بزنس رولزکا مسودہ ایل جی کے پاس،کچھ انتظار کے بعد مرکز کو بھیجیں گے:وزیر اعلیٰ
سرینگر// وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اتوار کو کہا ہے کہ ریاستی درجہ بحالی کا فیصلہ دلّی میں ہونا ہے۔انہوںنے کہا کہ بزنس رولز کا مسودہ لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہے اور ہفتہ دس انتظار کرنے کے بعد یہ مسود ہ مرکز کو بھیجاجائے گا۔ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی پر دہلی کے جنتر منتر پر اپنے متنازعہ “کشمیر کا تو بنتا ہے” ریمارکس پر حملہ تیز کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ انہیں ان تبصروں کے لیے معافی مانگنی چاہیے جو جموں و کشمیر میں طاقت کے مبینہ غلط استعمال اور گرفتاریوں کا جواز پیش کرتے ہیں۔
ریاستی درجہ بحالی
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ’’ریاستی درجہ بحالی کا فیصلہ دلّی میں ہونا ہے ۔یہ فیصلہ وزیراعظم اور وزیر داخلہ کو کرنا ہے۔اس لئے ہم نے احتجاج بھی دلّی میں ہی کیا ۔اگر یہ فیصلہ قائد حزب اختلاف کو کرنا ہوتا تو ہم ان کے گھر کے باہر احتجاج کرتے ‘‘۔انہوںنے مزید کہا کہ جس دن ریاستی درجہ بحال ہوگا،اُنہیں پتہ بھی نہیں چلے گا اور وہ بھی ہماری طرح اخبار یا ٹی وی کے ذریعے ہی اگلے روز سنیں گے کیونکہ یہ فیصلہ اُن سے پوچھ کر نہیں کیاجائے گا۔وزیراعلیٰ کا مزید کہناتھا کہ ’’قائد حزب اختلاف دن میں دس بار بیانات دیتے ہیں اور میرے پاس اتنی فرصت نہیں ہے کہ میں ان کے ہر بیان کا جواب دوں‘‘۔
بزنس رولز
عمر عبداللہ نے کہا کہ موجودہ حکومت کے پاس بزنس رولز ہیںلیکن یہ وہ بزنس رولزنہیں ہیں جو انہیں چاہئیں ۔انکاکہناتھا’’ہم نے ایک بزنس رولز کا پراپوزل مرکزی حکومت کو بھیج دیاتھا۔انہوںنے اُس میں کچھ تبدیلیاں مانگی تھیں۔ہم نے وہ تبدیلیاں بھی کیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’اب فائل واپس مرکزی حکومت کو بھیجنے سے قبل ہم نے سوچا تھا کہ اچھا ہوگا کہ ہم کچھ لوگوں سے پہلے مشاورت کرلیں ۔ہم نے غیر رسمی طور پر اس کی ایک کاپی لوک بھون بھی بھیجی تھی لیکن بدقسمتی سے لوک بھون سے اس کا جواب نہیں آیا۔اب ہم ہفتہ دس دن اور انتظار کرتے ہیں ۔اگر اس دوران بھی جواب نہیں آیا تو ہم بزنس رولزکا حتمی مسودہ مرکزی حکومت کو بھیج دیں گے‘‘۔
محبوبہ معافی مانگے
عمرعبداللہ نے کہا کہ محبوبہ مفتی کے ریمارکس نے یہ تجویز کرتے ہوئے ایک خطرناک پیغام بھیجا کہ جموں و کشمیر میں ملی ٹینسی کی وجہ سے لوگوں کے خلاف غیر معمولی اقدامات قابل قبول ہیں۔انہوںنے پوچھا’’اس نے وہاں جو کچھ کہا،طاقت کے غلط استعمال، گرفتاریوں اور ان سب چیزوں کو یہ کہہ کر جواز فراہم کرنا کہ چونکہ کشمیر میں ملی ٹینسی ہے، یہ جائز ہے۔ یہ کس بنیاد پر جائز ہے؟‘‘ ۔بیان کے پس پردہ منطق پر سوال اٹھاتے ہوئے، انہوں نے کہا’’کیا ملی ٹینسی کا مطلب ہے کہ یہاں قانون کا اطلاق نہیں ہونا چاہیے؟ کیا ملی ٹینسی کا مطلب ہے کہ بچوں کو انصاف نہیں ملنا چاہیے؟ کیا ملی ٹینسی کا مطلب ہے کہ لوگوں کے پاسپورٹ روک لیے جائیں؟ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اس کا کیا جواز ہے؟‘‘۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ محبوبہ مفتی کو تنقید کا سامنا کرنے کے بعد اپنی غلطی کو تسلیم کرنا چاہیے تھا۔انہوں نے کہا’’اس سے اس کا قد کم نہیں ہوتا اگر وہ محض اعتراف کر لیتی کہ اس نے اس لمحے کی گرمی میں بات کی تھی اور معافی مانگ لے‘‘ ۔انہوں نے پارٹی پر اپنے ایک قانون ساز کے ذریعے یہ دعوی کرتے ہوئے تنازعہ کو بڑھانے کا الزام لگایا کہ وائرل ویڈیو AI سے تیار کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ پورا قومی میڈیا وہاں موجود تھا، ایک سے زیادہ ریکارڈنگ موجود ہے، آپ کو کم از کم یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ آپ نے جو کہا وہ غلط تھا۔عمرعبداللہ نے ریمارکس کو جموں و کشمیر کے وسیع تر سیاسی ماحول سے بھی جوڑتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے بیانات جمہوری اختلاف کو نقصان پہنچاتے ہیں۔انکاکہناتھا’’جب ایک سابق وزیر اعلیٰ کہے کہ طاقت کے ذریعے احتجاج کو دبانا جائز ہے تو پھر کشمیریوں میں سے کون اپنے حقوق مانگنے کے لیے باہر آئے گا؟‘‘۔انہوں نے کہا’’اگر کل ہم ریاست کے لیے احتجاج کرتے ہیں تو لوگ ہچکچاتے ہیں کیونکہ وہ یقین کریں گے کہ جبر کی کھلی اجازت ہے‘‘۔انکاکہناتھا’’اگر ہم محبوبہ مفتی کے بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کررہے ہیں تو وہ تھانوں میں کیس کریں ،اُنہیں کسی نے نہیں روکا ہے۔غلطی ہوگئی تو معافی مانگیں۔غلطی سب سے ہوجاتی ہے ،ہم کوئی فرشتے نہیں کہ ہم سے غلطیاں نہ ہوںاور پی ڈی پی سے تو حد سے زیادہ غلطیاں ہوئی ہیں،لیکن غلطی پر معافی مانگیں تو معاملہ وہیں پر ختم ہوجاتا ہے ۔جب اس کو چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے تو بات بگڑتی ہے‘‘ ۔وزیراعلیٰ نے مزید کہا’’پہلے تو کل کہتے تھے کہ یہ اے آئی ویڈیو ہے،اب جب اے آئی والا چلا نہیں تو اب ہمیں اس کیلئے قصوروار ٹھہرایاجارہا ہے‘‘۔ان کا کہناتھا’’ہم نے محبوبہ جی کو دہلی نہیں بھیجا ۔جب ہم نے انہیں دہلی لانے کی کوشش تو وہ آئی نہیں۔اگر آئی ہوتیں تو شاید اُس سے یہ غلطی نہیں ہوتی لیکن وہ کاکروچوں کے ساتھ گئی اور وہاں انہوںنے کاکروچوں کی بات کی بات کی بہ نسبت کشمیریوں کے اور یہ اس کا نتیجہ ہے۔اگر محبوبہ مفتی خود نہیں تو وحید پرہ ہی ان کی طرف سے معافی مانگیں تو اچھا ہوگا‘‘۔
گرفتاریاں
ہزاروں مظاہرین کی حالیہ گرفتاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے، عمرعبداللہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حد سے زیادہ زبردستی اقدامات ملی ٹینسی سے نمٹنے کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گے۔انہوں نے کہا’’ہم اس طرح ملی ٹینسی کو ختم نہیں کر سکتے، ملی ٹینسی کو حقیقی معنوں میں ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ عوام کو اپنے ساتھ رکھا جائے، عوامی حمایت کے بغیر، ہم حتمی کامیابی حاصل نہیں کر سکتے‘‘ ۔یہ استدلال کرتے ہوئے کہ بڑے پیمانے پر نظربندیوں سے عوامی ناراضگی بڑھ جاتی ہے، انہوں نے کہا کہ اگر 3,000 افراد کو گرفتار کیا جاتا ہے، تو کم از کم 15,000 لوگ اپنے خاندانوں کا خیال رکھنے پر خود کو الگ تھلگ محسوس کریں گے۔انہوں نے پوچھا’’اگر ہم گرفتاریاں جاری رکھیں گے، بلڈوزر کا استعمال کریں گے اور نوجوانوں کو ہراساں کریں گے تو لوگ ہمارے ساتھ نہیں کھڑے ہوں گے،۔ اگر ہم اتنے لوگوں کو الگ کر دیں گے تو ہم ملی ٹینسی کے خلاف جنگ میں کیسے کامیاب ہوں گے؟‘‘۔
وند ے ماترم
وزیراعلیٰ نے کہا کہ ’’وندے ماترم کو قومی ترانہ کی جگہ دی گئی ہے۔اُسی چیز کو وہ قانون کے تحت لارہے ہیں،لائیں پارلیمنٹ میں ۔بل ہے ،اس پر بحث ہوگی ،اگر پاس ہوگی تو لاگو ہوگی‘‘ ۔