یو این آئی
نئی دہلی//مرکزی کابینہ نے غیر منظم شعبے کے کارکنوں کے لیے اٹل پنشن یوجنا (اے پی وائی) کو 2030-31 تک جاری رکھنے اور آگہی پیدا کرنے اور ترقیاتی سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے گیپ فنڈنگ میں توسیع کی منظوری دے دی ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں کابینہ نے بدھ کے روز یہاں منعقدہ میٹنگ میں اس تجویز کو منظوری دی۔حکومت نے بیان جاری کرکے بتایا کہ کابینہ نے اٹل پنشن یوجنا (اے پی وائی) کو 2030-31 تک جاری رکھنے کے ساتھ اس سے متعلق تشہیری اور ترقیاتی سرگرمیوں اور گیپ فنڈنگ سپورٹ میں توسیع کی منظوری دی ہے۔ یہ اسکیم 2030-31 تک سرکاری تعاون کے ساتھ جاری رہے گی، اور اس میں غیر منظم کارکنوں تک آگاہی پہنچانے کے لیے تشہیری اور ترقیاتی سرگرمیاں شامل ہوں گی۔اٹل پنشن یوجنا کے تحت، حکومت کم آمدنی والے اور غیر منظم شعبے کے لاکھوں کارکنوں کے لیے بڑھاپے کی آمدنی کے تحفظ کو یقینی بناتی ہے اور مالی شمولیت کو بہتر کرکے اور سب کے لیے پائیدار سماجی تحفظ فراہم کر کے ترقی یافتہ ہندوستان 2047 کے وژن کو مضبوط کرتی ہے۔واضح رہے کہ یہ اسکیم 9 مئی 2015 کو شروع کی گئی تھی جس کا مقصد غیر منظم شعبے کے کارکنوں کو بڑھاپے کی آمدنی کا تحفظ فراہم کرنا ہے اور یہ اسکیم 60 سال کی عمر سے کم از کم 1000 سے 5000 روپے ماہانہ پنشن کی ضمانت دیتی ہے۔ 19 جنوری تک، اس اسکیم میں 8.66 کروڑ سے زیادہ شہریوں کا اندراج ہو چکا ہے، جس سے یہ اسکیم ملک کے جامع سماجی تحفظ کے ڈھانچے کا سنگ بنیاد بن گئی ہے۔کابینہ نے اسمال انڈسٹریز ڈیولپمنٹ بینک آف انڈیا (ایس آئی ڈی بی آئی) کو5 ہزار کروڑ روپے کی اکویٹی سپورٹ فراہم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
محکمہ مالیاتی خدمات (ڈی ایف ایس) کی جانب سے ایس آئی ڈی بی آئی کو 5000 کروڑ روپے کا ایکویٹی سرمایہ تین اقساط میں فراہم کیا جائے گا۔ مالی سال 26-2025 میں 3000 کروڑ روپے، 31 مارچ 2025 تک بک ویلیو پر فی شیئر 568.65 روپے فراہم کیے جائیں گے، جبکہ مالی سال 27-2026 اور مالی سال 28-2027 میں ایک ایک ہزار کروڑ روپے متعلقہ سابقہ مالی سال کے لیے 31 مارچ تک کی بک ویلیو پر فراہم کیے جائیں گے۔پانچ ہزار کروڑ روپے کے ایکویٹی سرمایہ کی فراہمی کے بعد مالی امداد حاصل کرنے والے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی تعداد مالی سال 2025 کے اختتام پر 76.26 لاکھ سے بڑھ کر مالی سال 2028 کے اختتام تک 102 لاکھ ہونے کی توقع ہے (یعنی تقریباً 25.74 لاکھ نئے ایم ایس ایم ای کا اضافہ ہوگا)۔ وزارت برائے ایم ایس ایم ای کی آفیشل ویب سائٹ پر دستیاب تازہ ترین ڈیٹا (بمطابق 30 ستمبر 2025) کے مطابق، 6.90 کروڑ ایم ایس ایم ای کے ذریعے 30.16 کروڑ روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں (یعنی فی ایم ایس ایم ای اوسطاً 4.37 افراد کو روزگار ملا ہے)۔ اس اوسط کو مدنظر رکھتے ہوئے، مالی سال 28-2027 کے اختتام تک 25.74 لاکھ نئے ایم ایس ایم ای کے متوقع اضافے سے 1.12 کروڑ نئے روزگار کے مواقع پیدا ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔