ریاست میں امن وقانون کی صورتحال تشویشناک:ہرش دیو
جموں //ریاست میں دن بدن امن و قانون اورسیکورٹی کی بگڑتی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جے کے این پی پی کے چیئر مین و سابق وزیر ہرش دیو سنگھ نے اس صورت حال کے لئے پی ڈی پی اور بی جے پی کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔انہوں نے کہا یہ دونوں جماعتیںعوام کو درپیش مسائل حل کرنے اور عوام سے کئے گئے وعدے پورے کرنے میں ناکام ہو گئی ہیںاور اب وہ اصل مسائل سے سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو کی پالیسی پر گامزن ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئے روز وادی کشمیر میں حالات دن بدن بد سے بد تر ہوتے چلے جارہے ہیںاور جموں خطہ کو بھی آگ کے شعلوں کے نذر کئے جانے کی مذموم کوشش کی جارہی ہیںاور حکمران جماعت کے لیڈر اس میں ملوث ہیں۔ ہرش دیو نے ان خیالات کا اظہار عوامی اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ نئے اضلاع کو معرض وجود میں لانے سے متعلق آئے روز خطہ جموں کے متعدد حصوں میں ہورہے احتجاجوں کے درپردہ بی جے پی لیڈروں کا ہاتھ ہے اور لوگوں کو مشتعل کرنا ان کی شاطرانہ حکمت عملی کا ایک حصہ ہے۔ہرش دیو نے کہا کہ راجوری میں ایک اور ضلع کو وجود میں لاناسبھی لوگوں کی مانگ ہے۔انہوں نے نوشہرہ ، سندر بنی اور کالا کوٹ کے لوگون سے کہا کہ وہ پھوٹ ڈالو اور حکومت کروکی بی جے پی کی چالوں میں ہرگز نہ آئیںاور متحد ہوکر اپنے مطالبات کے لئے جدوجہد جاری رکھیں۔
مندرکوسربمہرکرنے کیخلاف بجرنگ دل کااحتجاجی مظاہرہ
جموں//شہر کے تریکوٹہ نگر علاقہ میں بلا اجازت تعمیر ایک مندر کو سر بمہر کئے جانے کے خلاف بجرنگ دل کی طرف سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین کا الزام تھا کہ جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی تجاوزات مخالف ٹیم نے آرتی کے دوران شردھالوں کو باہر نکالا دیااور مندر کو سیل کر دیا۔ اس بات کی اطلاع پھیلتے ہی سینکڑوں کی تعداد میں بجرنگ دل اور دیگر تنظیموں کے کارکن تریکوٹہ نگر میں جمع ہو گئے اور انہوں نے سرکار کے خلاف مظاہرہ کرنا شروع کر دیا، مظاہرین سڑک پر بیٹھ گئے اور جے ڈی اے کے علاوہ نائب وزیر اعلیٰ جن کے پاس شہری ہوا بازی کا قلمدان ہونے کے ساتھ ساتھ وہ جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے چیئر مین بھی ہیں ، کے خلاف نعرہ بازی شروع کر دی۔ مظاہرین نے پتلے جلاتے ہوئے مندر کو فوری طور پر کھولے جانے کی مانگ کی ۔انہوں نے کہا کہ عبادتگاہ کی بے حرمتی کو کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائے گا اور الزام لگایا کہ یہ سب کچھ حکومت میں موجود چند عناصر کے اشارہ پر کیا جا رہا ہے ۔ بجرنگ دل صدر راکیش کمار کا کہنا تھا کہ جموں مندروں کا شہرہے اور کسی بھی مندر کے خلاف ایسی کارروائی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ مندر کو سیل کر کے جموں کے حالات کو خراب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ سڑک پر تعمیر کیا جا رہا تھا تو اب تک جے ڈی اے کہا ں تھی اسے کی تعمیر کو شروع میں ہی کیوں نہیں روک دیا گیا ۔ جے ڈی اے کا کہنا ہے کہ یہ ڈھانچہ غیر قانونی طور پر تعمیر کیا گیا تھا اس لئے اسے سر بمہر کر دیا گیا ہے ۔ وائس چیئر مین جے ڈی اے راجیش کمار شون نے بتایا کہ اس مندر کی تعمیر فٹ پاتھ پر قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھ کر کی گئی تھی اس لئے اسے سیل کیا گیا ہے ۔اس دوران ایڈیشنل ڈی سی ارون منہاس موقعہ پر پہنچے اور مظاہرین کو یقین دلایا کہ جلد ہی مندر کھول دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں نے وائس چیئر مین جے ڈی اے سے استدعا کی ہے کہ مندر کو فوری طور پر کھول دیا جائے اور اس کے بعد خاطی افراد کے خلاف تحقیقات کی جائے ۔
تنخواہوں کی واگذاری کامطالبہ
کٹھوعہ میں پی ایچ ای کے عارضی ملازمین کااحتجاجی مظاہرہ
حافظ قریشی
کٹھوعہ // کٹھوعہ میں پی ایچ ای کے عارضی ملازمین نے حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔اس دوران مظاہرین کاکہناتھاکہ ملازمین اپنے فرائض کو انجام دے رہے ہیں اورپانی سپلائی کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں لیکن پچھلے 8 ماہ سے انہیں حکومت کی جانب سے تنخواہوں سے محروم رکھا گیا ہے جسکے باعث ملازمین فاقہ کشی پر مجبور ہیں ۔انہوں نے کہاکہ جہاں ہم سخت مالی پریشانیوں کے شکار ہیں تو وہیں ہمارے بچے کی اسکول کی فیس نہ ہونے پر بچوں کو سکول نہ بھیجنے پر مجبور ہیں ۔انہوں نے کہا کہ تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے سبب ہم بچوں کو اچھی تعلیم نہیں دے پا رہے ہیں۔اس دوران سراپااحتجاج عارضی ملازمین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ انہیں جلد از جلد تنخوائیں وگذار کی جائیں۔
کرمچاریوں کومیونسپل کونسل
صفائی کنٹریکٹ نجی ٹھیکیداروں کونہ دینے کامطالبہ
حافظ قریشی
کٹھوعہ // صفائی کرمچاریوں نے کٹھوعہ میں میونسپلٹی کونسل کے خلاف احتجاج کیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ صفائی کنٹریکٹ پرائیویٹ ٹھیکیداروں کو نہ دیا جائے بلکہ شہر کی صفائی کر ر ہے صفائی کرمچاریوں کو دیا جائے ۔انہوں نے کہاکہ پرائیویٹ ٹھیکہ داروں کوصفائی کنٹریکٹ دینے سے صفائی کرمچاریوں کا روزگار متاثرہونے کاخدشہ ہے کیونکہ صفائی کرامچاری گزشتہ کئی برسوں سے اپنا روزگار یہیں سے کماتے ہیںاور انہوں نے میونسپلٹی کونسل سے مطالبہ کیا کہ صفائی کنٹریکٹ صفائی کرمچاری کو ہی دیا جائے اگر ایسا نہیں کیا گیا تو صفائی کرمچاری یونین کے لوگ سڑک پر اُتر کر احتجاج کریں گے ۔
وارڈنمبر71 نکی محلہ سدھرامیںبنیادی سہولیات کافقدان
میونسپل کارپوریشن جموں سے عوامی مسائل کاازالہ کرنے کامطالبہ
عبدالرشیدکٹوچ
جموں//جموں میونسپل کارپوریشن کے وارڈ 71کے علاقہ عید گاہ روڈ اور نکی محلہ میں کے عوام بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔اس علاقہ میں سڑکوں کی حالت خستہ ہوگئی ہے جگہ جگہ ٹوٹ پھوٹ گئی ہیں ، بارش کے دنوں میں ان سڑکوں پرچلنا دشوار بن جاتا ہے اور جب موسم صاف ہوتا ہے تو گاڑیوں کے چلنے سے اتنا گرد و غبار اڑتا ہے کہ آس پاس کچھ بھی نہیں دکھائی دیتا ہے اور راہ گیروں کا چلنا دشوار بن جاتا ہے اور ایسا ہونا قدرتی بات ہے کیونکہ سال ہا سال سے ان سڑکوں پر تار کول نہیں بچھایا گیاہے ۔ بجلی کا ذکر کریں تو اس کا بھی برا حال ہے ۔ ایک سال سے بھی زائد عرصہ سے اس علاقہ میں کیبل وائر بچھانے کا کام جاری ہے مگرمکمل ہونے کو نہیں آرہا ہے ، بغیر شیڈول کے بجلی کٹوتی تو اب معمول بن گیا ہے۔اور یہ ضرب المثل اس محکمہ پر برابر فٹ آتی ہے کہ ’’جب باڑ ہی کھیت کو کھانے لگے تو اس کھیت کا حشر کیا ہوگا‘‘اس محکمہ میں کورپٹ اور بھرشٹاچاری اہلکاروں کو نکال باہر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔مقامی لوگوں نے مونسپل کارپوریشن جموں کے حکام سے وارڈنمبر71میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کامطالبہ کیاہے۔
آئی جی ٹریفک کی کارکردگی قابل ستائش:کنزیومرپروٹیکشن آرگنائزیشن
جموں/کنزیومر پروٹیکشن آرگنائزیشن جموں و کشمیر کی جانب سے جاری کئے گئے ایک پریس بیان میں کہاہے کہ بسنت رتھ کو آ ئی جی ٹریفک تعینات کرنا جموں کے لوگوں کے لئے ایک تحفہ ثابت ہوا ہے۔پریس نوٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ رتھ نے یہ بات ثابت کردی کہ اگر کوئی آفیسر یا اہلکار خلوص دل اور دیانت داری سے کام کرے تو بگڑے سے بگڑے نظام کو بھی ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔دریں اثنا بسنت نے سبھی اضلاع کے ڈپٹی کمشنروں اور سٹیٹ ٹرانسپورٹ کمشنر کو مراسلے ارسال کئے ہیں کہ وہ عوامی مقامات اور سڑکوں پر گاڑیا ں پارک کرنے سے اجتناب کریں۔ فٹ پاتھوں سے ناجائز تجاوزات کو ہٹانے کے بسنت رتھ کا کام کو عوامی سطح پر سراہا جارہا ہے۔
پانی انمول تحفہ ، اس کامنصفانہ کرناہم سب کافرض:شام چودھری
جموں//نیشنل ڈیولپمنٹ فاونڈیشن اور محکمہ پی ایچ ای کے اشتراک سچیت گڑھ میں ایک ورکشاپ کا اہتمام کیا گیاجس میں آبپاشی اور فلڈکنٹرول کے وزیرشام لال چودھری مہمان خصوصی تھے۔اس دوران خطاب کرتے ہوئے شام لال چودھری نے کہاکہ پانی قدرت کا دیا ہوا ایک انمول تحفہ ہے۔ اور اس کو آنے والی نسلوں کے لیے بچائے رکھنا ہمارا فرض ہے۔وزیر نے لوگوں سے اپیل کی کہ آبی وسائیل کو آلودہ نہ کرے۔انہوں نے رنبیرنہر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں نے سوچھ بھارت ابھیان کے تحت ریلیاں نکالیں اور اپنے آس پاس کا تمام کوڑا کرکٹ نہر میں ڈال کر پانی کو آلودہ کر دیا ہے جو نا اب کھیتی باڑی کے قابل اور نا ہی گھریلوں استعمال کے قابل ہے۔لوگوںکو گھریلوںبیت الخلا استعمال کرنے کی تلقین کی گئی۔ وزیر موصوف نے کہا کہ حکومت ریاست کے گھر گھر تک صاف پینے کا پانی پہنچانے کیلئے ہر ممکن کوششیں کر رہی ہے تا ہم لوگوں کو بھی پینے کا پانی منصفانہ ڈھنگ سے استعمال کرنا چاہئیے ۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے تین برسوں کے دوران لوگوں کی سہولت کیلئے کئی سکیمیں شروع کی گئی ہیں ۔ انہوں نے پی ایچ ای محکمہ سے کہا کہ وہ علاقے میں تمام آبی ذخائیر میں پانی کے معیار کی جانچ کریں ۔ اس موقعہ پر متعلقہ افسروں نے پانی کی ٹیسٹنگ کے حوالے سے ایک خاکہ پیش کیا ۔ کیمپ میں موجود لوگوں نے اس طرح کا کیمپ منعقد کرنے کیلئے محکمہ کی ستایش کی ۔ وزیر کے علاوہ جن معززین نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ان میںایس ای ہائیڈرالک جموں،انجینئرجگدیش سنگھ،ایس راجیوکھجوریا،انجینئر راجیش گپتا اور انجیئنیرگوپال شرما قابل ذکر ہیں۔ پروگرام میں ایس ڈی پی او آرسپورا،تحصیل دارسچیت گڑھ کے علاوہ دوسرے افسران بھی موجود تھے ۔
چیرنگ دورجے کی صدارت میں وفد گورنر سے ملاقی
جموں//ٹریڈ اینڈ سروس سیکٹر آف لداخ کے ایک وفد نے امداد باہمی اور لداخ امور کے وزیر چرنگ دورجے کی قیادت میں گورنر این این ووہرا کے ساتھ راج بھون میں ملاقات کی اور لداخ خطے کے لوگوں کو درپیش مسائل سے انہیں آگاہ کیا ۔ وفد نے لداخ خطے کی سپلائیز اور سروسز پر لگنے والی جی ایس ٹی شرحوں میں کمی لانے اور کئی دیگر معاملات گورنر کی نوٹس میں لائے ۔ وفد نے سروسز سیکٹر کو جموں کشمیر ری ایمبرسمنٹ آف ٹیکسز برائے فروغِ صنعتکاری کے دائرے میں لانے کی بھی درخواست کی ۔ گورنر نے وفد کو صلاح دی کہ وہ وزیر خزانہ ڈاکٹر حسیب درابو کے ساتھ فوری طور سے ایک میٹنگ منعقد کریں جس کے بعد یہ معاملہ مرکزی سرکار کے ساتھ اٹھایا جائے گا ۔ وفد میں جو ارکان شامل تھے اُن میں ممبر پارلیمنٹ تکسن چوانگ ، ایم ایل اے لیہہ نوانگ رگزن جورا کے علاوہ مختلف تاجر انجمنوں کے نمائیندے بھی شامل تھے ۔
شاستری نگر میں تجدید شدہ پبلک پارک کا افتتاح
جموں//قانون ساز اسمبلی کے سپیکر کویندر گپتا نے شاستری نگر میں لال بہادر شاستری میموریل پارک کا افتتاح کیا ۔ اس پارک کا تجدید نو کام حال ہی میں مکمل کیا گیا ۔ سپیکر کے ہمراہ ایم ایل سی وکرم رندھاوا کے علاوہ کئی دیگر اعلیٰ افسران بھی تھے ۔ سپیکر موصوف نے اس موقعہ پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عوامی نوعیت کے مقامات کو بڑھاوا دینے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے کی وعدہ بند ہے ۔ اس موقعہ پر وکرم رندھاوا نے پبلک پارکوں کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ سماج کے تمام طبقوں کو ان پارکوں کو تحفظ دینے میں اپنا رول ادا کرنا چاہئیے ۔ اس دوران ایک عوامی وفد نے سپیکر کے سامنے اپنے مطالبات رکھے جن میں ایک اوپن جم قایم کرنے اور پارک میں آرائشی پودے لگانے کا معاملہ بھی شامل تھا ۔ اس سے پہلے سپیکر نے چھنی ہمت کا دورہ کر کے وہاں ترقیاتی کاموں کا جائیزہ لیا ۔ انہوں نے افسروں پر زور دیا کہ وہ تعمیراتی کاموں میں سرعت لائیں تا کہ لوگوں کے مسائل کم کئے جا سکیں ۔
ادھم پورمیں راحت پروجیکٹ کے تحت 168پل تعمیرکئے
عبدالحق خان نے محکمہ دیہی ترقی کی حصولیابیوں کاجائزہ لیا
ادہم پور//اودھمپور ضلع کے دور افتادہ دیہات کو بہتر سڑک رابطہ فراہم کرنے کی غرض سے دیہی ترقی محکمے نے راحت پروجیکٹ کے تحت 168 پُل تعمیر کئے ۔ یہ جانکاری آج دیہی ترقی ، پنچائتی راج اور قانون و انصاف کے وزیر عبدالحق خان نے ایک جائیزہ میٹنگ کے دوران دی ۔ جس میں اودھمپور ضلع میں آر ڈی ڈی محکمہ کی حصولیابیوں کا جائیزہ لیا گیا ۔ وزیر نے اس موقعہ پر کہا کہ حکومت دیہی علاقوں میں سڑک رابطوں کو دوام بخشنے کیلئے راحت پروجیکٹ کے تحت خاطر خواہ اقدامات کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت ایم جی نریگا رقومات کو منصفانہ ڈھنگ سے بروئے کار لا کر دیرپا اثاثے قایم کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اودھمپور ضلع میں محکمہ کھیل کے 27 میدان بھی تعمیر کر رہی ہے تا کہ ضلع کے نوجوانوں کو کھیل کود کی بہتر سہولیات میسر ہو سکے ۔ وزیر نے مزید کہا کہ ایم جی نریگا سمیت محکمہ نے مختلف سکیموں کے تحت 7359 کام ہاتھ میں لئے جن میں سے اب تک 1313 کام مکمل کئے جا چکے ہیں جبکہ باقی ماندہ 6046 کام تکمیل کے مراحل سے گذر رہے ہیں ۔ عبدالحق نے ضلع میں صفائی ستھرائی برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سوچھ بھارت مشن کو موثر ڈھنگ سے عملایا جانا چاہئیے تا کہ اس سال اکتوبر مہینے تک ریاست کو کھلے میں رفع حاجت بشری سے پاک کیا جا سکے ۔ میٹنگ میں ضلع ترقیاتی کمشنر اودھمپور رویندر کمار ، ڈائریکٹر رورل سینی ٹیشن نذیر احمد شیخ کے علاوہ کئی دیگر افسران نے بھی شرکت کی ۔ اس موقعہ پر ضلع میں مختلف سیکٹروں کے تحت حصولیابیوں کا خاکہ پیش کیا گیا ۔ اس سے پہلے وزیر نے محکمہ کی ایک فوٹو نمائش کا بھی افتتاح کیا ۔
ذوالفقارکا عوامی تقسیم کاری نظام میں شفافیت یقینی بنانے پرزور
جموں//خوراک ، شہری رسدات و امور صارفین اور قبائلی امور کے وزیر چودھری ذوالفقار علی نے ایف سی ایس اینڈ سی اے محکمہ کو ہدایت دی کہ وہ تمام راشن ڈیپوئوں پر غذائی اجناس کی فروخت اور اس سے مختص کرانے کا کام پی او ایس مشینوں کے ذریعے کرانے کی ہدایت دی تاکہ عوامی تقسیم کاری نظام میں مزید شفافیت اور جواب دہی لائی جاسکے ۔وزیر نے مزید کہا کہ راشن ڈیپوئوں پر روایتی کنڈوں پر پابندی لگائی جانی چاہیئے اور اس کے بدلے جدید الیکٹرانک ترازوئوں کو برئوئے کا ر لایا جانا چاہیئے ۔وزیر نے یہ ہدایت ریاست میں ای پی ڈی ایس نظام کی عمل آوری کا ایک میٹنگ کے جائزہ لینے کے دوران دی۔میٹنگ میں ایڈیشنل سیکرٹری ایف سی ایس اینڈ سی اے جگل کشور آنند کے علاوہ کئی دیگر افسران بھی موجود تھے۔میٹنگ میں بتایا گیا کہ بارہمولہ ، لیہہ اور کرگل اضلاع کو چھوڑ کر 19اضلاع میں پی او ایس مشینیں نصب کی جاچکی ہیں ۔انہوں نے افسروں سے کہا کہ وہ باقی ماندہ اضلاع میں اس مہینے کی 20تاریخ تک پی او ایس مشینیں نصب کریں۔وزیر نے کہا کہ راشن ڈیپوئوں میں 5624 پی او ایس مشینیں لگائی گئی ہیں جن میں سے 5551مشینیں کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا ای پی ڈی ایس کے مختلف مدوں کے تحت5 4.4کروڑ روپے واگذار کئے جاچکے ہیں۔ تفصیلات دیتے ہوئے وزیر کو بتایا گیا کہ راجوری میں 380، گاندربل303، سانبہ میں 128، بڈگام 374 ، سرینگر میں 481، ادھمپور میں 183 ، کٹھوعہ میں 273 ، ریاسی میں 193، پونچھ میں 191، بانڈی پورہ میں 166، اننت ناگ میں 494،کولگام میں285، ڈوڈہ میں 293،کشتواڑ میں 173، رام بن میں 159، کپواڑہ میں 371 ، شوپیاں میں 157 ، پلوامہ 328اور جموں میں 831پی او ایس مشینیں نصب کی جاچکی ہیں۔وزیر نے سپلائی چین نظام کی عمل آوری کا جائزہ لیتے ہوئے ہدایت دی کہ راشن کی الوکیشن اور اس کا عبورومرور سپلائی چین منیجمنٹ نظام کے تحت یقینی بنایا جانا چاہیئے۔انہوں نے ہدایت دی کہ محکمہ کے ملازمین کے لئے ایک خصوصی تربیتی پروگرام کا انعقاد کیا جانا چاہیئے اور اس مقصد کے لئے 12لاکھ روپے واگزار کئے جاچکے ہیں۔ ذوالفقار علی نے کہا کہ تمام اضلاع میں ای پی ڈی ایس ٹاسک فورس تشکیل دیا جاچکا ہے ۔انہوں نے مستحقین کو 12 ڈیجٹ کنزیومر کوڈ دینے کی بھی ہدایت دی اور کہا کہ ای پی ڈی ایس پروجیکٹ کی عمل آوری پر نظر گزر رکھی جانی چاہیئے۔انہوں نے ریاست کے تمام ضلع گوداموں اور دفاتر میں بائیو میٹرک حاضری نظام کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت دی ۔ذوالفقار علی نے کہاکہ حکومت نے موجودہ راشن کارڈوں کی مدت دسمبر 2019تک بڑھا دی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس ماہ کے آخر تک سو فیصد صارفین میں راشن کارڈ تقسیم کئے جانے چاہئیں۔
سٹیٹ واٹر پالیسی کی عمل آوری
عبدالرحمان ویری نے پیش رفت کاجائزہ لیا
جموں//حج و اوقاف کے وزیر عبدالرحمان ویری نے ایک میٹنگ کے دوران ریاست میں واٹر پالیسی متعارف کرانے سے لے کر اب تک حاصل کی گئی پیش رفت کا جائزہ لیا۔میٹنگ کے دوران اس پالیسی کی عمل آوری سے جڑے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔میٹنگ میں پی ایچ ای ، آبپاشی و فلڈ کنٹرول کے وزیر شیام لال چودھری بھی موجود تھے۔فائنانشل کمشنر مال لوکیش جہا ، کمشنر سیکرٹری مال شاہد عنایت اللہ ، کمشنر سیکرٹری پی ایچ ای ایم راجو، ڈویژنل کمشنرجموں ہمنت شرمااور کئی ضلعوں کے ترقیاتی کمشنروں نے بھی میٹنگ میں شرکت کی۔اس دوران وزیر نے آبی ذخائر کو تحفظ دینے اور آبی پناہ گاہوں سے ناجائز قبضہ ہٹانے پر بھی زور دیا۔ انہوں نے ترقیاتی کمشنروں سے اس حوالے سے وضع شدہ قوانین کی سختی عمل آوری کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ویری نے کہا کہ صوبائی کمشنر اور ضلع ترقیاتی کمشنر تمام سطحوں پر سٹیٹ واٹر پالیسی کی من و عن عمل آوری کو یقینی بنائیں گے اور اس کام کے لئے شہری بلدیاتی اداروں ، میونسپل کارپوریشنوں اور دیگر انجمنوں کو بھی شامل کیا جاناچاہیئے۔
تودے گرنے کی وارننگ جاری
جموں//ایس اے ایس ای کی طرف سے ملی جانکاری کی بناپر بارہمولہ ، گلمرگ ، پھرکیاں ۔زیڈ گلی اور کپواڑہ ۔ چوکی بل ۔ٹنگڈار ، پونچھ ، راجوری ، ریاسی ، رام بن ، ڈوڈہ ، کشتواڑ، ادھمپور ، اننت ناگ ، کولگام ، بڈگام ، کپواڑہ ، بانڈی پورہ ، گاندربل ، کرگل ، لیہہ اضلاع ، بانڈی پورہ ۔ کنزلون ۔ گریز سیکٹر اور سرینگر۔ جموں قومی شاہراہ پر ہلکے تودے گر آنے کی وارننگ جاری کی گئی ہے ۔ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے تودے گرا ٓنے والے علاقوں میںرہائش پذیر لوگوں کو احتیاطی اقدامات عملانے کی صلاح دی ہے ۔
جموں کشمیرمیں ملٹی موڈل لاجسٹک پارک کا قیام
تعمیرات عامہ کے انتظامی سیکرٹری نوڈل آفیسر نامزد
جموں//ریاستی حکومت نے پی ڈبلیو ڈی محکمہ کے انتظامی سیکرٹری کو ریاست میں ملٹی موڈل لاجسٹک پارکیں قائم کرنے کے لئے ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی مرکزی وزارت کے ساتھ تال میل رکھنے کے لئے نوڈل آفیسر نامز د کیا ہے۔واضح رہے کہ ریاستی حکومت نے پہلے ہی جموں اور سرینگر میں ملٹی موڈل لاجسٹک پارکیں قائم کرنے کے حوالے سے دوبئی پورٹس ورلڈ کے ساتھ مفاہمت نامے پر دستخط کئے ہیں۔ریاست میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے سے پہلی ایم ایم ایل پی اور ٹرانسپورٹیشن ہف قائم کرنے سے متعلق مفاہمت نامے پر ریاست کے وزیر خزانہ ڈاکٹر حسیب اے درابو اور دوبئی پورٹس کے چیئرمین اور سی ای او سلطان احمد بن سلائم نے پچھلے مہینے ابو دابی میں وزیر اعظم نریندر مودی اور ابو دابی کے شہزادے محمد بن زائد النیہان کی موجودگی میں دستخط کئے تھے۔مفاہمت نامے کی بدولت جموں وکشمیر میں اگلے پانچ برسو ں کے دوران پانچ ہزار کروڑ روپے کی سرمایہ کاری ممکن ہوسکے گی ۔مجوزہ ان لینڈ لاجسٹک پارکیں جموں میں سانبہ اور کشمیر میں اومپورہ کے مقام پر قائم کی جائیں گی جہاں پر زراعت ، باغبانی اور دستکاری اشیاء کو براہ راست بین الاقوامی بازاروں تک پہنچانے کی جدید سہولیات دستیاب ہوں گی۔مفاہمت نامے پر دستخط کرنے سے پہلے سلطان احمد بن سلائم نے دوبئی پورٹس کے اعلیٰ افسروں کی ایک ٹیم کے ہمراہ جموں وکشمیر کا دورہ کیا اور یہاں یہ پارک قائم کرنے کے خدو خال کا جائزہ لیا۔دوبئی پورٹس کے وفد نے وزیر اعلیٰ محبوبہ ، وزیر خزانہ ڈاکٹر حسیب اے درابو ، صنعت و حرفت کے وزیر چندر پرکاش گنگا اور کئی دیگر سرکار افسروں کے ساتھ تفصیلی تبادلہ خیال کیا ۔انہوں نے سانبہ میں لاجسٹک پارک قائم کرنے کی مجوزہ جگہ کا بھی دورہ کیا۔
ایڈیشنل ڈی جی سی آر پی ایف گورنر سے ملاقی
جموں//وی ایس کے کامودی جنہوں نے پچھلے مہینے ایڈیشنل ڈی جی سی آر پی ایف جموں وکشمیر کا چارج سنبھالا نے راج بھون میں گورنر این این ووہرا کے ساتھ ملاقات کی۔گورنر نے ریاست میں سلامتی صورتحال برقرار رکھنے میں سی آر پی ایف کے رول کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ تمام محاذوں پر چوکسی بڑھائی جانی چاہیئے۔