکار کو ہدایت دے کہ اس گھنائونے جرم کی تحقیقات سی بی آئی کے ذریعہ کرائے اور یہ مطالبہ متاثرہ کنبہ کے والدین کے علاوہ ہر شخص کا ہے تاکہ اصلی ملزموں کوگرفتار کرکے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔بھیم سنگھ کے ہمراہن پی کے گنجوسینئر نایب صدر،انیتاٹھاکورجنرل سیکرٹری،رمیش کھجوریہ ، جگدیو سنگھ، راجندر سنگھ، بلوان سنگھ،ریاستی سیکرٹریزاور دیگران بھی تھے۔
انتہاپسندوں کی جانب سے خطہ جموں میںفرقہ واریت کوفروغ دیناافسوسناک:سکھ انٹلیکچول سرکل
جموں//مختلف سکھ تنظیموں کی مشترکہ تنظیم ’سکھ انٹلیکچول سرکل‘ نے آصفہ عصمت دری وقتل کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ جموں میں کچھ انتہاپسند لوگ آصفہ عصمت دری وقتل معاملے کوفرقہ وارانہ رنگت دے کر فرقہ واریت کوبڑھاوادینے کی کوشش کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ آصفہ بانواقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والی ایک معصوم بچی تھی جس کی درندہ صفت افرادنے بے دردی سے عصمت دری کرکے قتل کیا۔انہوں نے کہاکہ معصوم بچی کاقتل انسانیت کاقتل ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ آصفہ کے ملزمان کوسخت سے سخت سزادی جائے ۔یہاں جاری پریس ریلیز کے مطابق مختلف سکھ تنظیموں بشمول شرومنی اکالی دل (امرتسر)، سکھ انٹلیکچول سرکل جموں کشمیر، انٹلیکچول سکھ فیڈریشن اورسکھ سٹوڈنٹس فیڈریشن وغیرہ نے سکھ انٹلیکچول سرکل کے بینرتلے مشترکہ اجلاس منعقد کیا۔اس دوران مقررین نے کہاکہ جموں میں اقلتیوں میں خوف وہراس پیداکیاجارہاہے ۔انہوں نے کہاکہ بی جے پی کے کچھ لیڈر کھلے عام ملزم کی حمایت کرکے جموں کے لوگوں میں فرقہ پرستی کوپھیلانے کی کوشش کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اگرحالات بگڑتے ہیں تواس کی ذمہ داری حکومت بالخصوص بی جے پی ہوگی ۔میٹنگ میں شرکت کرنے والوں میں جسپال سنگھ منگل، نریندرسنگھ خالصہ، منموہن سنگھ، منکمال سنگھ، امن دیپ سنگھ ،منجیت سنگھ اوراندرسنگھ وغیرہ شامل تھے۔ اجلاس کے آخرمیں تبادلہ خیال کرتے ہوئے سکھ لیڈران نے کہاکہ وہ انتہاپسندعناصرکے خلاف آوازبلندکریں گے اورمتاثرہ طبقے کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے ۔جموں خطہ میں انتہاپسندی اورفرقہ واریت کوپھیلانے والوں کے خلاف آوازاُٹھائیں گے اورجموں خطہ سے تعلق رکھنے والے اقلیتی طبقہ کوانصاف اورتحفظ دینے کیلئے اقوام متحدہ اوردیگرانسانی حقوق تنظیموں کومیمورنڈم پیش کرنے کافیصلہ بھی لیاگیا اورکہاکہ جموں وکمشیرکامسئلہ جب تک حل نہیں ہوتاہے تب امن وانصاف ملنانظرنہیں آتاہے۔
صارفین کے حقوق کاعالمی دن
ذوالفقار علی نے تیاریوں کا جائزہ لیا
جموں/خوراک ، شہری رسدات و امور صارفین اور قبائلی امور کے وزیر چودھری ذوالفقار علی نے متعلقہ محکموں کے افسروں کی ایک میٹنگ کے دوران صارفین کے حقوق سے متعلق عالمی دن کی تیاریوں کا جائزہ لیا ۔یہ دن ریاست بھر میں 14؍مارچ کو منایا جائے گا ۔اس موقعے پر وزیر موصوف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ دن صارفین کے حقوق کو تحفظ دینے میں ایک اہم رول ادا کر سکتا ہے اور اس دن کی بدولت لوگوں میں بیداری بھی پیدا کی جا سکتی ہے ۔ وزیر نے ڈائریکٹر FCSاینڈ CAکے ڈائریکٹر کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دینے کی بھی ہدایت دی تاکہ اس طرح کے پروگرام زیادہ سے زیادہ تعداد میں منعقد کئے جا سکیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس کام میں تمام متعلقین کو شامل کیا جانا چاہئے ۔میٹنگ میں جوائنٹ کنٹرولر ایف سی ایس اینڈ سی اے جموں منصو ر اسلم ، جوائنٹ کنٹرولر ایل ایم ڈی وی ایس سمبیال ، ڈپٹی کنٹرولر ایل ایم ڈی منوج پربھاکراور متعلقہ محکموں کے اعلیٰ افسروں نے بھی شرکت کی ۔
سپیکرنے گاندھی نگرحلقہ میں ترقیاتی کاموں کاجائزہ لیا
جموں/جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی کے سپیکر کویندر گپتا نے کہا کہ حکومت لوگوں کو ان کے دہلیز پر کم سے کم سے وقت کے اندر تمام بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی وعدہ بند ہے ۔سپیکر حلقہ انتخاب گاندھی نگر کے تفصیلی دورے کے دوران مقامی لوگوں سے بات کر رہے تھے ۔حلقہ انتخاب میں جاری ترقیاتی کاموں کا جائزہ لیتے ہوئے سپیکر نے متعلقہ افسروں کو ہدایت دی کہ وہ تمام پروجیکٹوں کو مقررہ وقت کے اندر مکمل کرنے کے اقدامات کریں تاکہ ان ترقیاتی پروگراموں کا فائدہ لوگوں کو جلد از جلد حاصل ہو۔ اس موقعہ پر سپیکر نے سنجے نگر علاقے کے لئے نئے ٹرانسفارمر کو نصب کرنے اور تمام ضروری ایل ٹی اور ایچ ٹی لائنوں کو بدلنے کے احکامات جاری کئے ۔انہوں نے کہا کہ حلقہ انتخاب میں پچھلے تین برسوں کے دوران کئی اَپ گریڈیشن اور اختراعی پروجیکٹ شروع کئے گئے ہیں۔انہوںنے کہا کہ جموں ائیر پورٹ اور ریلوے سٹیشن کو اَپ گریڈ کرنے کا کام بھی حکومت نے ہاتھ میں لیا ہے ۔مقامی لوگوں نے سپیکر کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اُن کا شکریہ ادا کیا اور کافی دیر سے التوا ٔمیں پڑے ترقیاتی کاموں کو ترجیحات میں شامل کرنے پر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔
علی محمد ڈار کی صدارت میں ماحولیاتی کمیٹی کااجلاس
جموں/جموں وکشمیر قانون ساز کونسل کی ماحولیات سے متعلق کمیٹی کی ایک میٹنگ ایم ایل سی علی محمد ڈار کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میں پولیوشن کنٹرول بورڈ ، ٹرانسپورٹ ، ٹریفک، ہیلتھ، انڈسٹریز اور کئی دیگر محکموں سے جڑے ماحولیاتی معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ارکان قانون سازیہ قیصر جمشید لون، گردھاری لال رینہ ، مظفر احمد پرے اور شوکت حسین گنائی نے اس میٹنگ میں شرکت کر کے ریاست میں ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے اور آبی پناہ گاہوں کو محفوظ رکھنے سے متعلق اپنی تجاویز سامنے رکھیں۔کمیٹی نے سرینگر اور جموں شہروں میں ٹریفک کی گنجانیت کو کم کرنے اور ماحولیاتی توازن پر پڑنے والے مضراثرات کو کم کرنے کے حوالے سے لازمی اقدامات کو بھی زیر بحث لایا۔کمیٹی نے پولیوشن کنٹرول بورڈ کے چیئرمین بی سدھانتھ کمار کو ہدایت دی کہ وہ بڈگام ضلع کے چھتر گام علاقے میں افسروں کی ایک ٹیم روانہ کریں تاکہ وہاں اینٹ بٹھوں کے قیام کے حوالے سے قوانین کی خلاف ورزی کا جائزہ لیا جائے ۔دیگر لوگوں کے علاوہ ریجنل ڈائریکٹر پولیوشن کنٹرول بورڈ شوکت چودھری اور قانون ساز کونسل کے کئی اعلیٰ افسران بھی میٹنگ میں موجود تھے۔
ناظم اطلاعات کی صدارت میں ایس این ایم اے سی کی میٹنگ
کمیٹی نے ایکرڈیٹیشن عمل میں بہتری لانے کیلئے تجاویز پیش کیں
جموں/سٹیٹ نیوز میڈیا ایکرڈیٹیشن کمیٹی ایک میٹنگ یہاں ناظم اطلاعات منیر الاسلام کی صدارت میں منعقد ہوئی ۔میٹنگ میں موجودہ ایکرڈٹیشنز کا جائزہ لینے کے علاوہ میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کی طرف سے موصول شدہ نئی درخواستوں پر بھی غور کیا گیا۔ کمیٹی نے سٹیٹ نیوز میڈیا ایکرڈیٹیشن پالیسی 2017 کے رہنما اصولوں کی روشنی میں ہر ایک درخواست کی میرٹ کی بنا پر مناسب سفارشات پیش کیں۔ میٹنگ میں کمیٹی کے سامنے 262موجودہ ایکرڈائٹیڈ میڈیاافراد کے کیس ، نیوز میڈیا آرگنائزیش میں تبدیلی لانے کے 28کیس اور 172 نئے کیس رکھے گئے ۔ ایس این ایم اے سی کے ممبران ، پریذیڈنٹ پریس کلب جموں اشونی کمار ، پریذیڈنٹ پریس کلب کشمیر محمد سلیم پنڈت، ایڈیٹر کشمیر امیجز بشیر منظر، ریذیڈنٹ ایڈیٹر ارلی ٹائمز منیش گپتا ، سینئر کارسپانڈنٹ دی سٹیٹ ٹائمز وویک شرما، بیورو چیف ٹائمز نو پردیپ دتا ، ویڈیو جرنلسٹ آج تک طارق احمد لون،فوٹو جرنلسٹ رائزنگ کشمیر فاروق جاوید خان، ویڈیو جرنلسٹ آئی بی این سیون رجنیش بخشی اور فوٹو جرنلسٹ اے پی چھنی آنند ، ڈپٹی ڈائریکٹر ہیڈ کوارٹر ( پی آر ) شیخ ظہور جو ایس این ایم اے سی کے ممبر سیکرٹری بھی ہیں نے میٹنگ میں شرکت کی۔میٹنگ میں لئے گئے فیصلہ جات کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے ناظم اطلاعات منیر الاسلام نے کہاکہ یہ پریس کلب جموں / کشمیر کے صدور صاحبان اوردور درشن / ریڈیو جموں وکشمیر کے ریجنل نیوز یونٹوں کو ایس این ایم اے سی کے مستقل ممبران نامز د کرنے کا مشترکہ فیصلہ لیا گیا۔میٹنگ نے ریاست میں قائم دور درشن اور ریڈیو کے ریجنل نیوز یونٹوں کے نمائندوں کے ایکرڈیٹیشنز کے کوٹا میں اضافہ کرنے کی بھی منظوری دی۔ناظم اطلاعات نے کہا کہ آن ن لائن نیوز پورٹلوں کے نمائندوں کی ایکرڈیٹیشن پر تبھی غور کیا جائے گاجب حکومت کی طرف سے ایسے نیوز پورٹلوں کو چالو کرنے رہنما خطوط وضع کئے جائیں گے۔انہوںنے کہا کہ محکمہ اطلاعات نے اس سلسلے میں پہلے ہی ایک تجویز حکومت کو پیش کی ہے ۔میٹنگ میں فیصلہ لیا گیا کہ ایسے صحافی حضرات جن کے نام پبلکیشن کے امپرنٹ لائن میں ظاہر ہوتا ہوکو ایکرڈیٹیشن کے مستحق ہوں گے کیونکہ یہ سہولیت صرف ورکنگ جرنلسٹوں کے لئے ہی ہیں۔ناظم اطلاعات نے کہا کہ ایس این ایم اے سی نے فیصلہ کیا کہ صرف ان ورکنگ جرنلسٹوں جن میں فوٹو جرنلسٹ ، ویڈیو جرنلسٹ ، کارٹون نسٹ شامل ہیں کو ایکرڈیٹیشن دی جائے گی جو کسی نیوز میڈیا آرگنائزیشن کے مستقل پے رولز پر ہوں گے اور اس سلسلے میں انہیں کمیٹی کو دستاویزی شہادت پیش کرنی ہوگی جس میں تقرری کا حکمنامہ ، ایمپلائی کوڈاور سیلری سٹیمنٹ شامل ہیں۔ناظم اطلاعات نے کہا کہ اگر ایک نیوز میڈیا آرگنائزیشن کے ایکرڈیٹیشن کوٹا کی حد تجاوز کر جائے اس صورت میں متعلقہ میڈیا آرگنائزیشن کے ایڈیٹر سے پوچھا جائے گاکہ وہ کن نمائندوں کو ترجیحی بنیاد پر ایکرڈیٹیشن حاصل کرنا چاہتے ہیں۔میٹنگ میں مختلف سرکاری ایجنسیوں اور میڈیا کے درمیان بہتر تعلقات قائم رکھنے کے معاملات پر بھی غور و خوض کیا گیا تاکہ اطلاعات اور میڈیا کوریج کی مؤثر تشہیر یقینی بنائی جاسکے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پچھلی سٹیٹ پریس ایکرڈیٹیشن کی میٹنگ 2015ء میں منعقد کی گئی تھی۔
یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر گورنر سے ملاقی
جموں/یونیورسٹی آف جموں کے وائس چانسلر پروفیسر آر ڈی شرما نے راج بھون میں گورنر این این ووہرا کے ساتھ ملاقات کی ۔گورنر نے پروفیسر شرما اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے یونیورسٹی کے 17ویں کنووکیشن کی تقریب کو احسن طریقے سے منعقد کرنے پر سراہا۔ دریں اثنایونیورسٹی آف کشمیر کے وائس چانسلر ڈاکٹر خورشید اندرابی نے آج راج بھون میں گورنر این این ووہر اکے ساتھ ملاقات کی۔ڈاکٹر اندرابی نے گورنر کو یونیورسٹی کی کارکردگی سے متعلق کئی بڑے معاملات کے بارے میں آگاہ کیا۔ گورنر نے وائس چانسلر پر زور دیا کہ وہ سمسٹر سسٹم پر قائم رہتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائیںکہ مختلف کورسو ں کو مقرر ہ وقت کے اندر مکمل کیا جائے اور امتحانات کو منعقد کرنے اورنتائج کا اعلان کرنے میں کوئی بھی تاخیر نہ کی جائے ۔
لداخ کاوفد دورجے سے ملاقی
جموں/ممبر پارلیمنٹ لداخ ( لوک سبھا) تھمپتن چوانگ کی قیادت میں ایک ڈیلی گیشن امداد باہمی اور امو رلداخ کے وزیر چیرنگ دورجے سے ملاقی ہوااور انہیں خطے میں سیاحت کو ترقی دینے سے متعلق کئی معاملات سے آگاہ کیا۔ڈیلی گیشن نے امید ظاہر کی کہ حکومت ان کے مطالبات پر غور کرے گی اور لداخ خطے کو سیاحتی نقشے پر لانے میں تمام تر اقدامات کئے جائیں گے۔ڈیلی گیشن میں ایگزیکٹیو کونسلر مائنارٹیز افیئرس ایل اے ایچ دی سی لیہہ ممتاز حسین ،مرچنٹ ایسو سی ایشن لیہہ کے صدر ریاض احمد ،آل لداخ ہوٹل گیسٹ ہاوس ایسوسی ایشن کے صدر تاشی موٹمپ کاو شامل تھے۔بعد میں ڈیلی گیشن چیرنگ دورجے کی قیادت میں سیاحت کے وزیر تصدق حسین مفتی سے ملاقی ہوا اور انہیں لداخ خطے میں سیاحتی سرگرمیوں میں بڑھاوا دینے کا مطالبہ کیا۔
قانون کے پیشے میں خواتین کی شمولیت ایک مؤثر سماجی تبدیلی : پریا
جموں//تعلیم اور سیاحت کی وزیرمملکت پریہ سیٹھی نے کہا ہے کہ خواتین وکلاء سماج میں ایک اہم رول ادا کرتی ہیں خاص طور سے یہ وکلاء گھریلو تشدد اور بچوں کے خلاف جرائم کے کیسوں سے نمٹنے میں مؤثر رول ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کل کے سماجی تانے بانے میں متاثرین خواتین وکلاء کے ساتھ بہتر طور سے استفسار کرتی ہیں۔ جموں بار ایسو سی ایشن کی طرف سے منعقدہ ایک میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر موصوفہ نے کہا کہ قانون کے پیشے میں خواتین کی شمولیت سے سماج میں ایک مثبت تبدیلی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیکل اور صحافت کے پیشوں کے بعد اب زیادہ سے زیادہ خواتین قانون کے پیشے کو اختیار کررہی ہیں جنہوں نے ہر سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کل کے دورمیں نوجوان لڑکیاں ملک بھر میں قانون کے اداروں میں تعلیم حاصل کررہی ہیں تاکہ وہ بہترین وکلاء، جج اور کارپوریٹ وکلاء بن سکیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ بعد میں کچھ ہی لڑکیاں عدالتوں میں پریکٹس کرنے کا پیشہ اختیار کرتی ہیں۔ اس سے پہلے وزیر موصوفہ نے خواتین وکلاء کے مطالبے کے تناظر میں محکمہ تعلیم کے افسروں سے کہا کہ وہ عدالت عالیہ کے نزدیک ایک اسکول کی نشاندہی کریں جہاں کرچ کھولا جاسکے۔ وکلاء نے اس موقعہ پر وزیر کے سامنے مطالبات کا ایک چارٹر پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ کئی سہولیات بہم کرانے کیلئے اپنے کانسٹی چیونسی فنڈ میں سے رقومات فراہم کریں گی۔
بیرون ریاست خاطر تواضع محکمے اور گیسٹ ہائوسز
پی اے سی نے کام کاج کاجائزہ لیا
جموں/جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کی ایک میٹنگ ایم ایل اے محمد اکبر لون کی صدارت میں منعقد ہوئی جس میں ریاست اور بیرون ریاست ہاسپٹلٹی و پروٹوکال محکمہ کے کام کاج کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقعہ پر ارکان قانون سازیہ عبدالرشید ڈار، مشتاق احمد شاہ، محمد یوسف بٹ اور فردوس احمد ٹاک نے اس محکمہ کے کام کاج کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے اپنی آراء اور تجاویز سامنے رکھیں۔ میٹنگ میں H&Pمحکمہ کے ساتھ ساتھ جے کے ہائوس نئی دلی اور، نئی دلی، چندی گڑھ ، امرتسر اور ممبئی میں دیگر گیسٹ ہائوسوں کے کام کاج پر بھی تبادلہ خیال کیاگیا۔ پرنسپل ریذیڈنس کمشنر H&Pمحکمہ نئی دلی آر۔کے گپتا نے کمیٹی کو محکمہ کے گیسٹ ہائوسوں کے کام کاج کے بارے میں جانکاری دی۔ کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ نئی دلی میں موجود گیسٹ ہائوسوں کے حوالے سے کسی بھی شکایت پر قابو پائیں۔ انہوں نے کہا کہ نئی دلی اور دیگر مقامات میں گیسٹ ہائوسوں میں ضررتمند اور صحیح مریضوں کو ترجیح دی جانی چاہئے کیونکہ وہ علاج ومعالجہ کیلئے ان مقامات کا دورہ کرتے ہیں۔ ڈائریکٹر ہاسپٹلٹی اینڈ پروٹوکال نے کمیٹی کو محکمہ کے کام کاج کے بارے میں تفصیلی جانکاری دی۔ سپیشل سیکرٹری اسمبلی آر ایل شرما، ریذیدنٹ کمشنرناظم خان کے علاوہ کئی دیگر افسران بھی اس موقعے پر م وجود تھے۔
گورنر کی جانب سے طلاب کی حوصلہ افزائی
جموں/گورنر این این ووہرا جو ماتا ویشنو ی دیوی شرائین بورڈ کے چیئرمین بھی ہیں نے ماتا ویشنوی دیوی گرو کل ، چرن پڑوکا، کٹرہ کے 9 باصلاحیت طلاب کو تعلیمی سرگرمیوں میں ممتاز درجہ پانے کے سلسلے میں راج بھو ن میں ایک تقریب کے دوران حوصلہ کی گئی ۔طلاب کی اعلیٰ کارکردگی کے سلسلے میں مبارک باد دیتے ہوئے گورنر نے سابق چیئرمین گورننگ کونسل آف ماتا ویشنو دیوی گروکل ڈاکٹر ایس ایس بلوریہ ، چیئرمین گورننگ کونسل آف ویشنو دیوی گرو کل بی بی وِیاس ، ڈائریکٹر ماتا ویشنودیوی گرو کل پروفیسر وہوا مورتی شاستر ی اور گورننگ کونسل کے ممبر کو ان کی کاوشوں کے لئے سراہا۔ گورنر کے پرنسپل سیکرٹری امنگ نرولہ ، شرائین بورڈ کے سی ای او ڈاکٹر ایم کے کمار ، ایڈیشنل سی ای او پنکنج گپتا ، ڈپٹی سی ای او اور گرو کل کے ایڈمنسٹر و دیگر طلاب اور والدین اس موقعہ پر موجود تھے۔
چیف سیکرٹری نے 29ویں ایس ایل سی سی کی صدارت کی
جموں/چیف سیکرٹری بی بی ویاس نے سٹیٹ لیول کاڈی نیشن کمیٹی کی 29ویں میٹنگ کی صدارت کی جو نان بینکنگ فائنانشل کمپنیز اور اَن اِن کارپوریٹیڈ باڈیز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے سلسلے میں ریزو بینک آف انڈیا نے منعقد کیا تھا۔ریجنل ڈائریکٹر آر بی آئی جموں ، پرنسپل سیکرٹری داخلہ ، سیکرٹری لا، آئی جی پی کرائم جے اینڈ کے اور آر بی آئی ، ایس ای بی آئی کے سینئر افسران کواپریٹیوز کے رجسٹرار اور ریاستی حکومت کے افسران نے میٹنگ میں شرکت کی۔چیف سیکرٹری نے انوسٹر ایویرنیس پروگراموں کے انعقاد پر زور دیا ۔