دھرمارتھ ٹرسٹ نے چھڑی یاتراکے انتظاما ت کاجائزہ لیا
جموں//چیترچاداشی کے سلسلے میں چھڑی مبارک نکالنے کے سلسلے میں انتظامات کاجائزہ لینے کیلئے جموں وکشمیردھرمارتھ ٹرسٹ کے صدربی آرکنڈل کی صدارت میں ایک میٹنگ منعقد ہوئی ۔سالانہ چھڑی یاترا 15مارچ 2018کو رنبیشور مندرسے شروع ہوکر رگھوناتھ مندر،لکشمی نارائن مندراوردیگرمذہبی مقامات سے ہوتے ہوئے پورمنڈل پہنچے گی۔ اس یاتراکااہتمام گذشتہ 18سال سے مذہبی عقیدت واحترام سے کیاجارہاہے ۔چھڑی مبارک کی شوبھایاترا 16مارچ صبح 8 بجے شری رنویشورمندر شالامارسے شروع ہوگی ،رگھوناتھ مندرمیں پوجاکے بعدپوترچھڑی صبح ساڑھے آٹھ بجے لکشمی نارائن مندرگاندھی نگرپہونچے گی جہاں چھڑی پوجن کے بعدپورمنڈل کے لیے روانگی ہوگی۔دریں اثنا دھرمارتھ ٹرسٹ نے پورمنڈل میں عقیدت مندوں کے لیے خاطرخواہ انتظامات کررکھے ہیں جہاں پرشردھالوئوں میں پرشادتقسیم کیاجائے گا۔
تریپورہ میں لینن کے مجسمہ کی توڑ پھوڑ قابل مذمت:بھیم سنگھ
جموں//نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی اوربین الاقوامی امن کونسل کے چیرمین پروفیسر بھیم سنگھ نے تریپوہ کے،نہایت شرمندہ کردنے والے واقعات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے جہا ں نئی حکومت کے حامیوں نے دنیا کے لینن جیسے عظیم لیڈروں کے مجسموں کوتوڑ دیا ہے۔یہاں جاری پریس بیان میں پروفیسربھیم سنگھ نے وزیراعظم نریندر مودی سے کہاکہ کیا وہ بی جے پی حامیوں کی تریپورہ میں جیت کا جشن مناتے وقت کی گئی توڑپھوڑ کو صحیح ٹھہراسکتے ہیں۔انہوں نے بی جے پی لیڈروں کو یاد دلایا کہ اس طرح کی حرکت قابل مذمت ہے جس سے پوری دنیا میں کے ہندستان کی عظیم تہذیب اوررواداری کے تعلق سے شرمندہ کردینے والا پیغام گیا ہے۔انہوں نے بی جے پی لیڈروں سے دریافت کیا کہ وہ بتائیں انہیں کیسا محسوس ہوگا اگر لندن، نیویارک، روس یا امریکی ممالک میں لگے ہندستانی عظیم لیڈروں کے مجسمے ایک سیاسی پارٹی کے ذریعہ منہدم کردیئے جائیں ۔پنتھرس سربراہ نے وزیراعظم سے کہا کہ وہ بی جے پی کارکنوں کی اس حرکت کے لئے قوم سے معافی مانگیں۔پنتھرس سپریمو نے کہاکہ لینن پہلے لیڈر تھے جنہوں نے روس میں زاروں کو شکست دیکر سوشلست حکومت کے قیام کا راستہ ہموار کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہندستان لینن کو ایک عظیم انقلابی لیڈر اور ہندستان کا دوست سمجھتا ہے۔ انہوں نے بی جے پی کے حکمرانوں سے سوال کیا کہ وہ پوری دنیا کے مختلف حصوں میںانقلاب کی قیادت کرنے والے دنیا کے تمام لیڈروں کے مجسمے منہدم کرسکتے ہیں۔
سماج دشمن عناصرکے خلاف انتظامیہ کاروائی عمل میں لائے:کھٹانہ
جموں//گوجربکروال یوتھ دیش نامی سماجی تنظیم کے صدرچوہدری نزاکت کھٹانہ نے کہاہے کہ اسے کچھ سماج دشمن عناصردھمکیاں دے رہے ہیں جس کی وجہ سے ان کی جان کوخطرہ ہے۔یہاں جاری پریس بیان میں گوجردیش یوتھ دیش کے صدرچوہدری نزاکت کھٹانہ نے کہاکہ میں گذشتہ کچھ برسوں سے غریب وپسماندہ لوگوں کی خدمت کیلئے بطورسماجی کارکن کام کررہاہوں ۔انہوں نے کہاکہ کچھ سماج دشمن لوگوں کومیراکام پسندنہیں آرہاہے اوروہ مجھے دھمکارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ دھمکیاں دینے والے لوگ پہلے بھی مجھ پرحملے کرچکے ہیںاوران کے خلاف میں نے متعلقہ چوکی میں ایف آئی آربھی درج کرائی ہے لیکن ابھی تک ان لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔انہوں نے اعلیٰ حکام اورپولیس عہدیداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ مجھ پرحملہ کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی عمل میں لائیں۔انہوں نے کہاکہ مجھے غنڈہ عناصرسے خطرہ ہے اس لیے انتظامیہ کوسماج دشمن عناصرکے خلاف ٹھوس کاروائی عمل میں لانی چاہیئے ۔
جموں میں فرقہ وارانہ ماحول بنانے کی مذموم سازشوں کوناکام بنانے کی ضرورت :عاشق خان
جموں//شیعہ فیڈریشن کے صدر عاشق حسین خان نے جموں میںفرقہ وارانہ ماحول پیدا کرنے کی کوششوںسے خبردار کرتے ہوئے کہاہے کہ تمام مذاہب کے باشعور افراد کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ شرپسند عناصرکو کڑا جواب دیں۔اپنے ایک پریس بیان میں عاشق خان نے کہاکہ جوں جوں الیکشن کے دن قریب آرہے ہیں ،ان عناصرکی سرگرمیاں بھی تیزی پکڑ رہی ہیں اور اب تو انسانی نوعیت کے معاملات کو بھی مذہبی مدعا بنایاجارہاہے ۔ان کاکہناہے کہ افسوسناک بات ہے کہ 8سالہ معصوم بچی آصفہ کی عصمت دری اور قتل کو بھی ایک اہم مدعا بنایاجارہاہے اور ایک مخصوص سوچ رکھنے والی تنظیمیں کھل کر ملزمان کی حمایت کررہی ہیں ۔ ان کاکہناتھاکہ آصفہ کے قاتل کو سرراہ پھانسی دی جانی چاہئے اورایسی سرگرمیاں پر پابندی عائد کی جائے جس سے بھائی چارے کو نقصان پہنچنے کا احتمال پیدا ہورہاہے ۔عاشق خان نے کہاکہ ایسے حالات میں حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ بیشتر ہندو و سکھ تنظیموں کی طرف سے ان عناصر کی حوصلہ شکنی بھی کی جارہی ہے جو انسانی اقدار کی بقاکیلئے لازمی ہے ۔ان کاکہناتھاکہ امن و بھائی چارے کے حامی افراد پر یہ لازم بنتاہے کہ جس طرح سے انہوںنے 2008اور 2013میں حالات کو خراب ہونے سے بچالیا اور شرپسندانہ عزائم مٹی میں ملادیئے ،اس طرح سے اس بات بھی ہر اس آواز کو دبادیاجائے جو سماج کی تقسیم کے مقصد سے چاہے کٹھوعہ سے مجرم کے حق میں بلند ہورہی ہو یاپھر نئے انتظامی یونٹوں پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہی ہو ۔عاشق خان نے کہاکہ باشعور ہندو ، سکھ اور مسلم افراد شرپسندوں سے خبر دار رہیں اور اس بات کو یقینی بنایاجائے کہ جموں کے حالات پرامن رہیں اور ان پر الیکشن کے پوجاری حاوی نہ ہونے پائیں ۔انہوںنے کہاکہ الیکشن کے دوران سماج کی مختلف خطوط میں تقسیم انتہائی خطرناک روایت ہے جس سے ہوشیار رہتے ہوئے نکاردیناچاہئے ۔عاشق خان نے کہاکہ جہاں سماج کے باشعور طبقہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ان حالات سے ہوشیار رہے وہیں حکومت پر بھی یہ لازم بنتاہے کہ وہ ایسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرے جو متشدد اور انتشارپسندہوں اور جن کے مقاصد بھائی چارے کو خطرات سے دوچار کرناہو۔
ہولی کے موقعہ پرادبی کنج کی نشست منعقد
جموں//ادبی کنج جموں کے زیراہتمام ’ہولی ‘تہوارکے موقعہ پر سب رنگ نشست منعقدہوئی جس میں مختلف زبانوں کے ادباء وشعراء نے شرکت کی۔ اس دوران ہندی کے گیت کارڈاکٹرامر سنگھ مہمان خصوصی اورگلوکاروسنگیت کار چمن سگوج مہمان ذی وقارتھے۔ اس موقعہ پرنظامت کے فرائض بشن داس خاک نے انجام دیئے۔نشست کے آغازمیں تنظیم کے صدرشام طالب نے ہولی کے مختلف پہلوئوںپرسیرحاصل روشنی ڈالتے ہوئے ہولی سے متعلق روایتی داستان کے مختلف پہلوئوںپرروشنی ڈالی جبکہ آرش اوم دلموترہ چیئرمین تنظیم امرسنگھ اورمالک سنگھ وفا نے اسلوب گیت کے پہلوئوں پرخیالات کااظہارکیا۔ نثری دورمیں شام طالب نے ہولی کھیلے نندلالا(ہندی)، سنتوش نادان نے ایک ڈوگری لیکھ ، اس تے ہولی دے رنگ ،آرش دلموترہ نے پیش کئے ۔شعری دورمیں جن شعرا وگلوکاروں نے شاعری اورگلوکاری کارنگ بکھیراان میں چمن سگوچ ،امرسنگھ،آرش دلموترہ،مالک سنگھ وفا، کلبیرسنگھ بادل (پٹیالہ)، سنتوش نادان،بشن خاک، راج کمل، سنجیوکمار، محمدباقرصبا، ایس کے گپتا،راجیوکمار، معصوم کشتواڑی، خورشیدکشتواڑی، دائوداقبال، شمس راجن، رازریاض سوہل، عبدالجبار، منظوربڈھانہ ، مہاراج کرشن کول وغیرہ شامل تھے۔
لینڈ ریکارڈ پروجیکٹ کی جدید کاری کی پیش رفت کا جائیزہ لیا
وزیرمال کیجدید ریکارڈ روم قائم کرنے کیلئے ڈی پی آر تیار کرنے کی ہدایت
جموں/مال ، حج و اوقاف اور پارلیمانی امور کے وزیر عبدالرحمان ویری نے گول گجرال جموں میں سینٹرل ریکارڈ روم کا دورہ کیا اور اراضی ریکارڈ کی جدید کاری اور ریکارڈ کے رکھ رکھاؤ کے بارے میں برسرِ موقعہ جانکاری حاصل کی ۔ وزیر کے ہمراہ فائنانشل کمشنر مال لوکیش جھا ، کمشنر سیکرٹری مال شاہد عنایت اللہ اور ڈویژنل کمشنر جموں ہمنت شرما بھی تھے ۔ اس دوران وزیر کو سینٹرل ریکارڈ روم میں ریکارڈ کے رکھ رکھاؤ اور تواریخی ریکارڈ کو محفوظ رکھنے کے حوالے سے کئے جا رہے اقدامات کے بارے میں جانکاری دی گئی۔ ریجنل ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ سروے جموں ، سانبہ اور کٹھوعہ ، رفعت کوہلی نے وزیر کو ریکارڈ کی ڈیجیٹائزیشن کے عمل کے مختلف مدعوں کے بارے میں جانکاری دی ۔ وزیر کو جانکاری دی گئی کہ اب تک 11314268 دستاویزات اور 17911 مسویز کی سکیننگ کی گئی ہے علاوہ ازیں 1161 کیڈسٹرل نقشوں کی ڈیجیٹائزیشن بھی عمل میں لائی گئی ہے ۔ اس موقعہ پر مزید بتایا گیا کہ جموں صوبے میں 3771 ریونیو ولیجز میں سے 2798 ولیجز میں ریکارڈ کی سکیننگ کا کام جاری ہے ۔ انہیں کئی دیگر سرگرمیوں کے بارے میں بھی تفصیل سے جانکاری دی گئی ۔وزیر کو بتایا گیا کہ سینٹرل روم میں موجود ریکارڈ کو دو سے تین ماہ کے اندر اندر سکیننگ کی جائے گی ۔ ریجنل ڈائریکٹر لینڈ ریکارڈ سروے نے اس موقعہ پر ریکارڈ روم کے حوالے سے کئی معاملات اُجاگر کئے ۔ وزیر نے اس موقعہ پر سائنسی خطوط پر جدید ریکارڈ روم قائم کرنے کیلئے ڈی پی آر تیار کرنے کی ہدایت دی اور کہا کہ اس پروجیکٹ کیلئے ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی ۔ بعد میں وزیر نے ریونیو ٹریننگ انسٹی چیوٹ کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے تربیت پانے والے پٹواریوں کے ساتھ بات چیت کی ۔ وزیر نے ملازمین کی کیپسٹی بلڈنگ کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ خصوصی تربیتی کورسوں کا انعقاد سال بھر جاری رکھا جانا چاہیئے ۔ ویری نے کہا کہ ریونیو ٹریننگ انسٹی چیوٹ کو معقول رقومات بہم کی جائیں گی تا کہ یہ متواتر بنیادوں پر عملے کو تربیت دے سکے ۔
دورجے کا لداخ خطے میں کواپریٹو تحریک کو مستحکم کرنے پرزور
جموں/امدادِ باہمی اور لداخ امور کے وزیر چیرنگ دورجے نے لداخ خطے کے دونوں اضلاع میں کواپریٹیو سوسائٹیوں کو مناسب رقومات فراہم کر کے کواپریٹیوتحریک کو مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ یہاں ایک جائزہ میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ نئی دہلی میں این سی ڈی سی افسروں کے ساتھ حالیہ جائزہ میٹنگ کے دوران اٹھائے گئے اقدامات کی بدولت لداخ خطے میں کواپریٹیو تحریک کو ایک نئی سمت ملے گی ۔ وزیر نے اس موقعہ پر سوسائٹیوں کی فنڈنگ سے جُڑے امور کو زیر بحث لایا ۔ انہوں نے کہا کہ خوبانی اور کئی دیگر میوؤں کو تحفظ دینے اور ان کی پیکنگ کیلئے لیہہ میں ایک یونٹ قایم کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں اضلاع کی کواپریٹو سوسائیٹیوں کو این سی ڈی سی کی طرف سے معقول رقومات دستیاب کی جائیں گی تا کہ وہ اپنے کاروباری یونٹ قایم کر کے خطے میں نوجوانوں کیلئے روز گار کے زیادہ سے زیادہ مواقعے پیدا کئے جا سکیں ۔ دورجے نے مزید کہا کہ این سی ڈی سی کی طرف سے کئی دیگر شعبوں میں یونٹ قائم کرنے کیلئے مالی معاونت فراہم کی جائے گی ۔ وزیر نے کہا کہ یہ مالی معاونت فشریز ، پولٹری اور ڈیری فارمز کیلئے دی جائیں گی تا کہ خطے میں ان چیزوں کی قلت کو دور کیا جا سکے ۔
آبی ذخائر کو آلودگی سے پاک رکھنے کے لئے مجموعی کوششیں لازمی :لال سنگھ
کٹھوعہ/جنگلات و ماحولیات کے وزیر چودھری لال سنگھ نے کہا ہے کہ حکومت ریاست کے روایتی آبی ذخائر کو بحال کرنے کے لئے ہرممکن اقدامات کر رہی ہے ۔بسوہلی میں نیشنل ڈیولپمنٹ فائونڈیشن اور سی سی ڈی یو محکمہ پی ایچ ای کی طرف سے منعقدہ ایک ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہمیں آبی ذخائر کو آلودگی سے پاک رکھنے کے لئے مجموعی کوششیں کرنی چاہئیں۔انہوںنے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ پانی کو صاف رکھنے اپنا بھر پور رول ادا کریں۔اس موقعہ پر پی سی سی جنگلات روی کیسر، چیئرمین ایس پی سی بی بی سدھارتا کمار ، ڈائریکٹر سوشل فارسٹری اشونی گپتا کے علاوہ متعلقہ محکموں کے کئی دیگر اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔لال سنگھ نے کہا کہ پنچایتی سطح پر آبی ذخائرکے حوالے سے بیداری پیدا کرنے کے لئے ایک جامع مہم چلائی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ آبی ذخائر کو تحفظ دینے کے لئے ہرسو صفائی ستھرائی ممکن ہوسکے گی۔انہوں نے پی ایچ ای افسروں پر زور دیا ہے کہ وہ بسوہلی کے لوگوں کو پینے کا صاف پانی مہیا کرانے میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ بسوہلی قصبے میں کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کے لئے ایک کروڑ روپے مختص رکھے گئے ہیں۔انہوںنے کہا کہ بسوہلی میں بجلی کی صورتحال میں بہتری لانے کے لئے وہاں ایک سولر پاور پلانٹ قائم کرنے کے لئے 7500کنال اراضی کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں سے 200میگاواٹ سولر بجلی تیار کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سٹیٹ پولیوشن کنٹرول بورڈ نے بسوہلی میں ایس پی سی بی کا دفتر تعمیر کرنے کے لئے 3.5کروڑ روپے کا ایک پروجیکٹ رپورٹ تیار کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ رنجیت ساگر جھیل میں ماحولیات دوست سیاحتی بنیادی ڈھانچہ قائم کرنے کے لئے بھی کوششیں کی جارہی ہیں تاکہ اس سے ریاست کا ایک اہم سیاحتی مرکز بنایا جاسکے ۔اس موقعہ پر ایک رنگارنگ ثقافتی پروگرام بھی پیش کیا گیا ۔بعد میں لال سنگھ نے بسوہلی میں آر ایم ایس اے کے تحت تعمیر کئے جارہے 100بستروں پر مشتمل گرلز ہوسٹل کا بھی سنگ بنیاد رکھا۔
وزیر اعظم پیکیج کے تحت کشمیری مائیگرنٹوں کی بھرتی
جاوید میر کی متعلقہ حکام کو عمل میں تیز ی لانے کی ہدایت
جموں/ریاست میں بے روزگار مائیگرنٹ نوجوانوں کو روزگار کے مواقع دلانے کی غرض سے ریلیف اور باز آباد کاری کے وزیر جاوید مصطفی میر نے جموں میں ایک میٹنگ کی صدارت کی جس میں انہوں نے پی ایم پیکیج کے تحت 3000کشمیری مائیگرنٹوں کی تعیناتی کا جائزہ لیا ۔اس موقعہ پر وزیر کو بتایا گیا کہ اس وقت مختلف محکموں میں 3000 اسامیاں خالی ہیں جن میں سے 500 اُن کشمیری پنڈتوں کے لئے مخصوص رکھی گئی ہے جنہوں نے اپنی اصلی رہائش سے ہجرت نہیں کی ہے جبکہ باقی ماندہ 2500اسامیوں کو بھرتی ایجنسیوں کو ریفر کیا گیا ہے تاکہ مشن موڑ پر انہیں پُر کیا جاسکے ۔جاوید مصطفی میر نے کہاکہ حکومت کشمیری پنڈتوں کی باعزت وادی واپسی کو یقینی بنانے کی وعدہ بند ہے ۔انہوں نے کہا کہ بھرتی عمل میں تیز ی لائی جانی چاہیئے۔چیئرمین جے کے ایس ایس آر بی نے میٹنگ میںجانکاری دی کہ یہ بھرتی عمل جون مہینے تک مکمل کیا جائے گا۔وزیر نے ریلیف کمشنر کو ہدایت دی کہ وہ فاسٹ ٹریک موڑ پر درجہ چہارم کی اسامیاں پُر کریں کیونکہ موجودہ حکومت مائیگرنٹوں تک فوائد پہنچانے کی پُر عزم ہے ۔وزیر نے کشمیر صوبے میں مائیگرنٹ ملازمین کے لئے اقامتی سہولیات قائم کرنے کے لئے حصول اراضی کے عمل کا بھی جائز ہ لیا۔پرنسپل سیکرٹری داخلہ آر کے گوئیل ، ڈویژنل کمشنر کشمیر بصیر خان، چیئرمین جے کے ایس ایس آر بی سمرن دیپ سنگھ ، لأ سیکرٹری عبدالمجیدبٹ ، ریلیف کمشنر ایم ایل رینہ اورمتعلقہ محکمہ کے کئی اعلیٰ افسران بھی اس موقعہ پر موجود تھے۔
شرائین بورڈنرسری کی وسعت
گورنر نے کام کا جائزہ لیا
جموں/گورنر این این ووہرا جو ماتا ویشنوی دیوی شرائین بورڈ کے چیئر مین بھی ہیں نے راج بھون میں ایک میٹنگ دوران شرائین بورڈ نرسری کو وسعت دینے کی تجویز پر غور کیا ۔یہ نئی نرسری کٹرہ میں موجودہ نرسری کے ساتھ میں معرض وجود میں لائی جائے گی۔سی ای او شرائین بورڈ امنگ نرولہ ، ایڈیشنل سی ای او ڈاکٹر ایم کے کمار نے میٹنگ میں شرکت کی۔سی ای او نے گورنر کو بتایا کہ مجوزہ نرسری 2.1ایکڑ اراضی پر تعمیر کی جائے گی جس کا مقصد شرائین بورڈ کے جنگلات کو مزید سرسبز کرنا اور اس میں نئی جان ڈالنی ہے ۔گورنر نے سی ای او کو ہدایت دی کہ وہ موجودہ برس کے آخیر تک وہ اس پروجیکٹ کو مکمل کریں۔
سمبلی والاومشری والامیں نئے پلوں کی تعمیرکامنصوبہ
نعیم اخترکی انجینئروں کو ڈی پی آرتیارکرنے کی ہدایت
جموں/تعمیرات عامہ کے وزیر نعیم اختر نے انجینئروں کو ہدایت دی کہ وہ سمبلی والا اور مشری والا میں دو پلوں کی تعمیر کے سلسلے میں ڈی پی آر تیار کریں۔تاکہ رنبیر نہر کے اُس پار رہنے والے لوگوں کو سہولیت حاصل ہو۔وزیر موصوف نے یہ ہدایات رائے پور ۔ دومانہ کے دورے کے دوران جاری کیں۔ان کے ہمراہ صحت و طبی تعلیم کے وزیر بالی بھگت بھی تھے۔وزیرنے کہاکہ ان پلوں کا کام اس برس مکمل کیا جائے گا اور ان کی تکمیل کی بدولت درجنوں دیہات مستفید ہوں گے ۔انہوںنے مزید کہا کہ حکومت نے ریاست میں کلہم ترقی کے سلسلے میں کئی اہم اقدامات کئے ہیں جن میں دیہی اور دور دراز علاقوں کو سڑک رابطے فراہم کرنا بھی شامل ہے۔مختلف دیہات سے تعلق رکھنے والے لوگ وزراء سے ملاقی ہوئے اور انہیں اپنے درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ نعیم اختر نے لوگوں کو یقین دلایاکہ ان پلوں کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد ان مسائل پر غور کیا جائے گا۔اس موقعہ پر ایک عوامی اجتماعی سے خطاب کرتے ہوئے بالی بھگت نے کہا کہ حلقہ انتخاب رائے پور ۔ دومانہ میں رہنے والے لوگوں کی طرز زندگی کو بہتر بنانے کے سلسلے میں کئی ترقیاتی اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔
بین الاقوامی یوم خواتین آج
گورنر نے نیک تمنائوں کا اظہار کیا
جموں/گورنر این این ووہرا نے عالمی سطح پر 8؍ مارچ بین الاقوامی یوم خواتین کے سلسلے میں اپنی نیک تمنائوں اور خواہشات کا اظہار کیا ہے۔گورنر نے اپنے پیغام میںکہا ہے کہ اس برس یوم خواتین کا موضوع ’’ ٹائم اِز نو: رولر اینڈ اربن ایکٹوسٹس ٹرانسفارمنگ وومنز لائیوز ‘‘ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوے کہا ہے کہ ریاست کی پوری آبادی کو چاہیئے کہ وہ خواتین کو تحفظ دینے اور ان کے خلاف تشدد نابرابر ی کے خاتمے کے لئے کام کریں۔گورنرنے کہا کہ ریاستی ومرکزی حکومتیں خواتین کی بہبودی اور اُن کی صحت ، تعلیم اور انہیں بااختیار بنانے کے سلسلے میں کئی سکیمیں جاری کی ہیںلیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ان سکیموں پرموثر ڈھنگ سے عمل درآمد کیا جائے۔
’ دی انڈین اکنامیٹرک سوسائٹی ‘
گورنر کے ہاتھوں54ویں سالانہ کانفرنس کا افتتاح
جموں/گورنر این وین ووہرا نے ماتا ویشنوی دیوی یونیورسٹی ککریال میں دی انڈین اکنامیٹرک سوسائٹی کے موضوع پر 54ویں سالانہ کانفرنس کا افتتاح کیا۔خزانہ کے وزیر ڈاکٹر حسیب اے درابو ، چیئرمین اکنامک ایڈوائزری کونسل۔ پی ایم اور ممبر نیتی آیوگ ڈاکٹر ببک ڈبرائے ، پریذیڈنٹ ٹی آئی ای ایس پروفیسر پی سی اے آنت ،وائس چانسلر ایس ایم وی ڈی یو پروفیسر سنجیو جین نے افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔مندوبین کا خیر مقد م کرتے ہوئے پی آئی ای ایس کا شکر یہ ادا کیا کہ انہوںنے ماتا ویشنوی دیوی یونیور سٹی کو اس اہم کانفرنس کو انعقاد کرنے کا موقعہ دیا۔گورنر نے کہا کہ اعلیٰ تعلیمی اداروں کو چاہئے کہ وہ ریاست کے لوگوں کے درپیش مسائل سے نمٹنے میں اپنا رول ادا کریں ۔انہوںنے سکالروں اور ماہرین تعلیم پر زور دیا کہ وہ ریاست کی آبادی کے مشکلات کو پہچاننے اور ان کے حل کرنے میں مدد دیں۔خزانہ کے وزیر ڈاکٹر درابو نے اس موقعہ پر ڈیٹا کیلکشن کو بہتر طریقے پر یقینی بنانے کی اہمیت پر روشنی ڈالی ۔انہوں نے سکالروں سے اپیل کی کہ وہ اپنے تحقیقی پروجیکٹوں پر کام کریں تاکہ ریاست کے مختلف سیکٹروں پر جاری کام سے متعلق مسائل کا حل نکالا جاسکے۔
قیصر لون کی صدارت میں ڈی آر ایس سی میٹنگ منعقد
جموں/جموں وکشمیر قانون ساز کونسل کی ڈیپارٹمنٹ ریلیٹیڈ سٹیڈنگ کمیٹی کی ایک میٹنگ یہاں ایم ایل سی قیصر جمشید لون کی صدارت میں منعقد ہوئی اور ٹرانسپورٹ و امداد باہمی کے محکموں کی کارکرگی کا جائزہ لیا گیا۔میٹنگ میں ان محکموں کی کارکردگی پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت دی گئی کہ وہ محکمہ کی کارکردگی میں بہتری لائے ۔ارکان قانون سازیہ محمد خورشید عالم ، جی ایل رینہ اور مظفر احمد پرے نے میٹنگ میں شرکت کی۔سیکرٹری ٹرانسپورٹ ڈیپارٹمنٹ ایم راجو ، ٹرانسپورٹ کمشنر سواگت بسواس ، منیجنگ ایس آر ٹی سی میر افروز نے اپنے اپنے محکموں کی کارکردگی کی تفاصیل کمیٹی کے سامنے رکھیں۔سپیشل سیکرٹر ی کونسل محمد اشرف وانی ، ڈائریکٹر سٹیٹ موٹر گراجز ذاکر چودھری، ایڈیشنل ٹرانسپورٹ کمشنر مہندر سنگھ ، آر ٹی اوز و دیگر سینئر افسران ا س موقعہ پر موجود تھے۔
حکومت ملازمین کی بہبودی کے لئے وعدہ بند: ذوالفقار
جموں/خوراک ، شہری رسدات و امور صارفین اور قبائلی امور کے وزیر ذوالفقار علی نے محکمہ خوراک کے ملازمین کی بہبودی سے متعلق کئی معاملات کا جائزہ ایک افسروں اور شراکت داروں کی میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے لیا۔میٹنگ میں محکمہ خوراک کی تنظیم نو ، اسسٹنٹ ڈائریکٹروں کے دفاتر کی بحالی ، فٹ بال کھلاڑیوں کی باقاعدگی ،کنٹریکچول ڈرائیوروں کی باضابطہ تعیناتی ودیگر معاملات پر غور و خوض کیا گیا۔وزیر نے انتظامی محکمہ کو ہدایت دی کہ وہ محکمہ میں رہبر خوراک سکیم کے تحت فیئر پرائس دکانوں کے ڈیلروں کو بھرتی کرنے کے سلسلے میں ایک تجویز تیار کریں۔وزیر نے متعلقین کو ہدایت دی کہ وہ 73انچارج تحصیل سپلائی افسروں کو ٹی ایس اوز کی اسامیوں پر مستقلی کے احکامات جاری کریں۔کمشنر سیکرٹری محکمہ خوراک ، ڈائریکٹر محکمہ خوراک کشمیر، ڈائریکٹر محکمہ خوراک جموں ،ایڈیشنل سیکرٹری فائنانشل ایڈوائزری کے علاوہ محکمہ کے ملازمین نے میٹنگ میں شرکت کی۔