زہرہ النسا
سرینگر// ہر بارش کے ساتھ ستمبر 2014 کے تباہ کن سیلاب کی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں۔ یہ صورت حال اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ سیلاب سے نمٹنے کے حوالے سے وادی کی تیاری پر آج بھی سوالات برقرار ہیں۔ اربوں روپے خرچ ہونے اور مختلف منصوبے مکمل ہونے کے باوجود عوام کا اعتماد بحال نہیں ہو سکا۔وزیراعظم کے ترقیاتی پیکیج (PMDP) کے تحت مرکز نے 12,083.90 کروڑ روپے کے سیلاب سے تحفظ کے منصوبے کی منظوری دی تھی۔ پہلے مرحلے کے لیے 1,399.29 کروڑ روپے فوری اقدامات پر خرچ کیے گئے۔ اس کے علاوہ عالمی بینک کے تعاون سے جہلم و توی فلڈ ریکوری پروجیکٹ کے تحت 250 ملین امریکی ڈالر کا قرض فراہم کیا گیا تاکہ سیلاب سے تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کی بحالی، آفات سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ اور فلڈ مینجمنٹ نظام کو جدید بنایا جا سکے۔آبپاشی و فلڈ کنٹرول محکمہ کی اسمبلی میں پیش کردہ معلومات کے مطابق، 2014 کے بعد بڑے پیمانے پر ڈریجنگ کے نتیجے میں دریائے جہلم کی پانی برداشت کرنے کی صلاحیت 31,800 کیوسک سے بڑھ کر 41,800 کیوسک ہو گئی، جبکہ فلڈ اسپِل چینل کی گنجائش 4,000 کیوسک سے بڑھ کر 8,700 کیوسک تک پہنچ گئی۔ پی ایم ڈی پی کے پہلے مرحلے میں دریائے جہلم سے 4.27 لاکھ مکعب میٹر مٹی اور گاد نکالی گئی۔تاہم آر ٹی آئی کے ذریعے حاصل شدہ معلومات سے معلوم ہوا ہے کہ 2014 کے سیلاب کے دوران سنگم میں پانی کا بہاؤ تقریباً 1,15,000 کیوسک تک پہنچ گیا تھا، جو اس وقت دریائے جہلم کی تقریباً 35,000 کیوسک گنجائش سے کہیں زیادہ تھا۔دستاویزات کے مطابق مارچ 2020 کے بعد دریائے جہلم یا فلڈ اسپِل چینل میں کوئی ڈریجنگ نہیں کی گئی۔ اسی طرح جامع فلڈ مینجمنٹ پلان (CFMP) کا صرف 80 فیصد کام مکمل ہو سکا ہے۔
ڈریجنگ کے لیے مقرر کمپنی ریچ ڈریجرز کو 16 لاکھ مکعب میٹر گاد نکالنے کا ہدف دیا گیا تھا، مگر اس نے صرف 8.23 لاکھ مکعب میٹر گاد نکالی، جو مقررہ ہدف کا نصف سے کچھ زیادہ ہے۔ مارچ 2018 میں معاہدہ ختم ہونے کے بعد نہ کوئی نیا معاہدہ کیا گیا اور نہ ہی دوبارہ ٹینڈر جاری کیے گئے۔عالمی بینک کی تازہ ترین عمل درآمد رپورٹ میں بھی جہلم و توی فلڈ ریکوری پروجیکٹ کی مجموعی کارکردگی کو صرف معتدل حد تک اطمینان بخش قرار دیا گیا ہے، جبکہ منصوبے کے مجموعی خطرے کو نمایاں بتایا گیا ہے۔ قرض کی تقریباً تین چوتھائی رقم جاری ہو چکی ہے، لیکن منصوبے کی تکمیل کی مدت کئی مرتبہ بڑھائی جا چکی ہے اور اب نئی آخری تاریخ اگست 2026 مقرر ہے۔دریں اثنا، سنٹرل واٹر اینڈ پاور ریسرچ اسٹیشن کی ایک فلڈ روٹنگ اسٹڈی میں خبردار کیا گیا ہے کہ صرف دریائے جہلم کی گنجائش بڑھانے سے سیلابی پانی زیادہ تیزی سے سری نگر کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی تھی کہ اندھا دھند ڈریجنگ کے بجائے سائنسی ماڈلنگ کی بنیاد پر دریا کے مخصوص حصوں کو چوڑا کیا جائے اور فلڈ اسپِل چینل کو مزید وسعت دی جائے، تاہم ان سفارشات کو سرکاری حکمت عملی میں شامل نہیں کیا گیا۔اسمبلی میں رکن اسمبلی علی محمد ڈار کے سوال کے جواب میں حکومت نے بتایا کہ پلوامہ کے کنڈیزال مقام پر ہنگامی صورتحال میں حفاظتی بند کو جان بوجھ کر توڑنے کے لیے باقاعدہ اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر نافذ کیا جا چکا ہے۔ اگرچہ یہ 2014 کے مقابلے میں زیادہ منظم ہنگامی منصوبہ بندی کی نشاندہی کرتا ہے، لیکن یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ 12 برس اور ہزاروں کروڑ روپے خرچ ہونے کے باوجود کشمیر کی بنیادی ہنگامی حکمت عملی آج بھی ایک علاقے کو جان بوجھ کر زیرِ آب لا کر دوسرے علاقے کو بچانے پر مشتمل ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سیلاب سے نمٹنے کی تیاری کا اندازہ صرف مضبوط کیے گئے پشتوں یا نکالی گئی گاد کی مقدار سے نہیں لگایا جا سکتا، بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ آیا آبی ذخائر اور دلدلی علاقوں کا تحفظ کیا گیا، سیلابی میدانوں کو تجاوزات سے پاک رکھا گیا، نکاسی آب کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا گیا اور سائنسی سفارشات پر عمل درآمد ہوا یا نہیں۔ شہری منصوبہ بندی کو بھی آبی حقائق سے ہم آہنگ بنانا ناگزیر ہے۔اگرچہ کاغذی طور پر موسمی پیش گوئی کا نظام بہتر ہوا ہے، مختلف محکموں کے درمیان رابطہ مضبوط ہوا ہے اور اہم بنیادی ڈھانچے میں نمایاں بہتری آئی ہے، لیکن حقیقی کامیابی اس وقت سمجھی جائے گی جب شدید بارش کی ہر پیش گوئی عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنا بند کر دے۔