کشمیری نوجوانوں کی نسل کشی قابل مذمت : فریڈم موئومنٹ
جموں//جموں کشمیرفریڈم موومنٹ کے چیرمین محمدشریف سرتاج نے1931ء کے شہداکو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر قوم نے ہمیشہ ہی ظلم کے خلاف آواز بلند کی ہے۔اور بے شمار جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے ان تما م شہداء،کوخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے انہوں کہاابھی تک کشمیری قوم نے سات لاکھ جانوں کانذرانہ پیش کیا ہے اوریہ سلسلہ جاری ہے۔جس طرح سرکاری سطح پرکشمیری نوجوانوں کی نسل کشُی کاسلسلہ چلایا جارہااس کی مثال کسی بھی مہذب معاشرے میں نہیں ملتی ہے۔یہاںپر انسانی حقوق کے قوانین کی دھجیاں اُڑائی جارہی ہیں۔انہوں نے وادی کشمیر میںجاری نسل کشی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مہذب سماج میں اس طرح کے قتل عام کا کوئی جواز نہیں ہے۔محمدشریف سرتاج نے کہاانہوں نے کہا مودی کی سنگھ پالیسی یہ ہے 2019ء کے انتخابات کے لئے کشمیر قوم کا قتل عام کرکے فرقہ پرست طاقتوں خوش کیا جائے جس پر وہ اس وقت عمل پیرا ہیں۔ہماری بیٹوں تک کو نہیں بخشا جا رہا ہے۔مودی سرکار کی قومی تحقیقاتی ایجنسی NIAکے ہاتھوں دختران ملت کی صدرسیدہ آسیہ اندرابی اور ان کی دو سینئر ساتھی فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نصرین کو گرفتار کرکے دہلی منتقل کرنے کی بزدلانہ کارروائی کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مودی سرکار کی انتظامیہ کی طرف سے عملائی گئی ایسی انتقام گیر پالیسیوں کو ریاستی عوام کے غیرت اور حمیت کو للکارنے کے مترادف قرار دیا۔انہوں نے کہامودی سرکار جس طرح این آئی اے کااستعمال کرکے کشمیری لیڈر شپ کو حراساں کررہی ہے۔اس سے ریاست میں کسی بھی صورت میں امن نہیں آسکتا ہے۔اس وقت ریاست کی جوانتہائی بدترین حالت ہے یہ مودی سرکار کی غلط کشمیر پالیسی کا ہی نتیجہ ہے۔ مودی سرکار کی کشمیر کے حالات سدھارنے کی خاطر اپنی فرقہ پرستانہ سوچ میں تبدیلی لانی ہوگی اور سمجھنا ہوگا کہ تمام مسائل کا حل قتل وغارت گری کے بجائے کشمیریوں کو رائے شماری دینے میں مضمر ہے۔جس کا کشمیرقوم کے ساتھ ہندستانی قیادت نے واعدا کیا ہے۔اوراقوامتحدہ کی قراردایں اس ضمن میں موجودبھی ہیں۔ اگر یہ مسئلہ حل نہ کیا گیا تو خطہ میں عالمی جنگ کی صورتحال برقر رہے گی ۔اور یہ جنگ کڑروں افر اد کی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔جس سے کئی نسلیں اور فصلیں تباہ وبرباد ہو جائیں گی۔لہذاہندستانی قیادت کو فرقہ پرستی کا جنون چھوڑ کر مسئلہ کشمیر کی طرف فوری توجہ دینی چاہے۔اور مسئلہ جموںکشمیر ایساحل تلاش کریں جو تمام خطوں کی عوام کوقابلِ قبول ہو۔
آشا ورکروں کا وفد ہریانہ کے دورہ پر
عظمیٰ نیوز
جموں//ریاست کے آشا ورکروں کا ایک وفد ان دنوں ہریانہ کے دورہ پر ہے جہاں انہیں ہریانہ کے چار اضلاع کورو کشیتر، انبالہ، کرنال اور پنچکولہ کے مختلف طبی مراکز کی سیر کرواکر وہاں کے کام کاج کے بارے میں آگاہ کیا گیا ۔ اس وفد میں صادق خان نیشنل ٹرینر آشا، عبدالرشید ریشی سٹیٹ ٹرینر آشا،سعید عمران بخاری پروجیکٹ آفیسر آشا اور ڈاکٹر سمیت شرما وغیرہ شامل ہیں۔ پریس کے لئے جاری ایک ریلیز کے مطابق وہاں کے افسران نے آشاہ ورکران کے ساتھ ایک سیشن کر کے ان کے سوالات کے جواب دئیے ۔ریاست کے آشا ورکر، فیسلیٹیٹر، بلاک آشا کارڈی نیٹر، ڈسٹرکٹ کارڈی نیٹر، ڈسٹرکٹ پروگرام پر مشتمل90ملازمین کایہ وفد 8جولائی 2018کو جموں سے ہریانہ کے لئے روانہ ہوا تھا۔ جہاں انہیں ولیج ہیلتھ، نیوٹڑیشن ڈے ،ولیج ہیلتھ سینی ٹیشن اینڈ نیوٹریشن کمیٹی، گھروں میں تولیدگی، گرام سبھا، پنچایتی راج اداروںاور دیگر معاملات کے بارے میں جانکاری دی جا رہی ہے ۔
پروفیسر گرجا دھر کا انتقال، گورنر مغموم
جموں// معروف ماہر امراض خواتین اور جی ایم سی سرینگر کی سابقہ پرنسپل پروفیسر گرجا دھرگزشتہ روز انتقال کر گئیں ۔انہوں نے جموں وکشمیر پبلک سروس کمیشن کی چئیرپرسن کی حیثیت سے بھی اپنے فرائض انجام دیئے۔ آنجہانی نے لوگوں تک معیاری طبی خدمات پہنچانے کے علاوہ تعلیم اور ہُنر مندی کو فروغ دینے میں بھی کلیدی رول ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پروفیسر گرجا دھر نے سماج کے پچھڑے طبقے کی بہبودی کے لئے خاصا کام کیا ہے۔گورنر این این ووہرا اور اُن کی اہلیہ نے ان کے انتقال پر دُکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔ گرجا دھر کے ساتھ اپنی وابستگی کو یاد کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ وہ اور اُن کی اہلیہ پروفیسر دھر کو ایک لمبے عرصے سے جانتے تھے۔ ایک پیغام میں گورنر اوراُن کی اہلیہ نے آنجہانی کی آتما کی شانتی کے لئے دُعا کی۔
بی جے پی حکومت تشکیل میں سنجیدہ نہیں : رویندر رینا
اگر چاہتے تو 48گھنٹوں میں سرکار بنا لی ہوتی
عظمیٰ نیوز
جموں//بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی صدر نے کہا کہ اگر ریاست میں نئی حکومت قائم کرنے میں سنجیدہ ہو تے تو 48گھنٹوںکے اندر ہی ایسا کرتے ،پی ڈی پی کو توڑنے کی افواہوں کو سختی کے ساتھ مسترد کرتے ہوئے مزار شہداء پر پی ڈی پی صدر کے بیان کو بوکھلاہٹ سے تعبیر کیا ۔ مزار شہداء پر پی ڈی پی صدر کے بیان کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی صدر رویندھر رائنا نے کہا کہ پی ڈی پی صدر جب اقتدار میں تھی تب ملک کے گن گاتی تھی ،اقتدار سے علیحدہ ہو کر اب بھارت مخالف بیانات دینے اور عسکریت پسندوں کے گن گانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑ رہی ہے ۔ بی جے پی صدر نے سابق وزیر اعلیٰ کے بیان کو ملک کی سلامتی اور خود مختیاری کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ کو چاہیے کہ وہ اپنے بیان کا خود محاسبہ کریں ۔ انہوںنے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارتی پی ڈی پی کو توڑنے کی کوئی کوشش نہیں کرتی ،مرکز نے ہمیشہ ریاست میں جوڑنے کی کارروائیاں انجام دی ہیں توڑنے کی نہیں ۔اگر بھارتیہ جنتا پارٹی ریاست میں نئی حکومت بنانے میں سنجیدہ ہو تی تو 48گھنٹوں کے اندر اندر نئی حکومت کا قیام عمل میں لایا ہو تا ۔ بی جے پی کے ریاستی صدر نے کہا کہ ریاست میں گونر راج شروع ہونے کے بعد سنگبازی کے واقعات میں نہایت کمی آگئی ہے اور علیحدگی پسند بھی خاموش ہو تے جا رہے ہیں ۔ پی ڈی پی کی جانب سے 20ممبران کی حمایت سے نئی حکومت بنانے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے رویندر رینا نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی فی الحال ریاست میں کسی بھی حکومت کے قیام میں حق میں نہیں ہے ۔محبوبہ مفتی کی جانب سے دئیے گئے بیان کو بوکھلاہٹ کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا بیان ایک لاکھ لوگوں کے زخموں پر نمک پاشی ہے ۔
محبوبہ مفتی کا بیان بوکھلاہٹ کا غماز : بی جے پی
جموں//پی ڈی پی صدر کو عسکریت پسندوں اور علیحدگی پسندوں کی ترجمان قرار دیتے ہوئے اقلیتی امور کے مرکزی وزیر نے کہا کہ اپنے دورِ اقتدار میں ریاست کی سابق وزیر اعلیٰ نے ہمیشہ علیحدگی پسندوں اور عسکریت پسندوں کے گن گائے ،ا ن کے ساتھ مستقبل میں حکومت سازی کا قیام عمل میں لانا نئے صلاح الدین اور یاسین ملک پیدا کرنے کے مترادف۔ سرینگر میں پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی کی صدر اور ریاست کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی جانب سے دئیے گئے بیان پر اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مختارعباس نقوی نے شدید ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے پی ڈی پی صدر کو عسکریت پسندوں اور مزاحمتی قیادت کی ترجمان قرار دیتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ نے اپنے تین سالہ دورِ اقتدار میں جہاں کئی بھی ریاست کے حوالے سے بیان دیا اس میں عسکریت پسندوں اور علیحدگی پسندوں کو حمایت دینے کی جھلک محسوس ہو تی تھی ۔ اقلیتی امور کے مرکزی وزیر نے کہا کہ ریاست میں گورنر راج نافذ کرنے کی ذمہ دار پی ڈی پی ہے جس نے ریاست کے حالات کو بدسے بدتر بنا دیا ۔ انہوںنے کہا کہ مرکزی حکومت نے ہمیشہ ریاست میں امن قائم کرنے ،عسکریت کو کچلنے ،عام لوگوں کو راحت پہنچا نے ،ریاست کے تینوں خطوں میں یکساں ترقی اور تعمیراتی جال بچھانے کی کوشش کی تاہم پی ڈی پی نے ہمیشہ روڑے اٹکائے جس کی وجہ سے مخلوط حکومت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو کام کرنا مشکل ہو رہا تھا ۔ اقلیتی امور کے مرکزی وزیر نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ریاست میں امن ،ترقی ،خوشحالی کی متمنی ہے نہ کہ ریاست کے لوگوں کو مشکلات میں مبتلا کرنے کی کوششوںکو مضبوط بنا رہی ہے ۔انہوںنے کہا کہ عسکریت کو کچلنے سے ہی ریاست میں امن قائم ہو گا اور لوگوں کو راحت مل پائے گی ۔