محکمہ موسمیات کی سیلابی ریلوں، لینڈ سلائیڈنگ اور پتھروں کے گرنے کی وارننگ
خالد گل
سرینگر / /تقریباً تین روز تک موسم صاف رہنے کے بعد منگل کے روز جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں ایک بار پھر بارشوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ شام کے وقت کئی اضلاع میں بارش ہوئی، جبکہ محکمہ موسمیات نے 4اگست تک مزید بارشوں کی پیش گوئی کرتے ہوئے اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کے تودے گرنے، پہاڑوں سے پتھر کھسکنے اور چٹانیں گرنے کے خدشے کے پیش نظر الرٹ جاری کیا ہے۔شمالی کشمیر کے اضلاع کپواڑہ، بانڈی پورہ، بارہمولہ اور گاندربل میں ہلکی سے درمیانی درجے کی بارش ریکارڈ کی گئی، جبکہ جنوبی کشمیر کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ وقفے وقفے سے بارش ہوئی۔جموں خطے کے راجوری، ریاسی، رام بن، ڈوڈہ اور کشتواڑ اضلاع میں بھی موسلا دھار بارش کی اطلاعات موصول ہوئیں۔شام تک جموں و کشمیر کے بیشتر علاقوں میں بادل چھا گئے اور چند روز سے جاری دھوپ کا سلسلہ ختم ہو گیا۔شام کے وقت ضلع بانڈی پورہ کے ناگمرگ علاقے میں بادل پھٹنے کا واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں نشیبی علاقوں کے کئی دیہات میں اچانک سیلاب آ گیا اور مقامی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا۔پانی کے تیز ریلے کے ساتھ مٹی اور ملبہ بھی نشیبی علاقوں میں داخل ہو گیا، جس سے رہائشی مکانات، زرعی اراضی اور مقامی بنیادی ڈھانچے کو خطرہ لاحق ہو گیا۔مقامی رہائشیوں کے مطابق پانی کی سطح اچانک بلند ہو گئی، جس کے باعث ندی نالوں کے کنارے رہنے والے متعدد خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔حکام نے بتایا کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔بارش کے ساتھ چلنے والی تیز ہواؤں کے باعث متعدد درخت اور شاخیں جڑ سے اکھڑ گئیں، جس سے ضلع کے بعض علاقوں میں ٹریفک کی روانی اور بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔
محکمہ موسمیات کے سرینگر مرکز نے پیش گوئی کی ہے کہ 4 اگست تک جموں و کشمیر میں موسم غیر مستحکم رہے گا اور مختلف مقامات پر وقفے وقفے سے بارش اور گرج چمک کا امکان ہے۔محکمہ کے مطابق کشمیر میں عمومی طور پر ہلکی سے درمیانی بارش متوقع ہے، جبکہ جموں ڈویژن کے بعض علاقوں میں، خصوصاً 30 اور 31جولائی کے دوران، موسلا دھار بارش ہو سکتی ہے۔محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر مختار احمد نے کہا، ’’فی الحال پورے جموں و کشمیر میں کسی بڑے پیمانے پر موسمی سرگرمی کی پیش گوئی نہیں ہے اور زیادہ تر بارش مقامی نوعیت کی ہوگی‘‘۔انہوں نے بتایا کہ ادھم پور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں شدید سے انتہائی شدید بارش کا امکان ہے، جبکہ 30 جولائی کی رات بارش کی شدت اپنے عروج پر پہنچ سکتی ہے۔محکمہ موسمیات نے عوام، سیاحوں، مسافروں اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ندی نالوں، سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے والے علاقوں سے دور رہیں اور انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ تمام احتیاطی ہدایات پر عمل کریں۔تازہ موسمی پیش گوئی کے بعد گزشتہ ہفتے کی مسلسل بارشوں سے پیدا ہونے والی صورتحال کے خدشات ایک بار پھر بڑھ گئے ہیں، کیونکہ اس دوران مختلف اضلاع میں اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، مٹی کے تودے گرنے اور پہاڑوں سے پتھر گرنے کے متعدد واقعات پیش آئے تھے۔ان واقعات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اضلاع راجوری اور پونچھ تھے، جہاں اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 28افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ مکانات، سڑکیں، پل، دیگر بنیادی ڈھانچہ اور کھڑی فصلیں بھی شدید نقصان کا شکار ہوئیں۔کشمیر میں دریائے جہلم اور متعدد ندی نالوں میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث سیلابی الرٹ جاری کیا گیا تھا، جبکہ کئی اضلاع میں اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے سڑکیں، پل، آبپاشی کا نظام اور زرعی زمینیں بھی متاثر ہوئی تھیں۔اگرچہ موسم بہتر ہونے کے بعد پانی کی سطح کم ہو گئی تھی، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اگر ایک بار پھر شدید بارش ہوئی تو حساس علاقوں میں معمولاتِ زندگی دوبارہ متاثر ہو سکتے ہیں۔دوسری جانب، زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 30ڈگری سیلسیس یا اس سے اوپر رہنے کے باوجود وادی کشمیر میں حبس برقرار رہا۔سرینگر میں زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 31.5ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جبکہ کپواڑہ میں 31.6، قاضی گنڈ اور کوکرناگ میں 30.5، 30.5، پہلگام میں 27.9اور گلمرگ میں 21.7ڈگری سیلسیس درج کیا گیا۔جموں خطے میں جموں شہر کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 34ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جبکہ بھدرواہ میں 30.5، بنی ہال میں 29.6، کٹرا ہ میں 29.5اور بٹوت میں 26.6ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا۔